عالمی ماحولیاتی کانفرنس سے بڑے ممالک کی غیرحاضری کئی اہم سوال قائم کرتی ہے

Updated: November 20, 2021, 2:40 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

گلاسگومیں جاری کانفرنس میں کوئلے کے متعلق ۴۰؍ سے زائد ممالک نے کہا ہے کہ وہ اس کے استعمال میں کمی لائیں گے لیکن آسٹریلیا، ہندوستان، چین اور امریکہ، جہاں سب سے زیادہ کوئلہ استعمال ہوتا ہے، نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں ۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں جاری ماحولیاتی کانفرنس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانا ہے۔ اس کانفرنس کی میزبانی برطانیہ کررہا ہے جس میں دنیا کے ۱۰۰؍ سے زائد ممالک کے لیڈران نے شرکت کی ہے۔ انسانوں کے زیر استعمال کوئلہ، تیل اور گیس جیسے ایندھن کے اخراج سے دنیا گرم ہو رہی ہے۔ کانفرنس میں سربراہان مملکت اور لیڈران ماحولیات کے تحفظ پر تبادلۂ خیال کرکےموسمی تبدیلیوں پر قابو پانے کیلئے اپنے اپنے اہداف طے کریں گے اور پھر معاہدوں پر دستخط کریں گے۔اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال یہ کانفرنس منعقد کی جاتی ہے جس میں دنیا کے بیشتر ممالک کے لیڈران شرکت کرتے ہیں اور اپنے اپنے ملک میں ان گیسوں کے اخراج، خاص طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین، کی حد متعین کرتے ہیں کہ مستقبل میں ان کے ملک سے ایک مخصوص فیصد تک ہی ماحول کو نقصان پہنچانے والی ان گیسوں کا اخراج ہوگا، اور اسے بھی بتدریج کم کیا جائیگا۔ متعدد تحقیقات سے یہ واضح ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے سبب دنیا بیک وقت کئی آفات کا شکار ہے؛گرم لہریں ، سیلاب، جنگل کی آگ، آتش فشانوں کا پھٹنا وغیرہ شدت اختیار کرتے جارہے ہیں ۔ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ گزشتہ دہائی گرم ترین تھی یعنی گلوبل وارمنگ(عالمی حدت) خطرناک صورت اختیار کرتی جارہی ہے، اسلئے حکومتوں نے فوری طور پر ’اجتماعی کارروائی‘ کی ضرورت پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔۱۲؍ نومبر تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں ماحولیات کے متعلق متعدد اہم اعلانات کئے جائیں گے۔ تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ جب ہم سب کو اس دنیا میں رہنا ہے اور ماحول کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے تو بہت سے ممالک اس کانفرنس میں شرکت کیوں نہیں کرتے؟ جو شرکت کرتےہیں ،وہ متعدد معاہدوں پر دستخط کیوں نہیں کرتے؟ اور کچھ ممالک کانفرنس میں شرکت تو کرتے ہیں لیکن وہ کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرتے، ایسا کیوں ہوتا ہے؟ 
 گلاسگو کانفرنس میں اب تک جنگلات کی کٹائی، کوئلہ اور میتھین کے متعلق بحث کی گئی ہے، اور ان پر قابو پانے کیلئے ایک فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ دنیا کے ۱۰۰؍ سے زائد ممالک نے جنگلات کی کٹائی سے نمٹنے کا وعدہ کیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار جذب کر سکتے ہیں ۔ ۲۰۳۰ء تک میتھین کے اخراج کو ۳۰؍ فیصد تک کم کرنے کیلئے ۱۰۰؍ سے زائد ممالک نے اتفاق ظاہر کیا ہے لیکن چین، روس اور ہندوستان جیسے بڑے ممالک نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں ۔ کوئلے کے متعلق ۴۰؍ سے زائد ممالک نے کہا ہے کہ وہ اس کے استعمال میں کمی لائیں گے لیکن آسٹریلیا، ہندوستان، چین اور امریکہ، جہاں سب سے زیادہ کوئلہ استعمال ہوتا ہے، نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں ۔ کانفرنس میں شامل ۴۵۰؍ اداروں نے کہا ہے کہ وہ ’’صاف‘‘ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے اور گلوبل وارمنگ میں کمی لانے کیلئے ۱۳۰؍ ٹریلین ڈالرز (دنیا کا لگ بھگ ۴۰؍ فیصد نجی اثاثہ) کا فنڈدیں گے۔ 
 جس کانفرنس میں دنیا کے ۱۵۰؍ سے زائد ممالک نے شرکت کی ہے اور جہاں اس قسم کے اہم اعلانات کئے جا رہے ہیں ، وہاں چند بڑے ممالک کی غیر موجودگی کئی سوال قائم کرتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس میں گرین ہاؤس گیسوں کا سب سے زیادہ اخراج کرنے والے ۲؍ بڑے ممالک چین اور روس نے شرکت نہیں کی۔ علاوہ ازیں جنوبی افریقہ، ایران، میکسیکو، برازیل، ترکی اور ویٹیکن سٹی کے سربراہان بھی کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے ہیں ۔ ان ممالک کے لیڈران نےمختلف عذر پیش کرکے یا کسی اور وجہ کی بنا پر اس سے کنارہ کشی اختیار کی ہے۔
 ۲۰۱۵ء میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیرس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کی وجہ مضر گیسوں کے اخراج کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہکی صنعتوں کو فروغ دینا تھا۔ اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے انہوں نے ماحولاتی تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ کیا اس کانفرنس میں روس اور چین جیسے بڑے ممالک کے شامل نہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے؟ 
  چینی کمپنیاں دنیا بھر میں اپنی مصنوعات برآمد کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی معیشت مستحکم ہے۔ کھلونوں سے لے کر ٹیکنالوجی تک کئی اہم اور بڑے میدانوں میں چینی کمپنیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں لیکن اتنی ہی تیز رفتاری سے وہ نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا کے ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔ پیرس معاہدے میں چین نے اعلان کیا تھا کہ وہ ۲۰۶۰ء تک کاربن کے اخراج کو صفر تک لے آئے گا لیکن اس مضر گیس کو خارج کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک اب تک چین ہی ہے۔ چین، امریکہ، ہندوستان، روس اور جاپان وہ ۵؍ بڑے ممالک ہیں جہاں سے سب سے زیادہ کاربن خارج ہوتا تھا جس کی اہم وجہ بجلی بنانے کیلئے کوئلے کی ایک بڑی مقدار کو روزانہ جلانا ہے۔ ماحولیات کی یہ کانفرنس بڑی حد تک معیشت سے بھی منسلک ہے۔ اس لئے وہ ممالک جو اپنی صنعتوں کو کسی بھی ’’حد‘‘ تک جاکر فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں ، نے اس میں شرکت نہیں کی ہے، اور اپنے مفاد کیلئے متعدد معاہدوں پر دستخط بھی نہیں کررہے ہیں ۔ لیکن ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے دستخط کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ دستخط کرنے والے ممالک اپنی جانب سے طے کئے گئے ہدف کا ۲۰؍ فیصد حصہ بھی پورا نہیں کرپاتے۔
 ماہر ماحولیات پروفیسر سائمن لیوائس نے اس کانفرنس کے متعلق کہا ہے کہ جنگلات کی کٹائی کو روکنے کا ان ممالک کا فیصلہ خوش آئند ضرور ہے لیکن ۲۰۱۴ء میں دنیا نے اسی قسم کا وعدہ کیا تھا مگر اس ضمن میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا ۔ کانفرنس میں اب تک جو اعلانات کئے گئے ہیں ، ان پر عمل کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے، مثال کے طور پر اس کیلئے مختص کئے گئے فنڈ کو تمام ممالک تک کس طرح پہنچایا جائے گا، اس سے قبل بھی لیڈران نے درج بالا تمام موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کا عزم کیا تھا، لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کس بنیاد پر بھروسہ کیا جائے کہ اس مرتبہ واقعی اس پر عمل کیا جائے گا؟ 
 ہندوستان گرین ہاؤس گیس خارج کرنے والا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ گلاسگو کانفرنس میں اس نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ۲۰۷۰ء تک کاربن کے اخراج کو صفر تک لانے کی پوری کوشش کرے گا۔میتھین کا اخراج قدرتی گیس، تیل اور کوئلے کی نقل وحمل اور اس کی پیداوار، چند زرعی سرگرمیاں اور نامیاتی فضلے کے سبب ہوتاہے۔ اسی طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ، قدرتی گیس، تیل اور کوئلے کے جلنے، طبیعیاتی مادے، درختوں کی کٹائی اور کئی کیمیائی عمل (مثلاًسیمنٹ کی پیداوار) کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں میتھین کا اخراج چاول کی پیداوار کے بعد پیڈی جلانے اور مویشیوں کے بائے پروڈکٹ کے طور پر ہوتاہے۔ عالمی سطح پر ہندوستان کو ایک زرعی ملک کہا جاتا ہے جہاں کی ۶۵؍ فیصد سے زائد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ ان میں سے بیشتر کا ذریعہ ٔمعاش کاشتکاری ہی ہے۔ کئی رپورٹس میں یہ واضح ہوا ہے کہ ملک میں دیہی آبادی میں ابھی مزید اضافہ ہوگا۔ اگر میتھین کے اخراج کی بڑی وجہ زرعی یا اس سے جڑی سرگرمیاں ہیں توکیا ہندوستان کے میتھینمعاہدے پر دستخط نہ کرنے کی وجہ یہی ہے؟ لیکن ملک کے حالات اس کی نفی کرتے ہیں ۔
 کئی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ہندوستان کی معیشت تیزی سےصنعتکاری کی جانب گامزن ہے اور دیہی آبادی شہروں کی جانب بڑھ رہی ہے اس لئے ملک میں ایندھن کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۱۸ء میں ہندوستان نے ۲ء۶۵؍ بلین میٹرک ٹن کاربن کا اخراج کیا تھا۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ ہندوستان میں بجلی بنانے کیلئے کوئلے کی کھپت میں اضافہ ہورہا ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مستقبل میں نہ صرف ہندوستان بلکہ ہر اس ملک سے میتھین اور کاربن کا اخراج زیادہ ہوگا جہاں کی آبادی زیادہ ہے، اور جہاں صنعتکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
 اگر ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنا ہے، موسمی تبدیلیوں کو روکنا ہے اور عالمی حدت میں کمی لانا ہے تو دنیا کے تمام ممالک کو نہایت سنجیدگی سے اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی اور ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ورنہ ہر سال منعقد ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں اسی قسم کے اعلانات ہوتے رہیں گے مگر کوئی بھی ملک اپنی ذمہ داری اپنے ہدف کے مطابق پوری کرنے سے قاصر رہےگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK