نعمتوں پر اللہ کا شکر کیجئے تاکہ ان میں اضافہ ہوتا رہے

Updated: September 09, 2022, 2:02 PM IST | Allama Ibtisam Elahi Zaheer | Mumbai

شکرکا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس ہونا چاہئے اور اِس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ جتنی بھی نعمتیں اس کو حاصل ہوئی ہیں فقط فضلِ الٰہی سے حاصل ہوئی ہیں۔ دوسرے یہ کہ ناشکری کے کلمات نہیں نکالنے چاہئیں اور اپنے اعمال کے ذریعے بھی شکر گزاری والا رویہ اختیار کرنا چاہئے

Picture .Picture:INN
قرآنِ کریم کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر انسان نعمتوں کا شکر ادا کرے تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان نعمتوں کو بڑھا دیتے ہیں ۔ تصویر:آئی این این

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کو اَنگنت نعمتوں سے نوازا ہے۔ اگر انسان اپنے داخل اور خارج پہ غور کرے تو ہر سو پھیلی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ادراک کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سانس لینے کے لئے پھیپھڑے، جسم کا فاضل پانی صاف کرنے کے لئے گردے، نظام انہضام کو چلانے کے لئے معدہ، سوچ و فکر کے لئے دماغ، پکڑنے کے لئے ہاتھ اور چلنے کے لئے قدم عطا کئے۔ جب کسی بیماری یا تکلیف کی وجہ سے ان اعضا پر معمولی سا اثر بھی پڑتا ہے تو انسان بے تابی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور اپنے تما م تر وسائل اور توانائیوں کو اپنی صحت پر لگانے پر تیار ہو جاتا ہے اور اس کی ایک ہی تمنا ہوتی ہے کہ اس تکلیف سے کسی طرح نجات حاصل کرلے۔ بہت سے لوگ ان تکالیف سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد دائمی مرض یا کسی اچانک مرض کے نتیجے میں بھی موت کے منہ تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سکون حاصل کرنے کے لئے گھر بار، بیوی بچے اور اعزہ واقارب جیسی نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ انسانوں کے کھانے پینے کے لئے انواع واقسام کے پھلوں، سبزیوں اور پاکیزہ مشروبات کو پیدا کیا اور جانوروں کے حلال گوشت کو بھی انسانوں کی خوراک کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔ انسان اگر اللہ تبارک وتعالیٰ کی ان تمام کی تمام نعمتوں پر غوروخوض کرے تو اس کو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ نعمتیں بغیر جستجو اور لمبی چوڑی کاوش کے حاصل ہوئی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورہ نحل کی آیت نمبر ۵۳؍میں فرماتے ہیں: ’’اور تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے سو وہ اللہ ہی کی جانب سے ہے، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اسی کے آگے گریہ و زاری کرتے ہو۔‘‘ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے لاتعداد نعمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے سورہ ابراہیم کی آیت نمبر۳۴؍میں اس بات کو واضح کیا ہے: ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو (تو) پورا شمار نہ کر سکو گے۔ بیشک انسان بڑا ہی ظالم بڑا ہی ناشکرگزار ہے۔‘‘
 قرآنِ کریم کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر انسان نعمتوں کا شکر ادا کرے تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان نعمتوں کو بڑھا دیتے ہیں اور اگر وہ نعمتوں کی ناشکری کرے تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ انتہائی شدید ہے:’’اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے آگاہ فرمایا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقیناً سخت ہے۔‘‘ (سورہ ابراہیم:۷) ہمیں اس بات پر غوروخوض کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ شکر گزاری اور ناشکری کا صحیح مفہوم کیا ہے۔
 جب ہم کتاب وسنت کا مطالعہ کرنے کے بعد ان امور پر غوروفکرکرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شکر گزاری اور ناشکری کے تین مدارج ہیں۔ شکرکا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس ہونا چاہئے، اسے دل کی گہرائیوں سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے احسانات کا معترف ہونا چاہئے اور اُس کو اِس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ جتنی بھی نعمتیں اس کو حاصل ہوئی ہیں فقط فضلِ الٰہی سے حاصل ہوئی ہیں۔ دوسرے نمبر پر انسان کو اپنی زبان سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے اور ناشکری کے کلمات نہیں نکالنے چاہئیں۔ تیسرے نمبر پر انسان کو اپنے اعمال کے ذریعے بھی شکر گزاری والا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ اسی طرح ناشکری کے بھی تین مدارج ہیں۔ انسان دل میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کرے، زبان سے ناشکری کے الفاظ کہے اور اپنے اعضا وجوارح سے نعمتوں کی ناشکری کرے اور رب العالمین کی تابعداری کا راستہ اختیارکرنے کے بجائے نافرمانی کا راستہ اختیار کرے ۔ جب انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لئے نعمتوں کو بڑھا دیتے ہیں اور اگر انسان ناشکری کے راستے پر چل نکلتا ہے تواس کی نعمتیں زائل ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ نحل میں ایک بستی کا ذکر کیا ہے جس کو داخلی طور پر اطمینان، خارجی طور پر امن اور رزق جیسی عظیم نعمتیں حاصل تھیں جب ان نعمتوں کے باوجود انہوں نے نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی سب نعمتوں کو چھین لیا: ’’اور اللہ نے ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرمائی ہے جو (بڑے) امن اور اطمینان سے (آباد) تھی اس کا رزق اس کے (مکینوں کے) پاس ہر طرف سے بڑی وسعت و فراغت کے ساتھ آتا تھا پھر اس بستی (والوں) نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کے عذاب کا لباس پہنا دیا ان اعمال کے سبب سے جو وہ کرتے تھے۔‘‘ (سورہ النحل: ۱۱۲) اسی طرح سورہ سبا میں سبا کی بستی کو دی جانے والی نعمتوں اور ناشکری کے بعد ان سے نعمتوں کے چھن جانے کا ذکر کیا گیا ہے: ’’درحقیقت (قومِ) سبا کے لئے ان کے وطن ہی میں نشانی موجود تھی۔ (وہ) دو باغ تھے، دائیں طرف اور بائیں طرف۔ (اُن سے ارشاد ہوا:) تم اپنے رب کے رزق سے کھایا کرو اور اس کا شکر بجا لایا کرو۔ (تمہارا) شہر (کتنا) پاکیزہ ہے اور رب بڑا بخشنے والا ہے۔ پھر انہوں نے (طاعت سے) مُنہ پھیر لیا تو ہم نے ان پر زور دار سیلاب بھیج دیا اور ہم نے اُن کے دونوں باغوں کو دو (ایسے) باغوں سے بدل دیا جن میں بدمزہ پھل اور کچھ جھاؤ اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درخت رہ گئے تھے، یہ ہم نے انہیں ان کے کفر و ناشکری کا بدلہ دیا، اور ہم بڑے ناشکرگزار کے سوا (کسی کو ایسی) سزا نہیں دیتے۔‘‘ (سورہ النحل: ۱۵؍تا۱۷) مذکورہ بالا آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب اللہ تبارک وتعالیٰ کسی شخص یا قوم کو کوئی نعمت دیتے ہیں تو انہیں شکرگزاری کے راستے پر چلنا چاہئے۔ انسانوں کو ملنے والی ذہانت، فطانت، علم، سرمایہ، جوانی، قوت، یہ سب اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتیں ہیں اگر انہیں اللہ کے راستے میں استعمال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ان نعمتوں میں بے پایاں اضافہ فرما دیتے ہیں۔ جب ان نعمتوں کی ناشکری کی جائے تو ان نعمتوں کے زائل ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ انتہائی شدید ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی عطا کردہ کسی بھی نعمت کو بہ آسانی انسانوں سے چھین سکتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ملنے والی نعمت کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ان راستوں کو اختیار کرنا چاہئے جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی شامل ہو اور ان تمام چیزوں سے بچنا چاہئے جن سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناراضی وارد ہو۔ اگر اس حوالے سے ہم نے اپنی اصلاح نہ کی تو اللہ نہ کرے ہم اس کی پکڑ اور گرفت کی زدّ میں آ سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK