غلط خبریں اور بے لگام باتیں نشر کرنا دھوکہ اور فراڈ ہے

Updated: June 17, 2022, 1:56 PM IST | Justice Hussain bin Abdul Aziz | Mumbai

کتنی ایسی افواہیں ہیں جن کی وجہ سے امت اسلامیہ کا جسم چھلنی ہوا، اور دشمن مسلمانوں کو ضرر رسانی جیسے گھٹیا اہداف پانے میں کامیاب رہے۔اسی لئے شریعتِ اسلامیہ نے معاشرتی تحفظ کو دوام بخشنے کے لئے ہر نقصان دہ و ضرر رساں چیز کے بارے میں واضح تعلیمات دیں اور ان افواہوں اور جھوٹی خبروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لئے قلم و زبان کی حفاظت کا حکم دیا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

میڈیا کی بے لگام پھلتی پھولتی صورت حال ، اور عالمی منظر نامے میں  سماجی اور دیگر تبدیلیوں نے  پوری دنیا کو خطرناک سماجی صورتِ حال سے دوچار کردیا ہے، اور وہ ہے افواہیں پھیلانا،  جن کے ذریعے معاشرے میں انفرادی یا اجتماعی طور پر بغیر کسی ثبوت، دلیل، اور تصدیق کے بے بنیاد خبروں کو عام کیا جاتا ہے، مزید برآں کہ ان افواہوں کو شکوک و شبہات سے بھر پور حالات میں پھیلایا جاتا ہے،انہی افواہوں کی وجہ سے  قوم ، ملک اور معاشروں پر منفی اثرات  خوف، شور و غوغہ، اور بے چینی کی صورت میں رونما ہوتے ہیں۔ افواہوں کے نتائج ہمیشہ برے اور غلط برآمد ہوئے ہیں، یہ کوئی تعجب والی بات نہیں ؛ کیونکہ افواہوں کی بنیاد ہی متعدد گھٹیا مقاصداور اہداف پر ہوتی ہے، جن میں خطرناک  ترین یہ ہے کہ افواہیں اسلام دشمن قوتوں کا مسلمانوں کے دین و دنیا ، امان و اقتصاد،خوشحالی و ترقی، اور حالتِ امن و جنگ کے خلاف انتہائی مؤثر ہتھیار ہے، ان افواہوں کو بالخصوص عصرِ حاضر میں گھٹیا اہداف پانے کے لئے مناسب حالات، اور زرخیز مٹی  دیکھ کر  ہی بویا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ افواہیں دو رُخی ، اور ڈرپوک لوگوں کی طرف سے پھیلائی جاتی ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
 ’’  اگر منافقین ، اور جن کے دلوں میں خرابی ہے اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے تمہیں اٹھا کھڑا کریں گے ، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔ ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی۔‘‘ (الاحزاب:۶۱۔۶۰)
 کتنی ایسی افواہیں ہیں جن کی وجہ سے امت اسلامیہ کا جسم چھلنی ہوا،  اور دشمن مسلمانوں کو ضرر رسانی  جیسے گھٹیا اہداف پانے میں کامیاب رہے۔اسی لئے شریعتِ اسلامیہ نے معاشرتی تحفظ کو دوام بخشنے کے لئے ہر نقصان دہ و ضرر رساں چیز کے بارے میں واضح تعلیمات دیں،کہ ان افواہوں اور جھوٹی خبروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لئے قلم و زبان کی حفاظت کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا گیا: ’’ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو، یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی سے باز پرس ہوگی۔‘‘ (الاسراء:۳۶) کتاب وسنت نے جھوٹ کی تمام اقسام کو سختی کیساتھ ممنوع قرار دیا  ہے، مثلاً: خبر میں جھوٹ کے اندیشہ کے باوجود آگے پھیلانا، یا اندازوں اور تخمینوں  کو بنیاد بنا کر نشر کرنا ، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہمیشہ سچے لوگوں کیساتھ رہو۔‘‘ (التوبة:۱۱۹) – اسی طرح آپ ﷺنے فرمایا: ’’یقیناً جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتے ہیں۔‘‘( متفق علیہ)
 جھوٹ کو آگے پھیلانا شرعی طور پر منع ہے، فطرت اور عرفِ عام دونوں کے اعتبار سے ناپسندیدہ بھی ہے، کتنی ہی ایسی خبریں ہیں جو بغیر کسی ثبوت و تصدیق کے پھیلائی گئیں اور ان کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، اسی لئے ہر مسلمان کو تصدیق کے بغیر کوئی بھی خبر نشر کرنے سے یکسر منع کیا گیا ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:  ’’ وہ منہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے۔‘‘ (قٓ : ۱۸) ہمارے نبی مکرم ﷺنے فرمایا: ’’کسی آدمی کے جھوٹے ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو آگے نشر کردے۔‘‘ ( مسلم)  ایک روایت میں ہے :’’انسان کے گناہگار ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے نشر کرے۔‘‘ مسلمانو!اپنے آپ کو ایسی خبروں کے پھیلانے سے بچاؤ  جن  کا کوئی ثبوت نہیں ، جن کے درست ہونے کے کوئی شواہد نہیں؛ کیونکہ یہ بھی جھوٹ بولنے اور نشر کرنے کی ایک قسم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’ مؤمن لوگ جھوٹ  میں شریک نہیں ہوتے۔‘‘ (الفرقان:۷۲) اورایک صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں اکبر الکبائر گناہ کے بارے میں نہ بتلاؤں؟صحابہؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں ! اللہ کے رسولؐ!آپ نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا۔‘‘ آپؐ یہ بات کرتے ہوئے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، پھر آپؐ سیدھے ہوگئے، اور فرمانے لگے:’’جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا بھی اسی میں شامل ہے۔‘‘  آپؐ یہ بات بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے جی میں کہنے لگے کاش آپؐ خاموش ہو جاتے۔ چنانچہ غلط خبریں ، اور بے لگام باتیں نشر کرنا مسلمانوں کیساتھ دھوکہ اور فراڈ میں شامل ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘(متفق علیہ) بے سر وپا خبریں نقل کرنا، اور پھیلانا، صحیح بخاری و مسلم  کی حدیث کے مطابق ہر حالت میں ممنوع قیل وقال میں سے ہیں، جیسے کہ مسلم  نے ابو ہریرہ سے مرفوعاً یہ بھی نقل کیا ہے کہ:’’تمہارے لئے قیل وقال، کثرتِ سوال، اور ضیاعِ اموال منع کیا گیا ہے۔‘‘ اے مسلمانو! اپنی زبان کی حفاظت کرو، اپنے قلم و قرطاس کو بے بنیاد خبریں نشر کرنے سے بچاؤ گے تو سلامتی پاؤ گے، وگرنہ واضح گناہ، اور عظیم بہتان کے مرتکب قرار پاؤ گے، جن کا آپ کو دنیا میں کوئی فائدہ ہوگا، بلکہ دینی تشخص پامال ہوگا۔سنن ابو داؤد میں صحیح سند کیساتھ فرمانِ نبوی ہے: ’’بد ترین تکیہ کلام ”لوگ یہ کہتے ہیں“ ہے۔‘‘  جبکہ صحیح مسلم میں ہے: ’’جو شخص جان بوجھ کر کوئی مشکوک خبر بیان کرے، تو وہ بھی جھوٹے لوگوں میں شامل ہے۔‘‘ ایک مسلمان کا افواہوں اور بے بنیاد خبروں کے بارے میں ٹھوس موقف اور فیصلہ  یہی ہے کہ منہج الٰہی و طریقہ ٔ نبویؐ کو تھام لے، اور وہ اس آیات میں ذکر ہوا ہے ’’اور اگر تم پر دنیا و آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس (تہمت کے) چرچے میں تم پڑ گئے ہو اس پر تمہیں زبردست عذاب پہنچتا، اور جب تم نے یہ (بہتان) سنا تھا تو تم نے (اسی وقت) یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمارے لئے یہ (جائز ہی) نہیں کہ ہم اسے زبان پر لے آئیں (بلکہ تم یہ کہتے کہ اے اللہ!) تو پاک ہے (اس بات سے کہ ایسی عورت کو اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب زوجہ بنا دے)، یہ بہت بڑا بہتان ہے‘‘ (النور:۱۵۔۱۴) 
 اسی طرح  سورہ نساء، آیت نمبر ۸۸؍ میں فرمایا:
 ’’اور جب ان کے پاس کوئی خبر امن یا خوف کی آتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر وہ (بجائے شہرت دینے کے) اسے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی طرف لوٹادیتے تو ضرور ان میں سے وہ لوگ جو (کسی) بات کانتیجہ اخذ کرسکتے ہیں اس (خبر کی حقیقت) کو جان لیتے، اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقیناً چند ایک کے سوا تم (سب) شیطان کی پیروی کرنے لگتے۔‘‘
 مسلمانوں کا  ٹھوس موقف  یہی  ہونا چاہئے کہ وہ تصدیق اور تحقیق  کا منہج اپنائیں، بے بنیااور، غیر موثوق ذرائع سے حاصل ہونے والی خبروں کو پھیلانے میں جلدی مت کریں۔ اس کا ذکر اللہ تعالی نے سورہ حجرات ، آیت نمبر۶؍میں  فرمایا: 
 ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانستہ کسی قوم کا نقصان کر بیٹھو پھر تمہیں اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے۔‘‘
 اور آپ ﷺنے بھی جلد بازی کے بارے میں فرمایا: ’’متانت اللہ کی طرف سے ہے، اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘  حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مسلمان معاملات واضح ہونے تک خاموش رہتا ہے۔“ چنانچہ ایک مسلمان کے لئے یہ بہت بڑی سعادت ہوگی کہ جھوٹی خبریں  اور افواہیں پھیلانے  سے بچ جائے۔ پھر مسلم معاشرے پر یہ بھی ایک ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں  کے متعلق اڑائی جانے والی بے سروپا  خبروں کو مت پھیلائیں، بالخصوص نامور اور مشہور لوگوں کے بارے میں اسکا اہتمام کریں کہ قرآنی آداب اور تعلیمات کو ملحوظ خاطر رکھیں، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
 ’’ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس (بہتان) کو سنا تھا تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنوں کے بارے میں نیک گمان کر لیتے اور (یہ) کہہ دیتے کہ یہ  تو صریح  بہتان ہے۔‘‘ (النور:۱۲)
  اس وقت عموماً ہر شخص کے پاس جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ موبائل وغیرہ موجود ہیں، جن کی  وجہ سے شیطان انسان کو دین ودنیا کے نقصان میں ڈال سکتا ہے، اس لئے مسلمانو! اللہ سے ڈرو، تمہیں اللہ کی اطاعت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اور اس وقت تک انسان گناہوں سے نہیں بچ سکتا جب تک  اس کے اندر تقویٰ نہ پیدا  ہوجائے اور  وہ اس یقین کو پختہ نہ کرلے کہ ایک چوکس نگراں اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ جھوٹ ، فریب اور اس قسم کی نشر و اشاعت کے بارے میں فرمان باری تعالیٰ ہے:
 ’’ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں بے حیائی کی اشاعت ہو ان کے لئے دنیا میں بھی دردناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ اور (اس کے نتائج کو) اللہ ہی بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔‘‘ (النور:۱۹)
 اہل علم کا کہنا ہے کہ: اس آیت میں فحاشی کی تمام اقسام کو کسی بھی طریقے سے نشر کرنے کے بارے میں باقاعدہ ایک ضابطہ بیان کیا گیا ہے، تا کہ ہر آنکھ، کان، اور زبان فحاشی سے محفوظ رہے۔حقیقت میں انہی تعلیمات پر عمل کرنے والا معاشرہ ہی ایسا معاشرہ ہے جس کے بارے میں اللہ چاہتا ہے کہ تمام مسلمان ایسے ہی بن جائیں۔
 افواہیں پھیلانے کا رجحان معاشروں کے لئے ناسور بن چکا ہے، جو کہ  معاشروں کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، بلکہ آجکل بسا اوقات  افواہوں کو سوچی سمجھی سازشوں کے تحت منظم طریقے سے خاص اہداف حاصل کرنے کے لئے  ایسے مواصلاتی ذرائع  کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے جو بھوسے میں آگ اور روشنی و آواز کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی کیساتھ باتوں کو نشر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس لئے تمام مسلم اقوام کو متحد ہوکر  نبی ﷺکی مقرر کردہ تعلیمات کے مطابق افواہوں کا مقابلہ اور جڑ سے ان کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔  مسلم معاشرے اور ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ اللہ سے ڈریں اور خبریں نشر کرتے وقت ان کی تصدیق کے لئے بہترین معیار قائم کریں، میڈیا کے لوگ  پوری امت کے بارے میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہوںگے،  یہی لوگ مسلمانوں کے افکارو نظریات  اور امن و امان کے امین اور ذمہ دار ہیں، جو اس ذمہ داری کو صحیح طریقے سے نہیں نبھائے گا وہ نامراد وناکام ہوگا، فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! تم اللہ اور رسولؐ سے (ان کے حقوق کی ادائیگی میں) خیانت نہ کیا کرو اور نہ آپس کی امانتوں میں خیانت کیا کرو حالانکہ تم (سب حقیقت) جانتے ہو۔‘‘ (الانفال:۲۷) دنیا و آخرت میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان اللہ سے ڈریں، شریعت پر عمل کریں اور اسوۂ حسنہ کو اپنائیں۔  اللہ تعالیٰ میرے اور آپ سب کے لئے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اور ہمیں اس کے معانی و مفاہیم  سے مستفید ہونے کی توفیق دے،  آمین

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK