ماہِ رمضان کے روزوں کا فدیہ : احکام و مسائل

Updated: May 02, 2022, 12:36 PM IST | Muhammad Hashim Azmi Misbahi | Mumbai

خالق کائنات کا احسان عظیم اور بڑا کرم ہے کہ اُس نے ہم پر ماہِ رَمضانُ المبارک کے روزے فرض کرکے ہمارے لئے سامانِ تقویٰ فراہم کیا۔

We have been provided with the means of piety by assuming the fast of the expert of Ramadan..Picture:INN
ماہِ رَمضانُ المبارک کے روزے فرض کرکے ہمارے لئے سامانِ تقویٰ فراہم کیاگیا ہے۔ تصویر: آئی این این

خالق کائنات کا احسان عظیم اور بڑا کرم ہے کہ اُس نے ہم پر ماہِ رَمضانُ المبارک کے روزے فرض کرکے ہمارے لئے سامانِ تقویٰ فراہم کیا۔ توحیدو رِسالت کا اِقرارکرنے اور تمام ضروریاتِ دین پر ایمان لانے کے بعد جس طرح ہر مسلمان پر نماز فرض قراردی گئی ہے اسی طرح رمضان شریف کے روزے بھی ہر مسلمان مرد وعورت عاقل وبالغ پر فرض ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی عذر شرعی کی بنیاد پر روزہ رکھنے سے عاجز و قاصر ہو تو اس کے لئے عذر کے زوال کے ساتھ روزے کی قضا واجب ہوگی نہ کہ کفارہ (فدیہ)۔
  روزہ کے بجائے اس کا فدیہ ادا کرنے کا حکم صرف شیخِ فانی کیلئے ہے یا اس کے لئے جو شیخ فانی کے حکم میں ہو کسی مریض کیلئے ہرگز نہیں ہے۔
شیخ فانی کی تعریف :
  شیخِ فانی وہ شخص ہے جو بڑھاپے کے سبب اتنا کمزور ہو چکا ہو کہ حقیقتاً اس کے اندر روزہ رکھنے کی طاقت و صلاحیت نہ ہو،نہ سردی میں نہ گرمی میں، نہ لگاتار نہ متفرق طور پر اور نہ ہی آئندہ زمانے میں روزہ رکھنے کی طاقت کی امید ہو۔
(۱) نقایہ میں مرقوم ہے:’’ بوڑھا شخص جو کہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو ، وہ روزہ نہیں رکھے گا ۔‘‘
(٢) شرح نقایہ میں مرقوم ہے:’’ شیخِ فانی کو فانی اس لئے کہتے ہیں کہ وہ فناء کے بہت قریب ہو تا ہے یا اس لئے کہ اس کی قوت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔‘‘ (فتح باب العنایہ بشرح النقایہ ، کتاب الصوم ، فصل فیما یفسد الصوم و فیما لا یفسدہ ، ج۱، ص ۵۸۲)
 کسی بیماری میں مبتلا ہوجانا روزہ چھوڑنے کا عذر نہیں۔ بہت سے شوگر اور گردے کے مرض والے بھی روزہ رکھتے ہیں ہاں مرض اتنا شدید ہو کہ روزہ رکھنا اس کیلئے ضرر کا باعث ہو تو تاحصولِ صحت روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے اور اس کے بدلے اگر مسکین کو کھانا دے تو مستحب ہےتاہم یہ کھانا اس کے روزے کا بدلہ نہیں ہوگا بلکہ صحت پر ان روزوں کی قضا لازم ہوگی ہاں اگر اسی مرض کی حالت میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا اوراس بڑھاپے کی وجہ سے فی الحال اور آئندہ روزہ رکھنے کی استطاعت نہ رہے تو ایسا شخص شیخِ فانی ہے، وہ  اب اس صورت میں قضا شدہ روزوں کا فدیہ ادا کرے۔
 چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی فتاویٰ رضویہ شریف میں رقمطراز ہیں:’’بعض جاہلوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کیلئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو ایسا ہر گز نہیں ،فدیہ صرف شیخِ فانی کیلئے رکھا گیا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقتاً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو ،نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمرجتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اُس کیلئے فدیہ کا حکم ہے اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو اور ایسا مریض نہیں جس کے مرض کو روزہ مضر ہو ،اس پر خود روزہ رکھنا فرض ہے اگرچہ تکلیف ہو ،بھوک پیاس گرمی خشکی کی تکلیف تو گویا لازمِ روزہ ہے اور اسی حکمت کیلئے روزہ کا حکم فرمایا گیا ہے اس کے ڈر سے اگر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہو تو مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَل روزے کا حکم ہی بیکار و معطل ہو جائے ۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ، جلد ۱۰،  صفحہ ۵۲۱)
 ایک جگہ اور تحریر فرماتے ہیں:’’جس جوان یا بوڑھے کو کسی بیماری کے سبب ایسا ضعف ہو کہ روزہ نہیں رکھ سکتا اسے بھی کفارہ (فدیہ) دینے کی اجازت نہیں بلکہ بیماری جانے کا انتظار کرے اگر قبل شفا موت آجائے تو اس وقت کفارہ کی وصیت کر دے غرض یہ ہے کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ جاڑے میں،نہ لگاتار نہ متفرق اور جس عذر کے سبب طاقت نہ ہو اس عذر کے جانے کی امید نہ ہو جیسے وہ بوڑھا کہ بڑھاپے نے اُسے ایسا ضعیف کردیا کہ روزے متفرق کر کے جاڑے میں بھی نہیں رکھ سکتا تو بڑھاپا تو جانے کی چیز نہیں ایسے شخص کو کفارہ کا حکم ہے۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ ، جلد۱۰ ، صفحہ ۵۴۷)
 ایسے مریض کیلئے فدیہ مستحب ہونے کی صورت بیان کرتے ہوئے آپ ؒ فرماتے ہیں:’’ اگر واقعی کسی ایسے مرض میں مبتلاہے جسے روزہ سے ضرر پہنچتا ہے تو تاحصولِ صحت اُسے روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے اُس کے بدلے اگر مسکین کو کھا نادے تو مستحب ہے  جبکہ اُسے روزہ کا بدلہ نہ سمجھے اور سچے دل سے نیت رکھے کہ جب صحت پائے گا جتنے روزے قضا ہوئے ہیں ادا کرے گا۔‘‘
 رہی بات یہ کہ کوئی شخص رمضا ن المبارک کے روزے نہیں رکھ سکتا تو وہ کیا کرے ؟صاحبِ بہارشریعت صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی ؒ اس کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ : اگر وہ قضا کے روزے گرمیوں میں نہ رکھ سکے توگرمیوں کے بجائے سردیوں میں روزہ رکھے کیونکہ سردیوں کے دن بھی چھوٹے ہوتے ہیں اور موسم بھی ٹھنڈا ہوتا ہے،اس میں ضروری نہیں کہ وہ مسلسل روزے رکھے کہ بعض مریض اس کی طاقت نہیں رکھتے بلکہ چھوڑ چھوڑ کر بھی رکھ سکتا ہے اور جتنے روزے قضا ہوئے ان کی تعداد پوری کرے۔ اور اگر وہ سردیوں میں بھی روزہ نہیں رکھ سکتے تو انتظار کریں گے یہاں تک کہ بڑھاپے میں پہنچ کر ایسی کیفیت ہو جائے کہ روزہ رکھنے کی سکت نہ رہے کہ نہ اب روزہ رکھ سکتا ہے نہ آئندہ روزہ رکھنے کی امید ہو تو اس کیفیت پر پہنچنے والے شخص کو شیخِ فانی کہتے ہیں۔ 
شیخ فانی کا حکم:
  شیخِ فانی کے لئے حکم یہ ہے کہ ایک روزے کے بدلے میں فدیہ دے یعنی دو وقت ایک مسکین کو پیٹ بھر کے کھانا کھلائے یا ایک صدقہ فطر کی مقدار کسی مسکین کو دے۔ صدقہ ٔ فطر کی مقدار دو کلو سے ۸۰؍گرام کم گندم یعنی ایک کلو ۹۲۰؍ گرام یا اس کا آٹا یا اس کی رقم ہے۔لیکن یاد رکھیے کہ اگر فدیہ دینے کے بعد اتنی طاقت آگئی کہ اب روزہ رکھ سکتا ہے تو یہ فدیہ یا صدقہ نفل ہو جائیں گے اور اس کے لئے ان روزوں کی قضا کرنی ہو گی۔ (درمختار،ج۳،ص۴۶۳، ردالمحتار، ج ۳،  بہارِ شریعت،ج۲ )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK