پہلے اور اب کی تدریسی خدمات میں نمایاں فرق ہے

Updated: November 09, 2021, 12:36 PM IST | Mumbai

یوم اردو پر اردو مضمون پڑھانے والے شہر و مضافات کے چند اساتذہ سے انقلاب کی خصوصی گفتگو

Students need to increase their taste in reading Urd.Picture:INN
طلبہ میں اردو کتابوں کے مطالعے کا ذوق بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تصویر: آئی این این

یوم ِ اُردوپراُ ردومیڈیم اسکولوںکے اساتذہ سے جہاں اُردو زبان وادب کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی گئی وہیں اسکولوںمیں اُردو زباندانی کا مضمون پڑھانے والے اساتذہ سے ’’تدریسی عمل اب کیسا ہے جب وہ خود پڑھارہے ہیں، اور تب کیساتھا جب وہ خود طالب علم تھے‘‘ کے موضوع پر شہر ومضافات کےچند اساتذہ سے ہونےوالی گفتگو کے اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں: 
 مسجداسٹریٹ پر واقع ہاشمیہ اُردو ہائی اسکول کے پرنسپل محمد رضوان خان نےکہاکہ ’’ اردو زبان مختلف زبانوں کا حسین گلدستہ ہے جس میں فارسی کی علمی ثقافت، عربی کی مشہور بلاغت ، انگریزی کی وجاہت ، مراٹھی کی لاؤنی والی نکہت اور بے شمار شاعروں اور ادیبوں کی ادبی سلاست کے پھول ہیں۔ اردو نے اپنا دامن کسی زبان کیلئے کبھی تنگ نہیں ہونے دیا۔ ہم نے اردو ہی سے سب کچھ سیکھا، مگر آج زمانے نے کچھ ایسی کروٹ بدلی کہ یہ زبان اپنے ہی وطن میں غریب الوطنی کا شکار ہے۔ مجھے آج بھی وہ اشعار یاد ہیں جو ہم نے مختلف مواقع پر اپنے اساتذہ سے سنے تھے۔ آج ہمیں اردو کی اس رنگارنگ تہذیب میں روح پھونکنے کی ضرورت ہے ۔ ‘‘ ویرار ضلع پریشد اُردو اسکول وسئی کے سینئر معلم انصاری نعیم احمد نے کہا کہ ’’ جب میں طالب علم تھا تو اُردو رسم الخط پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔اس وقت جدید تکنیک نہیں تھی ۔ تختہ ٔ سیاہ کا استعمال عام تھا۔ خوش خطی کی کتاب آتی تھی۔ زباندانی کو بہتر بنانے کیلئے ذخیرۂ الفاظ اور روزمرہ کےالفاظ میں اضافہ پر توجہ دی جاتی تھی لیکن آج کی تعلیم جدید ہوگئی ہے۔‘‘انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’پہلے معلم طلبہ پر صدفیصد توجہ دیتاتھا۔ طلبہ کواپنی اولاد سمجھ کر پڑھاتاتھا۔ اس وقت معلم کی تنخواہ کم تھی مگر روزی حلال کرنےکی فکر زیادہ تھی۔ مگر آج کا معلم بچوںکی پڑھائی پر ویسی توجہ نہیں دےرہاہے۔ آج اپنی صلاحیتوں کا استعمال کم، جدید ذرائع پرانحصار زیادہ ہے۔ آج جتنے جدید ذرائع مؤثرہورہے ہیں اتنا ہی مطالعے میں کمی آرہی ہے ۔معلم جتنا مطالعہ کرے گا اتنا اس کے علم میں اضافہ ہوگا۔زبان ہمارے مافی الضمیر کے اظہار کا بہتر ین ذریعہ ہے لیکن ہم کتاب سے دوری اختیار کرکےاس صلاحیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ موبائل کے زیادہ استعمال سے بچوںکی آنکھیں ہی نہیں بلکہ ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہورہی ہے۔میں یہ مشورہ دوںگاکہ مطالعہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ ترغیب دی جائے، یہ بچوں کے حق میں بہتر ہوگا۔‘‘ موہیلی ویلیج بی ایم سی اُردو اسکول نمبر ایککے معلم اکرم خان نےکہاکہ ’’پہلے کے اساتذہ بچوںکو بہت محنت سے پڑھاتےتھے۔ لیکن جدید دور کے ساتھ جدید تبدیلیوں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ نئی نسل کے بچے انتہائی ذہین ہیں۔ وہ جد ید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہیں۔ ایسی صور ت میں اس دور کے اساتذہ جس طرح سے بچوںکو تعلیم دے رہےہیں وہ ضروری ہے۔ پرانے دورمیںہمیں جس طر ح پڑھایاگیاتھا، اب اسی پڑھائی کیلئے جد ید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جارہا ہے۔ بچوںکو ڈرا نے اور مارنے پیٹنے کا دو ر ختم ہوگیاہے ۔ اب طلبہ کو پڑھانےکیلئے کھیل کودکاذریعہ اپنایاجارہاہے۔‘‘  نیشنل اُردد گرلزہائی اسکول باندرہ مشرق کی ہیڈمسٹریس مومن علیمہ عثمان غنی نے کہاکہ ’’ بطور شاگرد اور استاد، تدریسی خدمات میں نمایاں فرق محسوس ہوتا ہے۔۸۰۔۹۰ء کی دہائی کے اساتذہ اپنے آپ میں انجمن ہوا کرتے ہیں۔ انہیں کئی علوم سے رغبت ہوتی تھی۔ ان علوم پر اُن سے سیر حاصل گفتگو کی جاسکتی تھی۔ اساتذہ ہی کو نہیں، طلبہ کو بھی درجنوں اشعار اور نظمیں ازبر ہوتی تھیں۔ مگر آج اس کے برعکس ہے۔ اساتذہ میں مطالعہ کا فقدان ہے ۔زبان پر عبور شاذونادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ‘‘ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK