زبان میں بہت سی خوبیاں بھی ہیں اور عیوب بھی

Updated: August 12, 2022, 1:09 PM IST | Maulana Mohammad Sani Hussaini | Mumbai

ہر خوبی اور عیب کی نشاندہی قرآن شریف اور حدیث پاک میں کی گئی ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم زبان کا استعمال کس طرح کرتے ہیں

Allah Ta`ala has placed many qualities in the language, so it is better that we use it for the Almighty .Picture:INN
اللہ تعالیٰ نے زبان میں بہت سی خوبیاں رکھی ہیں، کیا ہی بہتر ہو کہ ہم اسے امربالمعروف کیلئے استعمال کریں۔ تصویر:آئی این این

اللہ تعالیٰ نے جسم انسانی میں کسی عضو کو بے کار نہیں بنایا، ہر ایک کے سپرد ایک کام رکھا ہے ۔ جس طرح کسی مشین میں کوئی پرزہ بے کار نہیں ہوتا، اس کا کچھ نہ کچھ کام ہوتا ہے، اس کی خرابی سے پوری مشین پر اثر پڑتا ہے اسی طرح جسم انسانی ایک مشین ہے، سر سے لے کر پیر تک ہر عضو اس مشین کا پرزہ ہے اور کارآمدہے، اس کی ذرا سی خرابی سے پورے جسم پر اثر پڑتا ہے، ظاہری طور پر بھی اور باطنی طور پر بھی۔ اس وقت ہم اس کی دینی، باطنی اور روحانی حیثیت کو پیش نظر رکھ کر کچھ عرض کریں گے ، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو صرف کھانے اور من مانی زندگی گزارنے کے لئے پیدا نہیں کیا ہے: ’’اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔‘‘ (الذاریات:۵۶) اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے جسم کے سارے اعضاء سے وہ کام لیں جس میں اللہ کی رضا اور خوشنودی ہو اور ان کاموں سے بچائیں جن کے کرنے سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔ جسم انسانی میں چند اعضاء کو بڑی اہمیت  حاصل ہے ، ان میں آنکھ، کان ، زبان ، دل اور دماغ ممتاز درجہ رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور (اے انسان!) تو اس بات کی پیروی نہ کر جس کا تجھے (صحیح) علم نہیں، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے باز پرس ہوگی۔‘‘ (الاسراء:۳۶ )
زبان بڑے کام کی چیز ہے
 زبان دیکھنے میں ایک مختصر سی چیز ہے لیکن کام کے لحاظ سے ایک بڑی چیز ہے۔ وہ جسم انسانی کا ایک نہایت اہم عنصر ہے۔ مادی لحاظ سے دیکھئے تو دنیا کا لطف بھی اسی سے ہے، کھانے کا انحصار اس پر ہے، زبان کا ذائقہ مشہور ہے، اگر زبان نہیں تو کسی چیز کا مزہ اور کسی کھانے کی لذت معلوم نہیں ہوتی ، کلام کی شیرینی ، الفاظ کی حلاوت،  زبان  زد خاص و عام ہے۔ فلاں شخص بڑا شیریں کلام ہے، فلاں شخص بڑا بدزبان ہے، یہ سب الفاظ عام طور سے بولے جاتے ہیں ۔ اس کا زندگی پر بہت اثر پڑتا ہے، اسی لئے ایمان لانے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خدا کی توحید اور رسالت پر ایمان لائے، یعنی دل سے یقین کرے اور زبان سے اقرار کرے، اقرار باللسان کے بغیر ایمان قبول نہیں ہوتا، اسی سے زبان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ زبان وہ شے ہے جس سے بڑے بڑے فتنے برپاہوجاتے ہیں اور بڑے سے بڑے فتنے کا سدباب بھی ہوجاتا ہے۔ ایک بول سے دوست دشمن بھی بن جاتا ہے اور جانی دشمن دوست بھی ہوجاتا ہے۔ خدا نے اس چھوٹی سی زبان کو بڑی طاقت بخشی ہے، اس لئے اس کا صحیح طور پر استعمال کرنا دینی اور دنیاوی دونوں لحاظ سے ضروری ہے۔ حضور ﷺ  نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ہر صبح کو انسان کے تمام اعضاء زبان کے آگے عاجزی کرتے ہیں، کہتے ہیں: خدا کے لئے ہمارے بارے میں اللہ سے ڈر۔ اگر تو سیدھی ہے تو ہم بھی سیدھے ہیں، اگر تو ٹیڑھی ہے تو ہم بھی ٹیڑھے رہیں گے۔‘‘ (ترمذی) حضرت معاذ ؓ کہتے ہیںکہ ایک مرتبہ میں آپؐ کے ہمراہ تھا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’میں تم کو دین کا سر اور اس کا ستون اور اس کے کوہان کی بلندی بتلاؤں؟‘‘  میں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ!  ارشاد فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’دین کا سر اسلام ہے اس لئے کہ بغیر اسلام کے دین کا وجود نہیں جس طرح بغیر سر کے بدن بے کار  ہے، اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کے کوہان کی بلندی جہادہے۔‘‘ پھر فرمایا : ’’کیا میں تم کو ان کی جڑ نہ بتاؤں؟‘‘ میں نے عرض  کیا : یا رسولؐ اللہ ضرور فرمائیے۔  آپؐ نے  اپنی زبانِ مبارک کو پکڑ کر فرمایا: ’’اس کو روکو۔‘‘ حضرت معاذ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ کیا ہماری گفتگو کا بھی ہم پر مواخذہ ہوگا؟‘‘ فرمایا: ’’معاذ، تعجب ہے تم اتنی بات نہیں سمجھتے۔  لوگوں کو منہ یا ناک کے بل جہنم میں گرانے والی چیز زبان نہیں تو اور کیا ہے۔‘‘ حضو رؐ کے ان پاک ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ زبان اعضائے انسانی میں بڑی قوت و تاثیر  رکھتی ہے اور اس کی ذرا سی لغزش سے دنیا و آخرت میں بڑا وبال ہوتا ہے۔ اس لئے اس کی حفاظت ازحد ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا حکم فرمایا ہے اور اس کا نگراں مقرر فرمایا ہے کہ ایک ایک لفظ محفوظ ہوجائے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’وہ مُنہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے۔‘‘ (سورہ قٓ : ۱۸) ہمارے لئے ضروری ہے کہ جو لفظ زبان سے نکالیں خوب سمجھ کر نکالیں، بات کہیں تو سچی کہیں ورنہ خاموش رہیں کہ خاموش رہنا بہتر ہے۔  حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ہے: ’’ جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ بات کہے تو بہتر کہے ورنہ خاموش رہے۔‘‘  (بخاری و مسلم) ہمارا ایک بڑا فرق یہ ہے کہ بہت سی باتیں ہم بے سوچے سمجھے کہہ جاتے ہیں اور اس کا احساس نہیں ہوتا کہ یہ بات جملہ ہم کو کہاں لے جارہا ہے اور اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا۔ بعض دفعہ ایک مختصر سی بات، کہنے والے کو جنت میں پہنچا دیتی ہے اور بعض دفعہ جہنم کی راہ دکھا دیتی ہے اور کہنے والے کو اپنے اس انجام کی خبر تک نہیں ہوتی۔ حضور ﷺ کا پاک ارشاد ہے: ’’بندہ بعض دفعہ ایسی بات کہہ  جاتا ہے جس سے اللہ کی رضا حاصل ہوجاتی ہے مگر بندے کو اس کی اہمیت نہیں معلوم ہوتی ، اس بات کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس کے درجوں کو بلند کردیتا ہے۔ اور کبھی کوئی بندہ ایسی بات کہہ بیٹھتا ہے کہ جس کے کہنے سے اللہ تعالیٰ کا غصہ  نازل ہوتا ہے ، بندے کو کچھ خبر نہیں ، کوئی کھٹکا نہیں کہ اس کے سبب وہ آگ میں جارہا ہے۔‘‘ (بخاری) جب ایک بت  انسان کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے تو جن لوگوں کو بہت زیادہ بولنے کا مرض ہے ان کا کیا حال  ہوگا۔ اس لئے کہ وہ تو بلاسوچے سمجھے بولے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے بسیار گوئی سے بچنا سب سے زیادہ ضروری ہے، بسیار گوئی بڑے فتنوں اور فسادوں کا دروازہ کھولتی ہے اور اس کا خمیازہ بعض دفعہ دنیا میںبھی  بھگتنا پڑتا ہے اور آخرت میں تو لازمی بھگتنا ہوگا۔ اللہ ہماری حفاظت کرے ۔  سورہ مومنین کی آیت ۳؍ میں انسان کی بنیادی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی گئی کہ وہ  لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ لغو بہت سارے کام ہوسکتے ہیں لیکن ان میں ایک لایعنی کام زبان کا غلط استعمال ہے۔ یعنی انسان کی بنیادی صفات میں سے ایک لایعنی باتوں سے بچنا بھی ہے خواہ زبان کے ذریعے ہو یا ہاتھ کے ذریعے۔ ترمذی کی روایت کے مطابق رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو خاموش رہا اس نے نجات پالی۔ اس کا مطلب ساری زندگی خاموش رہنا نہیں ہے بلکہ جو لایعنی باتیں ہیں، ان سے روکا گیا ہے۔ بے وقوف انسان جب تک خاموش رہتا ہے، اس کی بے وقوفی پر پردہ پڑا رہتا ہے۔ اس کے بالکل برعکس ایک عقل مند انسان خاموش ہوتا ہے تو وہ غور و فکر کررہا ہوتا ہے۔ جب وہ بولتا ہے تو ذکر کررہا ہوتا ہے اور جب دیکھتا ہے تو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ ایک عقل مند اور بے وقوف انسان میں فرق ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس زبان میں بہت سی خوبیاں رکھی ہیں اور بہت سے عیوب بھی، ہر خوبی اور عیب کی نشاندہی قرآن شریف اور حدیث پاک میں کی گئی ہے اور اس سلسلے میں بہت سی ہدایات دی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ لکھنے والے اور پڑھنے والوں کو اپنی مرضیات پر چلائے اور زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK