Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناز اور نفاذ کا فرق

Updated: April 03, 2025, 11:56 AM IST | Mumbai

آج ہمارے ملک میں آبادی کا بڑا طبقہ بے سکونی کی زندگی گزار رہا ہے کیونکہ اسے نہ تو معاشی سطح پر انصاف مل رہا ہے نہ ہی سماجی سطح پر۔ بلاشبہ ہمیں ملک کی جمہوریت پر ناز ہے مگر جمہوریت کا نفاذ؟ ناز اور نفاذ کا یہی فرق ہے جو سب کیلئے انصاف کے ذریعہ حقیقی ترقی کی راہ میں حائل ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

شاہراہیں، شاہراہوں پر بنائے گئے پُل (فلائی اووَر)، کثیر منزلہ عمارتیں، آمد و رفت کے آبی راستے، پہاڑوں میں تعمیر شدہ سڑکیں، خود کار مشینوں کی تنصیب، صنعتی علاقوں کی تشکیل اور ایسے ہی دیگر اقدامات ترقی کہلاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے یہ ترقی نئی بلندیوں کو چھو‘ لے اور چار دانگ عالم میں اس کی ستائش ہو مگر اس سے ملک کے شہریوں کی روزمرہ کی زندگی پر کتنا اثر پڑے گا، مہنگائی سے لڑنے کے قابل ہے یا نہیں، اپنی صحت برقرار رکھنے کی طاقت رکھتا ہے یا نہیں، بچوں کو معیاری تعلیم دلوا سکتا ہے یا اس کی اہلیت نہیں رکھتا، بے روزگاری سے لوہا لینا اس کے بس کا ہے یا نہیں، ان تمام سوالوں کو ہم ترقی کے زاویئے سے نہیں دیکھتے چنانچہ کم ہی لوگ سمجھتے ہیں کہ جب تک عدل و انصاف اور مساوات پر مبنی سماج کی تشکیل نہیں ہوگی، انسانی زندگی قابل ستائش نہیں ہوگی۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننا اور اپنے ہاتھوں سے اپنی پیٹھ ٹھونکنا آسان ہے مگر عالمی نقشے پر ایک ایسا ملک بن کر ابھرنے کیلئے، جس کے شہری امن و سکون کی زندگی گزار رہے ہوں، نہ صرف یہ کہ دور اندیشی درکار ہوگی بلکہ عدل، انصاف اور مساوات پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ 
آج ہمارے ملک میں آبادی کا بڑا طبقہ بے سکونی کی زندگی گزار رہا ہے کیونکہ اسے نہ تو معاشی سطح پر انصاف مل رہا ہے نہ ہی سماجی سطح پر۔ بلاشبہ ہمیں ملک کی جمہوریت پر ناز ہے مگر جمہوریت کا نفاذ؟ ناز اور نفاذ کا یہی فرق ہے جو سب کیلئے انصاف کے ذریعہ حقیقی ترقی کی راہ میں حائل ہے۔ ملک کا ہر شہری ہندوستانی ہے مگر یہی اس کی اکلوتی شناخت نہیں ہے، کچھ دیگر شناختیں بھی ہیں، مثلاً وہ شہری تو ہے مگر ہندو یا مسلم بھی ہے، اعلی ذات یا پسماندہ ذات کا بھی ہے، نہایت پسماندہ ذات کا بھی ہوسکتا ہے، شہر کا اور دیہات کا بھی ہے، امیر اور غریب بھی ہے۔ 
اُصولاً، ہندوستانی ہونے کی شناخت کو اس کی ہر شناخت پر حاوی ہونا چاہئے مگر افسوس کہ کئی معاملات میں دوسری شناختیں اس کی ہندوستانی ہونے کی شناخت پر حاوی ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ایک ہندوستانی کو مسلمان ہونے کے سبب بلڈوزر کارروائی کا ہدف بننا پڑتا ہے تو کبھی کسی دوسرے ہندوستانی کو دلت ہونے کی وجہ سے نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قانون کی نظر میں سب ہندوستانی ہیں، سب ایک ہیں اور سب کے حقوق یکساں ہیں مگر نفاذِ قانون کی سطح پر کسی کیلئے ایک پیمانہ ہے تو کسی کیلئے دوسرا۔ کسی پر پھول برستے ہیں کسی پر پتھر۔ کسی کیلئے کروڑوں کا قرض لے لینا مشکل نہیں ہے، کسی کیلئے چند لاکھ کا لون بھی کارے دارد۔ کروڑوں لینے والا، ڈیفالٹر ہو ئے تو اس کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا، چند لاکھ کا مقروض وقت پر ادا نہ کرے تو بینک کا وصولی عملہ اس کا جینا حرام کردیتا ہے۔ اسی نظام نے شہریوں کو ’’بااثر‘‘ اور ’’بے اثر‘‘ میں بھی تقسیم کررکھا ہے۔ بااثر کی بات فوراً سن لی جاتی ہے، بے اثر چیختا رہے تب بھی اس کی نہیں سنی جاتی۔ 
’’دی اسٹیٹس آف پولیسنگ اِن انڈیا رپورٹ ۲۰۲۵ء‘‘ اس کی گواہ ہے جسکے مطابق، پولیس اس مفروضے کی حامل ہے کہ اگر کوئی شہری مسلم ہے تو اُس میں جرائم کا رجحان ہوگا۔ لوک نیتی، سی ایس ڈی ایس اور لال فیملی فاؤنڈیشن کے ذریعہ کئے گئے اس سروے میں جن ریاستوں کی پولیس میں یہ مفروضہ زیادہ ہے اُن میں راجستھان، دہلی، مہاراشٹر اور گجرات سرفہرست ہیں۔ جب نفاذِ قانون کی سطح پر ایسے مفروضات پائے جاتے ہوں تو مبنی بر انصاف سماج کی تشکیل کیسے ہوگی؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK