تعلیماتِ غوث اعظم میں صبر اوررضا بالقضا کا تصور

Updated: November 12, 2021, 3:09 PM IST | Dr. Mumtaz Ahmad Sadidi

قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی سیدی الشیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے زمانۂ طالب علمی میں بہت کٹھن حالات دیکھے، بہت مشقتیں اٹھائیں، انتہا درجے کی لذتِ فاقہ مستی بھی دیکھی مگر آپ کی ثابت قدمی میں کبھی کوئی لغزش واقع نہ ہوئی اور نہ کبھی حرفِ شکایت زبان پر آیا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی سیدی الشیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے زمانۂ طالب علمی میں بہت کٹھن حالات دیکھے، بہت مشقتیں اٹھائیں، انتہا درجے کی لذتِ فاقہ مستی بھی دیکھی مگر آپ کی ثابت قدمی میں کبھی کوئی لغزش واقع نہ ہوئی اور نہ کبھی حرفِ شکایت زبان پر آیا۔ ظاہری مصائب و مشکلات سے صبرو شکر اور تسلیم و رضا کے پیکر بن کر گزرنے کے بعد آپ اُس مرتبہ و مقام پر فائز ہوئے جہاں کبار اولیاء نے آپؒ کے مبارک قدم کے احترام میں گردنیں خم کردیں۔
آزمائش و ابتلاء کی ناگزیریت
حضرت غوث اعظمؒ نے اپنے ایک خطبہ میں اولیاء کے لئے آزمائش اور ابتلاء کی ناگزیریت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’آزمائش اور ابتلاء خاص طور پر ولایت کے دعویداروں کے لئے لازمی امر ہیں۔ اگر آزمائش اور ابتلاء کا سلسلہ نہ ہوتا تو بہت لوگ ولایت کا دعویٰ کرتے۔ اسی لئے بعض صالحین نے فرمایا ہے:’’ولایت کو آزمائش اور ابتلاء سے مربوط کیا گیا ہے تاکہ تو ولایت کا دعویٰ نہ کرے۔‘‘
حضرت غوث اعظمؒ ایک اور خطبہ میں فرماتے ہیں: ’’بندۂ مومن کو یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے کسی مصلحت کے بغیر کسی تکلیف میں مبتلا نہیں فرماتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آزمائش پر صابر اور ثابت قدم رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بے صبری پر مشتمل کوئی بات نہیں کہتا۔ اُسے اُس کے رب نے تکلیفوں سے بے پروا کردیا ہے۔‘‘
صبر اور رضا بالقضاء کے ثمرات
بندۂ مومن کے آزمائش اور ابتلاء پر صبر اور رضا بالقضا کے ثمرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت غوث اعظمؒ فرماتے ہیں:
’’جب بندۂ مومن کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس مصیبت سے نجات پانے کے لئے پہلے تو خود ہاتھ پائوں مارتا ہے، اگر وہ اس مصیبت سے نجات حاصل نہ کر پائے تو وہ مخلوق سے مدد طلب کرتا ہے، جیسے سلاطین، اعلیٰ مناصب پر فائز شخصیات، اصحابِ احوال اور اطباء وغیرہ۔ اور اگر ان سب کے ذریعے بھی مصیبت نہیں ٹلتی تو وہ اپنے رب کی حمدو ثناء کرتے ہوئے دعا کرتا ہے اور اس کی بارگاہ میں گڑ گڑاتا ہے۔
جب تک وہ اپنی مدد خود کرلیتا ہے، وہ مخلوق کی طرف رجوع نہیں کرتا اور جب تک وہ مخلوق سے مدد پاتا رہتا ہے، وہ خالق کی طرف رجوع نہیں کرتا۔ پھر جب وہ (مخلوق سے مایوس ہوکر) رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور جب وہ خالق کی مدد نہیں پاتا تو وہ رب کے درِ رحمت پر اپنے آپ کو گرادیتا ہے اور امید و رجاء کی کیفیت میں اس کی حمدو ثناء کرتے اور گڑ گڑاتے ہوئے اُس سے مدد مانگتا رہتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اُسے دعا کی قبولیت کے معاملے میں تاخیر سے دو چار فرماتا ہے، یہاں تک کہ آزمائش و مصیبت میں مبتلاء بندے کا جب تمام ظاہری اسباب سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے تو اُس وقت اللہ تعالیٰ اس بندے میں قضاء و قدر کو جاری فرماتا ہے۔ تب بندہ تمام اسباب و علائق سے منقطع ہوجاتا ہے اور اُس کا جسم (موجود ہوتے ہوئے بھی) فنا ہوجاتا ہے اور فقط روح باقی رہ جاتی ہے۔ تب وہ ہر چیز کو فاعلِ حقیقی کا فعل ہی تصور کرتا ہے اور اس طرح وہ یقین اور توحید کے مقام پر فائز ہوجاتا ہے۔اُسے یہ یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا حقیقی فاعل کوئی نہیں۔ اشیاء کو حرکت دینے اور ٹھہرانے والا وہی ہے۔ نیز یہ یقین بھی حاصل ہوجاتا ہے کہ خیرو شر، نفع و ضرر، عطاء و عدمِ عطائی، کشادگی اور بندش، موت و حیات، عزت و ذلت سب اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہے۔ یقین حاصل ہونے کے بعد مصائب سے دو چار بندۂ مومن قضاء و قدر کے ہاتھوں میں اس طرح ہوجاتا ہے جیسے دودھ پیتا بچہ دایا کے ہاتھ میں، یا جیسے کوئی مردہ کسی زندہ کے ہاتھ میں، یا جیسے سوار کے ہاتھ میں سواری کی لگام جو پہلو بدلتا ہے اور سواری کو پھیرتا ہے نیز ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کرتا ہے۔
(سید عبدالقادر جیلانی، فتوح الغیب)
حقیقت ِ صبر
حضرت غوثِ اعظمؒ نے صبر کی حقیقت بیان کرتے ہوئے درج ذیل آیات ذکر فرمائیں:
’’اے ایمان والو! صبر کرو اور ثابت قدمی میں (دشمن سے بھی) زیادہ محنت کرو اور خوب مستعد رہو، اور (ہمیشہ) اللہ کا تقویٰ قائم رکھو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔‘‘ (آل عمران:۲۰۰)
 دوسرے مقام پر فرمایا:
’’اور (اے حبیبِ مکرّم!) صبر کیجیے اور آپ کا صبر کرنا اللہ ہی کے ساتھ ہے۔ ‘‘(النحل:۱۲۷)
 صبر کے حوالے سے قرآنی آیات کے بعد حضرت غوثِ اعظمؒ نے درج ذیل احادیث بھی ذکر کیں جن سے صبر کا تصور مزید نکھر کر سامنے آتا ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’(حقیقی) صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔‘‘ (الحاکم)
 ایک آدمی نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا:’’میرا مال جاتا رہا اور میرا جسم بیمار ہوگیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اُس بندے میں بھلائی نہیں، جس کا نہ تو مال جائے اور نہ اس کا جسم بیمار ہو۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے آزمائش سے دو چار کرتا ہے اور جب اسے آزمائش سے دو چار کرتا ہے تو اسے صبر دیتا ہے۔‘‘
(الاتحاف،، والمغنی عن حمل الاسفار)
 حضور غوث الاعظم فرماتے ہیں کہ یہ روایت بھی صبر کی اصل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’بندۂ مومن کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں (اس کے فضل و کرم سے) ایک مقام ہوتا ہے جس تک وہ بندہ اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ پاتا، تب اللہ تعالیٰ اُسے (اپنی حکمت اور رحمت کے تحت) اُس کے جسم میں کسی مصیبت میں مبتلا فرماتا ہے تو وہ بندہ (مصیبت پر صبر اور رضا بالقضا کے ذریعے) اُس درجے تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘ (رواه ابن حبان فی صحیحه، والحاکم فی المستدرک)
صبر کی اقسام
حضرت غوث اعظمؒ نے کتاب و سنت سے صبر کی فضیلت اور رضا بالقضا کی حکمت بیان کرنے کے بعد صبر کی درج ذیل تین اقسام بیان فرمائی ہیں:
 (۱)اللہ تعالیٰ کے لئے صبر کرنا: یعنی اس کے احکام کی تعمیل کرنا اور منع کئے ہوئے امور سے رکنا۔(۲) اللہ تعالیٰ کی معیت پر صبر کرنا: یعنی اپنے آپ پر سختیوں اور مصائب کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور افعال پر صبر کرنا۔ اور (۳) اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر صبر کرنا: یعنی اللہ تعالیٰ نے رزق کی کشادگی، ضرورتوں کے پورا ہونے، اپنی مدد اور آخرت میں ثواب کے جو وعدے فرمائے ہیں ان پر صبر و استقامت سے یقین رکھنا۔
 اللہ رب العزت کی بارگاہ میں بلند رتبہ لوگوں کے امتحان بھی کٹھن ہوتے ہیں جبکہ معصیت شعار لوگوں پر بھی تکالیف آتی ہیں مگر ہمیں اُن تکالیف کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور عنایات کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اللہ کریم ہمیں صبر کرنے والا دل اور شکر کرنے والی زبان عطا فرمائے۔ آمینn

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK