کچھ لوگ اُردو کی آزاد نظم کو نئی شاعری کہنے لگے ہیں۔ میں ان میں سے نہیں ہوں۔ کچھ لوگ آزاد نظم کے ساتھ موضوع کے لحاظ سے مزدور اور عورت کو ملاکر نئی شاعری سمجھتے ہیں۔
EPAPER
Updated: December 01, 2024, 2:34 PM IST | Meeraji | Mumbai
کچھ لوگ اُردو کی آزاد نظم کو نئی شاعری کہنے لگے ہیں۔ میں ان میں سے نہیں ہوں۔ کچھ لوگ آزاد نظم کے ساتھ موضوع کے لحاظ سے مزدور اور عورت کو ملاکر نئی شاعری سمجھتے ہیں۔
کچھ لوگ اُردو کی آزاد نظم کو نئی شاعری کہنے لگے ہیں۔ میں ان میں سے نہیں ہوں۔ کچھ لوگ آزاد نظم کے ساتھ موضوع کے لحاظ سے مزدور اور عورت کو ملاکر نئی شاعری سمجھتے ہیں۔ گویا زندگی کا سیاسی اقتصادی یا جنسی پہلو اُن کی نظر میں نئی شاعری کا خام مواد ہے۔ میں ان کی بھی نہیں کہتا۔ میرے خیال میں نئی شاعری ہر اس موزوں کلام کو کہا جاسکتا ہے جس میں ہنگامی اثر سے ہٹ کر کسی بات کو محسوس کرنے،سوچنے اور بیان کرنے کا انداز نیا ہو۔ یعنی کوئی شاعر روایتی بندھنوں سے الگ رہ کر احساس جذبے یا خیال کے اظہار میں ا پنی انفرادیت کو نمایاں کرتا ہے تو وہ نیا شاعر ہے ورنہ پرانا۔ اور اس طرح اردو ادب کی تاریخ میں نئی شاعری کا پتہ ہمیں نظیرؔاکبرآبادی سے ملتا ہے۔ نظیرؔ سے پہلے بھی کبھی کبھار کوئی ایسی بے تاب اور بے باک روح دکھائی دے جاتی ہے جس نے کسی نہ کسی حدتک نئے راستوں پر چلنے کی کوشش کی۔ لیکن ماحول پر اپنے اثر کے لحاظ سے اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ چنانچہ ہر طرف دیکھتے ہوئے نظیر ہی کو ہم نئی شاعری کا پہلا نمائندہ سمجھیں گے۔
نظیر کے بعد غالب ایسا سنگ میل ہے جس کی انفرادیت کا اثر اب تک جاری ہے اور آئندہ بھی معلوم نہیں کب تک جاری رہے گا۔ غالب کے بعد حالی یا آزاد اور اسمٰعیل میرٹھی کے نام ایک سانس میں نہیں لینے چاہئیں کیونکہ انہوں نے چند اصولوں کے مدنظر چند وقتی ضروریات کے تقاضے سے شعوری طور پر بعض نئے رجحانات کی طرف رغبت دلائی اور غزل سے ہٹ کر نظم کو اختیارکیا۔ لیکن ان کا یہ قدم کچھ ایسا تھا جیسے تعلیمی اداروں میں گلستان بوستاں کے بجائے اردو کورس ظاہر ہوئے۔ اور غالب کے بعد اگرچہ حالی اورآزاد کی روایات ہی کے سائے میں اس کی ابتدائی نشوونما ہوئی، اقبال ہی ہمیں صحیح معنوں میں ایک نیا شاعر ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک دھندلکے میں چھپا ہوا ہیئت کا سب سے پہلا شعوری تجربہ شرؔر لکھنوی کا ہے جنہوں نے ڈراما کے ذریعے سے آزاد نظم کو رائج کرنے کی ناکام کوشش کی اور اقبال کے پھیلتے ہوئے اثرات کے ساتھ ساتھ مولوی عظمت اللہ،عبدالرحمٰن بجنوری،حفیظ جالندھری،اختر شیرانی،سیماب،ساغر اور جوش ابتدائی کشمکش کے بعد کی ترقی یافتہ صورتیں ہیں اور ان سب کے بعد نوجوان شعراء کا ایک ہجوم ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور اس ہجوم کے پہلو میں نئی صورتیں،نئے موضوع،نئے اندازِ بیان ایک الجھن پیدا کرتے ہیں۔
نئی صورتیں،نئے موضوع،نئے اندازِبیان۔ شاعری میں ان سب کی آمد ایک طرح سے داخلی اور خارجی ضرورت کی پابند ہے۔ ابتدائی انسان کی ضروریات محدود تھیں۔ اس لئے ان کی شاعری بھی محدود راستوں ہی پر چل سکی۔ بلکہ یوں کہئے کہ اس کی نگاہیں اپنی ضروریات کے دائرہ ہی میں شعریت کی تلاش کرسکیں۔ پیٹ بھرنے کے لئے خوراک کی فراہمی اور ڈر۔ فطرت کے مظاہر سے ڈرنا،اپنے ہم جنس دشمنوں سے ڈرنا۔ بس یہی باتیں تھیں جن سے گیت کی بات نکلتی تھی۔ اشتہا اور خوف کے دو متوازی خطوط کا درمیانی فاصلہ ابتدائی انسان کی شاعری ہے۔
جوں جوں ارتقائی منازل طے ہوتی گئیں اور تہذیب و تمدن کی الجھنوں سے واسطہ پڑا انسان کے تخیل کا ستارہ پھیل کر اپنے جلو میں اڑتی ہوئی نورانی دھول سے خیال کے آسمان میں ایک کہکشاں بناتا گیا۔ تہذیب و تمدن کی آمد نے نہ صرف احسا س و جذبات کی ادبی تسکین کی بلکہ اس کے بعد ذہن ہر طرح کے فطری اور غیرفطری راستوں پر گامزن ہونے لگا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سوچنے لگا کہ اب کون سے نقطے کو اپنی منزل بنایا جائے۔
ادب شخصیتوں کا ترجمان ہے اور شخصیتیں زندگی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ آج کل ہماری زندگی ہر مہینے نہیں تو ہر سال ضرور بدلتی جارہی ہے۔ اور یوں نہ صرف اقتصادی اور سماجی حالات ادب پر اثرانداز ہورہے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی ذہنی طور پر خصوصاً مغرب سے آئے ہوئے خیالات جہاں ادب اور آرٹ میں فنکاری کے نئے اسلوب رائج کرنے کا باعث ہوئے ہیں وہاں اخلاقی لحاظ سے بھی روزمرہ کی باتوں کو دیکھنے کا ایک نیا ڈھب آتا جارہا ہے بلکہ آچکا ہے۔
پہلے دور میں ہر بات محدود اور معین تھی۔ اصنافِ سخن محدود تھیں۔ موضوع شعری کا ایک معین دائرہ تھا اور اس کے ساتھ ہی ہر شخص کا ذہنی افق بھی ایک ہی رنگ کا حامل تھا۔ نئے دور میں موضوعات شعری میں وسعت پیدا ہوئی۔ اصنافِ سخن میں بھی نت نئے بت ڈھالے جانے لگے اور ذہنی افق بھی اپنے رنگارنگ جلوؤں سے نگاہوں کو لبھانے لگا۔ گزشتہ پانچ سات سال میں اردو ادب میں سب سے زیادہ توجہ کے لائق جو تحریک چھڑی ہے وہ ترقی پسند ادب کا نظریہ ہے۔ لیکن فیض احمد کے ایک عنوان سے الفاظ مستعار لیتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس خواب کو کثرتِ تعبیر نے پریشاں کردیا ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں اب اصل بات کا پتہ چلے تو کیسے؟ اس تحریک کے اولین علمبرداروں کی پہلی اور بنیادی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے ترقی پسند ادب کو محض اشتراکی جمہوریت کا ہم معنی سمجھا اور یوں اپنی انتہا پسندی کے باعث صرف ایک نئے قسم کے اذیت پرستانہ ادب کے سمجھانے والے بن کر رہ گئے۔ حالانکہ ہر اس ادبی تخلیق کو ترقی پسند کہا جاسکتا ہے جو خیال افروز ہو اور ذہنی اور جسمانی زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہمیں کم سے کم ایک قدم آگے بڑھانے پرمجبور کردے۔
آج سائنس کی ایجادوں نے ہر ایک چیز کو ہر دوسری چیز سے قریب کردیا ہے لیکن انسان انسان سے دور ہوچکا ہے۔ مانا کہ وہ پہلی سی آنکھ اوجھل والی بات اب نہیں رہی لیکن ایک دوسرے کو جاننے کے لئے جس خلوص کی ضرورت ہے،سوچ کی جو گہرائی درکار ہے وہ ہر کسی کی طبیعت میں باقی نہیں رہی یا کم سے کم مٹتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب زندگی سے قریب ہوتے ہوئے بھی اکثر دور ہی رہتا ہے۔ پہلے بھی یہی صورتِ حال تھی۔ لیکن ایک اور انداز میں۔ پہلے اردو شاعری کے راج بھون میں مدت سے پھولوں کی ایک سیج بچھی ہوئی تھی اور اس پر ایک چنچل سندری غزل کا روپ دھارے سولہ سنگاروں سے سجی بیٹھی ہوئی تھی۔ تشبیہوں کی داسیاں استعاروں کے چنور ہلاتی ٹہل سیوا میں مصروف تھیں۔ راج محل میں آنے جانے والے (لوگ) چنچل سندری کی موہنی چھب سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے اور دل کو گرمانے والے چُنے چنائے گنتی کے چند آدمی تھے،اور ایسی ا لگ اور اچھوتی سبھا میں ہر کسی کو جانے کی جرأت بھی نہ ہوسکتی تھی۔ وہاں وہی جاسکتا تھا جسے راج دربار میں جانے کا سلیقہ ہو،جو ایسی محفلوں کے ادب آداب سے واقف ہو،جو دوسروں کی سن کر واہ واہ کہہ سکتا ہو،اپنی سی کہنے پر نہ تلا بیٹھا ہو۔ نظیر،غالب،شرر۔ چند جادوگر ایسے آئے جنہوں نے پرانے راگ کے سروں سے مدد لے کر نیا ٹھاٹھ جمانا چاہا لیکن سننے والوں کے کانوں میں اپنے اپنے وقت کی گونج بن کر ہی رہ گئے۔ راج محل کے رہنے والوں کی دکھائی نہ دینے والی بیڑیاں کٹ نہ سکیں اور راستہ چلتی،کھاتی پیتی،ہنستی بولتی اپنی بات کہتی،دوسرے کی سنتی اور نئے رستوں کی تلاش کرتی ہوئی زندگی محل کے سنہری چوکھٹ کے اندر قدم نہ رکھ سکی۔
اس کے بعد سات سمندر پار ایک جنگی طوفان اٹھا۔ مغربی تعلیم اور تہذیب و تمدن کی آندھی آئی۔ خس و خاشاک اڑاتی۔ لیکن اپنے اپنے جلو میں نئی کونپلوں کو پروان چڑھانے والی برکھا بھی لائی۔ اب رفتہ رفتہ نئی آوازیں سنائیں دینے لگیں۔ کوئی بولا ادب کو زندگی سے قریب لانا چاہئے۔ کوئی پکار اٹھا ہم صرف دو باتیں جانتے ہیں خلوص اور آزادی اور اس اپنے اپنے راگ کے ہنگامے نے ایک الجھن پیدا کردی۔ ایک ایسی الجھن جس سے نئی لہریں مچل اٹھتی ہیں۔ جس سے نکل کر زندگی کی نئی منزلوں کو طے کرتی ہے۔ لیکن جس کا دھندلکا ایک بھول بھلیاں کی مانند ہوتا ہے۔ ایسی بھول بھلیاں جس میں سے چند ہی لوگ صحیح راستے کو دیکھ کر اس پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ یہی کیفیت اس وقت نئی شاعری کی ہے۔ اور نیا شاعر اب ایک ایسے چوک میں کھڑا ہوا ہے جس سے دائیں بائیں آگے پیچھے کئی راستے نکلتے ہیں۔
(سوغات،جدید نظم نمبر میں شامل مضمون)