• Thu, 27 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عورت اور کار ڈرائیونگ

Updated: February 26, 2025, 11:52 AM IST | Nazneen Ferdous | Hyderabad

صحیح تو کہہ رہی تھیں بیگم نفیس۔ آج اگر خود ڈرائیو کرنا آتا تو یوں شوہر صاحب کی منتیں نہ کرنی پڑتیں۔ خود ڈرائیور کرتے مال چلے جاتے۔ اور ’مال‘ اڑاتے۔ خود ڈرائیو کرتے اور امی کے پاس موجود۔ یوں ہماری سوچوں کا رخ اب ڈرائیونگ سیکھنے پر چلا گیا تھا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

’’ٹھیک ہے۔ اب ہماری یہ مختصر سی ٹی پارٹی اپنی اختتام کو پہنچی۔ اب ہم اجازت چاہتے ہیں۔‘‘ بیگم نفیس نے اپنا چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا۔ اور ہم نے بھی شکر کی سانس لی۔ وہ یوں کہ آج اس ٹی پارٹی میں ہم تیسری بار مدعو تھے۔ ورنہ ایسی پارٹی وغیرہ میں حصہ لینا یا آنا ہمارا مشغلہ ہر گز نہیں تھا۔
 ’’سمیہ! آپ ہمیں ڈراپ کر دیں گی۔‘‘ ہم نے لجاجت سے سمیہ کی جانب دیکھا تھا۔ جو کہ ہماری پڑوسن تھی۔ لیکن سمیہ سے پہلے بیگم نفیس نے ہمیں دیکھا۔ ’’آپ کے پاس تو خود کی کار ہے۔ پھر سمیہ کیوں ڈراپ کرے گی۔‘‘ ان کے چہرے پر حیرت کا تاثر ابھرا۔ ’’جی کار تو ہے لیکن ڈرائیور رکھا نہیں۔ شوہر تو آج سنڈے منا رہے ہیں۔ اس لئے کیب کر لی تھی اب سمیہ کا گھر راستہ میں ہی ہے تو اس کے ساتھ ہی چلے جائیں گے۔‘‘
 ہمارے اتنا کہنے کی دیر تھی بیگم نفیس پر تو جیسے اچانک عورتوں کے مساوی حقوق، خود مختار عورت اور جانے کون کون سی عورت کے کردار ’جن‘ بن کر حاوی ہوگئے اور وہ لگیں تقریر کرنے جس کا مختصراً جائزہ لیں تو وہ یہ تھا کہ ہمیں ہر کام خود کرنا چاہئے۔ کار بھی خود ڈرائیو کرنی چاہئے۔ کسی پر منحصر ہونا بالکل بھی اچھی بات نہیں۔ خاص طور پر شوہر پر۔ آخر آج کی عورت کب سیکھے گی۔ پر اعتماد رہنا۔ ‌کسی پر منحصر نا ہونا۔ آخر کب تک.... ان کی تقریر دھواں دھار تھی۔ اور چہرے کا سرخ رنگ ان سے زیادہ بول رہا تھا جو کہ یقیناً میک اَپ کا کمال تھا۔
 ’’آخر کب تک عورت یوں رہے گی۔ مرد کے حکم کی منتظر۔ مرد کے احسان تلے جینے والی۔ آخر کب تک....‘‘
 ’’جی! ہم نے تو ساری زندگی کا منصوبہ بنا لیا ہے۔‘‘ ہم نے دل ہی دل میں کہا۔ بیگم نفیس کے منہ پر کہتے تو وہ ہمارا منہ نہ توڑتیں۔
 ’’آپ کو خود سیکھنی چاہئے۔ کار۔ اپنی کار خود ڈرائیو کریں تاکہ مرد پر رعب و دبدبہ رہے۔ کہ آپ بھی آزاد اور حوصلہ مند عورت ہیں۔‘‘ ان کی تقریر سے اب دھواں آنے لگا تھا۔ جو ہمارے کانوں تک آتا محسوس ہو رہا تھا۔ ’’لو جی وہ تو ویسے بھی ہمارے رعب میں رہتے ہیں ابھی اور کتنا رعب ڈالیں بیچارے شوہر پر۔‘‘ ہم نے بیچارگی سے سمیہ کو دیکھا جو ہماری کیفیت سمجھ رہی تھی۔
 اسے پتا تھا ہم ایسی ٹی پارٹیز پسند نہیں کرتے اس پر مستزاد مرد اور عورت کی برابری والا نعرہ۔
 ’’بیگم نفیس! حمنہ نے کچھ مہینے قبل ہی کار لی ہے۔ وہ سیکھ رہی ہے کار ڈرائیونگ۔ آپ یوں سمجھیں کچھ دنوں میں حمنہ بھی اپنی کار خود ڈرائیو کرتے ٹی پارٹی میں آئے گی۔‘‘ سمیہ نے مسکرا کر بیگم نفیس کے سامنے بڑ ماری جو ہمیں سخت ناگوار گزری۔ کیونکہ کار سیکھنے کا ہمیں شوق نہیں تھا نہ ایسا کوئی ارادہ تھا۔ ’’ضرور سیکھیں مسز کامران۔ عورت کو کبھی اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹانا چاہئے۔ ہمیشہ سر اٹھا کر جینا چاہئے یوں....‘‘ انہوں نے اپنا سر اونچا کیا تو سر کے بالوں کا نقلی جوڑا ایک طرف ڈھلک گیا۔ اور ہم اپنی ہنسی روکتے سمیہ کے ساتھ باہر آئے تھے۔ مسز نفیس کا شمار شہر کے ان نو دولتیوں میں ہوتا تھا جو خلیج سے ریال کما کر اچانک اپنے آپ کو جدید تہذیب سے ہم آہنگ کرنے کے چکر میں اپنی جڑوں کو کاٹنے لگتے ہیں۔ اور جدید تہذیب کو پہنے اوڑھنے کے چکر میں آدھے تیتر آدھے بٹیر بن جاتے ہیں۔

 مسز نفیس کا مشورہ ہمیں قابل توجہ تو نظر نہیں آیا تھا۔ لیکن کچھ واقعات یوں ہوئے کہ وہی مشورہ ہمیں قابل غور لگنے لگا۔ ہوا کچھ یوں کہ ہمیں بازار جانا تھا۔ لیکن شوہر صاحب نے لال جھنڈی دکھا دی کہ وہ آج ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔
 ’’کیوں؟ کیوں نہیں چل سکتے؟‘‘ ہم نے احتجاج کیا۔ ’’کام ہے۔‘‘ انہوں نے موبائل میں اپنی نگاہیں مرکوز کی ہوئی تھیں۔ ’’کیا کام؟ ہمیں ضروری چیزیں خریدنی ہیں۔‘‘ ’’ضروری چیزیں خریدنا نہیں ہوتا بلکہ فضول خرچی کا ایک بہانہ ہوتا ہے۔ اس لئے گھر بیٹھو۔‘‘ انہوں نے پھر سے موبائل میں نظریں جمائیں۔ ’’آپ چل رہے ہیں کہ نہیں۔‘‘ ہم نے دھمکی آمیز نظروں سے انہیں گھورا۔ ’’نہیں!‘‘ وہ ہماری دھمکی آمیز نظروں کو ایک ’’نہیں‘‘ سے ہوا میں اڑاتے یہ جا وہ جا۔ اور ہم ان کی پشت گھورتے رہ گئے۔
 اس کے بعد دوسری بار بھی کچھ ایسا ہی رویہ اپنایا۔ امی کے پاس جانا تھا اور انہوں نے حسب معمول وہی کہا، ’’ہر دوسرے دن امی کے پاس جاؤ گی تو عزت نہیں رہتی۔ اس لئے جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ اب کے اخبار میں گھسے ہوئے تھے۔ ’’امی نے نہایت عزت سے ہمیں اپنے پوتے کی بسم اللہ میں بلایا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ....‘‘ ہم روہانسے ہوگئے۔
 ’’اب بسم اللہ میں نہیں جا سکیں تو کچھ دن بعد روزہ رکھائی میں چلی جانا۔‘‘ کمال بے نیازی سے کہا گیا۔ اور ہم دل ہی دل میں کچکچا کر رہ گئے کہ روزہ رکھائی کو تو ابھی چار سال اور لگنے تھے۔
 ان واقعات نے ہمیں بیگم نفیس کے مشورہ پر غور کرنے پر مجبور کر دیا۔
 صحیح تو کہہ رہی تھیں بیگم نفیس۔ آج اگر خود ڈرائیو کرنا آتا تو یوں شوہر صاحب کی منتیں نہ کرنی پڑتیں۔ خود ڈرائیور کرتے مال چلے جاتے۔ اور ’مال‘ اڑاتے۔ خود ڈرائیو کرتے اور امی کے پاس موجود۔ یوں ہماری سوچوں کا رخ اب ڈرائیونگ سیکھنے پر چلا گیا تھا۔ ’’کار چلانا سیکھنا چاہئے۔‘‘ ہم نے اپنے اندر جوش محسوس کیا۔
 ’’لیکن کار.... کچھ مشکل ہے۔ خواتین کی کار ڈرائیونگ کو لے کر کافی لطائف زبان زد عام ہیں۔ جیسے عورت جب کار ڈرایئو کرتی ہے تو آگے پیچھے کچھ نہیں دیکھتی۔ وہ کار وہاں پارک کرے گی جہاں ’نو پارکنگ‘ کا بورڈ لگا ہوگا۔ بریک گاڑی ٹھوکنے کے بعد لگائے گی۔ اور دائیں جانا ہو تو بایاں اور بایاں جانا ہو تو دایاں ہاتھ بتائے گی.... گاڑی آگے لیتے لیتے یکدم سے ریورس لے لے گی۔ پیچھے بندہ حیران پریشان اپنی گاڑی سنبھالنے میں لگ جاتا ہے۔
 یہ سب باتیں یاد کیا آئیں۔ ہمارے جوش پر پانی کے چند چھینٹے پڑے۔
 ’’لیکن کیا ہم صرف اس بات پر کار چلانا نہیں سیکھیں گے کہ سب ہماری کار ڈرائیونگ پر ہنسیں گے۔ جبکہ عورتوں نے تو اپنی قابلیت کے جھنڈے ہر جگہ گاڑے ہیں۔ گاڑی تو کیا چیز ہے۔ اس نے تو ہوائی جہاز بھی چلا لیا ہے۔
 ’’ہونہہ! ان مرد حضرات نے عورتوں کو سمجھ کیا رکھا ہے۔‘‘ اس بات نے ہمارا وہ جوش جو برف کی طرح پگھل گیا تھا دوبارہ ابلنے لگا۔ اور ہم سیدھا میاں کے پاس چلے گئے۔ ’’ہم نے بھی کار چلانی سیکھنی ہے۔‘‘ ہم نے جوش سے ہاتھ ہوا میں لہرائے۔ اور صبح کا وہ اخبار جو ہمیشہ میاں کے چہرے کے آگے ٹکا ہوتا تھا۔ میز پر پٹخا۔
 ’’کیا ہوا؟‘‘
 ’’ہم نے بھی کار چلانا سیکھنا ہے۔‘‘ ہم نے دوبارہ اسی جوش کے ساتھ کہا۔
 ’’پہلے سائیکل چلانا تو سیکھ لو۔‘‘ انہوں نے ہمارے سارے جوش پر پانی پھیر دیا۔ اور خود پانی پینے لگے۔ ’’سائیکل چھوڑیں ہم تو کار ہی سیکھیں گے۔ ہاں!‘‘ ہماری بات پر وہ طنزیہ مسکرائے اور کہا، ’’کار، سیکھیں گی لیکن آپ کو کار سکھائے گا کون؟ میں اپنی جان خطرہ میں نہیں ڈالوں گا۔‘‘ وہ کہتے ہوئے اٹھ گئے۔
 ان کی اس بات پر ہمارا منہ بن گیا۔ لیکن چونکہ ہم نے ارادہ کر لیا تھا اس لئے شام میں جب دونوں بچے کار میں بیٹھے تھے۔ ہم بھی کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئے۔ بچے سمجھے شوقیہ بیٹھے ہیں۔ ہم نے کہا، ’’کار اسٹارٹ کیسے کرتے ہیں؟‘‘ دونو‌ں ہنسنے لگے۔
 ’’ممی، کار سیکھنے چلی ہیں اور اسٹارٹ کیسے کرتے ہیں نہیں پتا!‘‘ ’’خاموش!‘‘ ہم نے جھڑکا۔
 بڑا بیٹا معنی خیز سی مسکراہٹ لئے بتانے لگا۔ بتانے کیا اس نے کار اسٹارٹ ہی کردی۔
 چونکہ ابتدائے عشق ہے والا معاملہ تھا۔ ہم نے انتہائی بیوقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکیسیلیٹر پر پاؤں رکھ دیا۔ کار کی فرمانبرداری تو دیکھئے یوں نکلی جیسے منتظر ہی تھی۔ سیدھے گھر کے سامنے بنے چبوترے کے کارنر کاٹتی ہوئی نکلی، ہماری تو سانس حلق میں اٹک گئی۔ ’’او میرے خدا!‘‘ ہماری چیخ نکلی تو بچے نے فوراً بریک لگایا۔ کار رکی تو ہماری جان میں جان آئی۔ اور ہم سب کار سے نکل کر سیدھے گھر میں گھسے۔
 میاں جی کو پتا چلا تو خوب ڈانٹے، ’’کار سیکھنا جوکھم بھرا کام ہے ایسے کون کرتا ہے۔ خدانخواستہ بچوں کی جان پر بن آتی تو‌....‘‘
 ’’پھر تو آپ کو ہی سکھانا پڑے گا۔ آپ رہیں گے تو تھوڑی ہمت رہے گی۔‘‘
 ’’ہمت؟ ٹکر مارنے کے لئے....‘‘
 ’’ن.... ن.... نہیں کار سیکھنے کے لئے۔ آپ صرف ساتھ رہیں اور بس۔‘‘

بس پھر کیا تھا۔ چھٹی کا دن مقرر ہوا اور ہم نے آغاز کیا۔ میاں جی نے سب سے پہلے بریک اور کلچ کا بتایا، دیکھو یہ بریک اور کلچ کو اچھی طرح سمجھ لو اور جب میں بریک لگانے کیلئے کہوں، ’روکو‘ تو گاڑی روک دینا ٹھیک ہے۔ اور یہ کلچ، انہوں نے بتایا، اس پر اپنے پیر کا دباؤ برقرار رکھنا اور دھیرے دھیرے اس کو چھوڑنا۔ اب میں کار اسٹارٹ کروں گا اور تم بغیر گاڑی آف کئے گاڑی نکالنا۔
 ہم نے تائيد میں سر ہلایا اور کلچ دھیرے دھیرے چھوڑنے لگے اور کار نکال لی۔
 ’’واہ! کیا کنٹرول ہے انجن پر۔‘‘ بیٹے نے تالی بجائی۔ ’’ارے بچو! کنٹرول کرنا تو بیویوں ہی کو آتا ہے۔ چاہے وہ انجن ہو کہ شوہر۔‘‘ ہمارے میاں جی نے ٹھنڈی سانس بھری۔
 ہم کار چلانے میں چونکہ مگن تھے اس لئے ان کی بات پر دھیان نہ دیا۔
 یوں ایک ہفتہ گزرا۔ دوسرے ہفتہ میں ہم کچھ زیادہ سیکھ نہ پائے۔ کیونکہ کلچ نے ہماری ناک میں دم کر دیا تھا۔ بار بار پکڑنا، چھوڑنا، ہم جھلا کر رہ گئے۔ ’’یہ کیا کلچ ستا رہا ہے۔ اس سے تو اچھا ہے بندہ پوریاں بیل لے۔‘‘
 ’’تو ساری دنیا کے مرد حضرات یہی تو کہتے ہیں کہ عورتوں کو گھر میں بیٹھ کر پوریاں بیلنی چاہئے۔‘‘ انہوں نے جل کر کہا۔
 (یہ تو چاہتے ہی نہیں کہ ہم کار چلانا سیکھیں۔ خود مختار جو ہوجائیں گے۔ شاپنگ سے لے کر امی کے گھر تک جانے کے لئے اسی لئے ایسے جل جل کر کہہ رہے ہیں ہونہہ)
 ہم نے انہیں ایسے دیکھا جیسے دشمن کو دیکھتے ہیں۔ ’’آپ کار سکھائیں گے کہ نہیں۔‘‘
 ’’سکھا تو رہا ہوں، اپنی جان کو رسک میں ڈال کر۔‘‘ ان کے بھی صبر کا پیمانہ مانو ٹوٹ گیا ہو۔
 (اپنی جان رسک میں ڈالنے کا تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے ہم نے انہیں موت کے کنویں میں کار چلانے کا کہہ دیاہو.... ہونہہ)
 ’’اب ذرا گیئر وغیرہ کو سمجھ لو۔ اب تک تم فرسٹ گیئر میں ہی چلا رہی تھیں۔ لیکن سکنڈ، تھرڈ اور فورتھ گیئر بھی ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے تحمل سے کہا۔ ’’جب فرسٹ گیئر میں کار چل رہی ہے تو سکنڈ تھرڈ گیئر کیوں ڈالنا۔‘‘ ہم نے منہ بنا کر اپنی منطق جھاڑی۔ ’’جب صابن سے بال دھو سکتی ہو تو دنیا بھر کے شیمپوز کیوں لگاتی ہو۔‘‘ انہوں نے جیسے ہماری منطق کی دھجیاں بکھیر دیں۔
 ’’وہ تو بال نرم ملائم اور چمکیلے کرنے کیلئے جبکہ صابن سے بال رف سے ہو جاتے ہیں۔‘‘
 ’’بس اسی طرح فرسٹ گیئر میں انجن پر زیادہ دباؤ پڑ جاتا ہے اس لئے سکنڈ تھرڈ گیئر میں گاڑی چلائی جاتی ہے۔‘‘
 ’’اچھا!‘‘ ہم نے سر ہلایا۔
 ’’اچھا! ایک بات تو بتاؤ؟‘‘ انہوں نے کار نیوٹرل میں رکھی، ’’جب سے کون سے گیئر میں گاڑی چل رہی تھی۔‘‘
 ہم نے کچھ دیر سوچا پھر گیئرز کو دیکھا اور بنا سوچے سمجھے کہا، ’نیوٹرل‘ میں۔
 ’’اوئے شاباشے۔‘‘ انہوں نے ہنس کر کار کی سیٹ کو ٹیک لگائی جیسے کہہ رہے ہوں اس کا کچھ نہیں ہوسکتا۔
 ’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ ہم ہونق سے بن گئے۔
 ’’ممی! آپ بھول گئیں، نیوٹرل مطلب بالکل ساکت، نیوٹرل گیئر میں ڈالنے سے بھی گاڑی رکی رہتی ہے۔‘‘
 ’’لو، تب سے ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ گاڑی نیوٹرل میں چل رہی ہے۔‘‘ ہم نے ماتھا پیٹ لیا۔

 اب تیسرا ہفتہ شروع ہوا، ہم صبح صبح فجر کے ساتھ ہی نکلتے تھے۔ کلچ اور گیئر کی تھوڑی بہت سمجھ آگئی تھی۔ لیکن اسٹیئرنگ وھیل ہمیں چکرا رہا تھا۔ ہم اسے صحیح ہینڈل نہ کر پارہے تھے۔ جس کی وجہ سے ہماری گاڑی کبھی لیفٹ اور کبھی رائٹ ہوتی رہتی۔ ابھی بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا۔ ہم نے میاں جی سے پوچھا، ’’صحیح چل رہی ہے ناں؟‘‘
 ’’بالکل، بالکل، جی چاہ رہا ہے کہ ناگن ڈانس کروں۔‘‘ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ پیشانی سے لگاتے ہوئے کہا۔
 ’’ہائیں وہ کیوں؟‘‘
 ’’افف ممی، آپ کی کار سڑک پر بالکل سانپ کی طرح لوٹ رہی ہے۔ کبھی اس جانب تو کبھی اس جانب۔‘‘ بچے بھی جیسے تنگ آگئے تھے۔ ’’اوہ، اب کوشش کروں گی کہ ایسا نہ ہو۔‘‘ ہم نے اسٹیئرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
 ’’کیا کوشش کرو گی۔ اسٹیئرینگ کو ایسے پکڑتی ہو جیسے کہیں بھاگا جارہا ہو۔ ارے بابا اس کو تھوڑا ہلکے سے پکڑو اور بہت ہلکے انداز میں اس کو گھماؤ۔ ایسے گھماتی ہو جیسے کہ آخری بار گھما رہی ہو۔‘‘ ’’اچھا اچھا....‘‘ ہم نے اسٹیئرنگ پر گرفت تھوڑی ڈھیلی کی۔
 اب سیدھی سڑک تھی، اکا دکا لوگ بھی نہیں تھے۔ ہم اچھا جا رہے تھے کہ سامنے ایک گلی میں سے بھینسیں نکل آئیں۔ وہ اپنی مارننگ واک پر نکلی تھیں شاید۔ ہمیں لگا ہم برے پھنسے۔ ہماری کار کے بالکل قریب ایک بھینس آگئی تھی۔ ہم پریشانی میں ہارن پر ہارن دینے لگے۔
 ’’اب یہ بھینس کے آگے بین کیوں بجارہی ہو۔ اف، میرا مطلب ہے ہارن کیوں دے رہی ہو۔‘‘ انہوں نے ہمیں چڑ کر دیکھا۔
 ’’اس بھینس کو بھگانے کے لئے۔‘‘ ہم نے بےچارگی سے کہا۔
 ’’اس کو چھیڑو مت، تم سائیڈ سے گاڑی نکال لو، وہ اپنے راستے جارہی ہے۔‘‘
 ’’مرتے کیا نہ کرتے، ہم نے بڑی مشکل سے کار اس کو بنا دھکا دیئے نکالی۔
 ’’ویری گڈ!‘‘ ان دونوں نے تالیاں بجائیں۔ ہم نے پہلے شکر کا سانس لیا۔ پھر اس بھینس کو پلٹ کر دیکھا۔
 ’’صبح صبح نکلی ہے بھینس کہیں کی۔‘‘ لیکن ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے بھینس بھی کہہ رہی ہو، ’’صبح صبح تو تم بھی نکلی ہو۔‘‘

 آج صبح ہی میاں جی نے بتا دیا تھا کہ آج کہیں دوسری سائٹ پر جائیں گے۔ ان کے ایک دوست نے اس کالونی کا پتا دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ کافی خوبصورت اور کھلی جگہ بھی ہے۔ کیونکہ یہاں ابھی پلاٹنگ چل رہی تھی۔ یہ سن کر ہم سب پر جوش تھے کہ دیکھیں یہ نئی کالونی کیسی ہے۔
 اب ڈرائیونگ سیٹ میاں جی نے سنبھالی تھی، چونکہ مین روڈ پر وہی چلاتے تھے اور جب ذیلی سڑک شروع ہوتی جہاں گاڑیوں کا آنا جانا نہ کہ برابر ہوتا تب وہ ہمیں چلانے کیلئے دے دیتے۔
 ’’ایک بات تو ہے کار چلانا دماغ کی ساری چولیں ہلا دیتا ہے۔ دونوں پیر مسلسل حرکت میں، دونوں ہاتھ بھی اور نظروں کو بھی سامنے فوکس کرنا ہوتا ہے۔ کافی سے زیادہ مشکل کام لگ رہا ہے۔‘‘ کار میں بیٹھتے ہی ہم کہنے لگے۔
 ’’ہوں۔‘‘ وہ سامنے دیکھتے ہوئے بولے۔
 ’’دل، دماغ بہت چوکس رکھنا پڑتا ہے۔ اگر کہیں ذرا سی چوک ہوئی تو کام تمام ہو جائے۔‘‘ ہم انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگے۔
 ’’ہوں۔‘‘ پھر وہی ہوں؟
 ان کی صرف ’’ہوں ہوں‘‘ سے تنگ آکر ہم نے باہر دیکھنا شروع کیا۔ اور باہر کے نظارے اتنے دلکش لگے کہ ہم کھو سے گئے۔
 ’’واہ! کیا خوبصورت نظارے ہیں۔ اولین صبح، آسمان میں اڑتے پرندے اور جگہ جگہ سر سبز پیڑ، سب سے بڑھ کر صبح کی ٹھنڈی اور تازہ ہوا جو مین سٹی میں ملنی تقریباً ناممکن ہے۔‘‘
 کچھ بھی ہو، آپ کے دوست نے یہ بڑی زبردست جگہ بتائی ہے۔‘‘ ہم نے سرشار ہو کر کہا۔
 ’’ہوں۔‘‘ پھر وہی ہوں؟
 ہم بد مزہ ہو کر خاموش ہوگئے۔ مین روڈ کے بعد اب چھوٹی سڑک شروع ہو گئی تھی۔ اب ڈرائیونگ سیٹ پر ہم اور بازو والی سیٹ پر شوہر صاحب براجمان تھے۔
 ہم نے پورا دھیان لگایا ہوا تھا۔ لیکن میاں جی بیچ بیچ میں کچھ نہ کچھ کہتے جارہے تھے۔
 ’’ناشتہ بنا کر رکھا ہے ناں، دودھ گرم کر دیا تھا، لاک تو صحیح کیا ناں گھر کو وغیرہ وغیرہ۔‘‘
 ’’یہ آپ نے کیا لگا رکھا ہے۔‘‘ ہم نے چڑ کر انہیں دیکھا، ’’ہمیں کار چلانے پر فوکس کرنے دیں ناں!‘‘
 ’’بالکل بالکل یہی بات آپ عورتوں کے دماغ میں کیوں نہیں آتی جب ہم کار چلارہے ہوتے ہیں۔ جب شوہر کار چلا رہا ہو تو ایسی شاعری سوجھتی ہے کہ خدا کی پناہ.... اللہ! وہ منظر تو دیکھیں، واہ کیا آسمان ہے اور ڈوبتا سورج، چڑھتا سورج، کیا پیارا لگ رہا ہے وغیرہ وغیرہ.... اللہ یہ اللہ وہ....‘‘ وہ عورتوں والے انداز میں بولے تو ہم کھسیا گئے۔ ابھی کچھ دیر پہلے والی ہماری ”شاعری “کی طرف اشارہ جو تھا۔

’’ہم پر بھی ذمہ داری رہتی ہے کہ صحیح سلامت منزل تک پہنچنے کی، اسلئے جب بھی کوئی ڈرائیو کر رہا ہو تو یوں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ آخر میں ان کے ناصحانہ انداز پر ہم نے اثبات میں سر ہلایا۔
 اب ایک نئی ذیلی سڑک شروع ہوئی تھی۔ بچے بھی پرجوش انداز میں ہمیں سراہ رہے تھے۔ بیٹے نے فون پکڑا تھا۔ وہ ہماری ڈرائیونگ کی لائیو ویڈیو بنا رہا تھا۔ بیٹی کمنٹری کر رہی تھی۔
 ’’اور اب ممی نے رائٹ ٹرن لیا نہیں لفٹ نہیں رائٹ لیا۔ اب وہ ہمیں کنفیوژ کر رہی ہیں۔ اررر ے یہ کیا کتے....‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئی۔ اور کتوں کو دیکھ کر ہمارا چہرا ہی فق ہوگیا۔
 ان کتوں کو شاید کسی نے پالا ہوا تھا۔ اچھے خاصے جرمن شیفرڈ جیسے لگ رہے تھے۔ موٹے تازے اور تقریباً آدمی کے قد کے برابر، اب ہمارا کاٹو تو بدن میں خون نہیں والا معاملہ تھا، شوہر بھی گھبرا گئے۔ بد قسمتی سے ان کتوں کو ہم سب چور لگ رہے تھے۔ اجنبی لوگوں کو وہ چور سمجھ کر بھونکنا شروع کر چکے تھے اور ساتھ ہی ہماری جانب بڑھنے لگے تھے۔
 ’’سب پہلے ونڈوز چڑھا لو۔‘‘ میاں جی بولے اور ساتھ ہی اپنی کھڑکی کا شیشہ چڑھانا شروع کیا۔ ہمارا شیشہ چڑھا ہوا تھا اس لئے پریشانی نہ ہوئی مگر ہماری سٹی گم ہوگئی تھی۔ چونکہ کتے ہمارے پیچھے بھونکتے ہوئے آرہے تھے۔ ہم نے کار کی اسپیڈ بڑھا دی تھی۔
’’تم چلاتی رہو ویسے بھی آگے رائٹ ٹرن لیں تو پھر سے وہی سڑک نکلے گی تم چلاتی رہو ان کتوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
 ’’لیں، ضرورت کیسے نہیں ہمارے پیچھے پڑے ہیں نامراد، ایسے جیسے ہم نے ان کا کچھ خزانہ لیا ہو۔‘‘ ہم چڑ کر بولے۔
کتے ابھی بھی بدستور ہمارے پیچھے تھے
 میاں جی نے کہا، ’’آگے رائٹ لو۔‘‘
’’اچھا!‘‘ کہتے ہم بدحواسی میں رائٹ ٹرن لینے لگے لیکن شاید کچھ زیادہ ہی رائٹ لے لیا۔ جس کا نتیجہ کافی خوفناک نکلا۔ ہماری گاڑی رائٹ ہوتے ہوتے بالکل کونے پر بنے گھر کی سیڑھیوں پر چڑھ گئی اور قریب کی دیوار سے جا ٹکرائی۔
’’روکو....‘‘ وہ چلائے۔
مگر ہم اپنے حواس کھو بیٹھے۔ ہمارا پیر بریک کلچ دونوں سے ہٹ گیا اور ہاتھ اسٹیئرنگ پر سے اور آنکھیں بند۔
’’ممی....‘‘ دونوں بچے چلائے۔
 ممی جی کیا جواب دیتیں ان کی سٹی گم ہو چکی تھی۔ (خدا بھلا کرے مسز نفیس آپ کا)
میاں جی نے پہلے بریک لگایا۔ ویسے بھی گاڑی دیوار سے ٹکرا کر رک گئی تھی۔ اور اب ایسی حالت تھی کہ اس کے تین ٹائر سیڑھیوں پر اور چوتھا ٹائر ہوا میں لٹک رہا تھا۔ اگر ہم تھوڑا بھی حرکت کرتے تو کار الٹی ہو جانی تھی۔ ہمارا تو خون ہی خشک ہو چلا تھا۔ لیکن بھلا ہو میاں جی کا، انہوں نے اپنے حواس کھوئے نہیں تھے۔ قریب بیٹھ کر ہی انہوں نے سب سے پہلے اسٹیئرنگ کو تھوڑا لیفٹ لیا اور کار کو پہلے زمین پر لے آئے۔ کار زمین پر کیا آئی سب کی جان میں جان آئی۔
 وہ پہلے خود اترے، بچے بھی اتر گئے اور کار کو دیکھنے لگے۔
 ’’آپ نیچے اترنے کی زحمت کریں گی۔‘‘ یہ ہمارے شوہر تھے۔
 ہم ہمت جٹاتے اتر گئے اور وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ہم نے کار کو دیکھا، اچھا خاصا ڈینٹ پڑگیا تھا۔ ہم ٹھنڈی سانس بھرتے رہ گئے۔
 کتوں نے ہمارا پیچھا کرنا چھوڑ دیا تھا۔ بچوں نے ویڈیو بند کر دی تھی۔ سب سہم سے گئے تھے۔
 ’’اب بھی کار چلانا سیکھنا ہے یا ابھی دیواروں کو، گھروں کو ٹکریں مارنی ہے۔‘‘ جب سب کے ہوش و حواس ٹھکانے آئے تو ہمارے شوہر کی حس مزاح پھڑکی۔
 ’’توبہ کریں اب جو نام لوں تو....‘‘ ہم نے توبہ کی۔
 وہ سب ہنسنے لگے۔
 ’’ویسے چلا اچھا ہی رہی تھیں بس کتے آگئے۔ چلاتے چلاتے سیکھ ہی جاتی تم بس میری گاڑی پر ڈنٹ بے شمار پڑتے۔ اس لئے میرے خیال میں تو تمہارے لئے اتنا کافی ہوگا کہ کار تو بہرحال چلا ہی لی۔ یہ اور بات کہ پرفیکٹ ڈرائیور نہ بن سکیں۔‘‘
 ’’جی! مگر ہمارے لئے تو پھر بھی دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے والا معاملہ ہے۔‘‘ ہم نے خوشدلی سے کہا اور غائبانہ طور پر مسز نفیس سے معذرت بھی کر لی۔
ز ز ز
’’آج مسز نفیس ابھی تک آئیں نہیں؟ ‌چار بج چکے ہیں۔‘‘ سمیہ نے گھڑی دیکھی تھی اور باہر کی جانب ایک نگاہ کی تھی۔ باہر سہ پہر کی دھوپ چمک رہی تھی۔ ہلکی ہلکی دھوپ جو دیکھنے میں بھلی لگ رہی تھی۔ ’’ہوسکتا ہے ان کا ڈرائیور نہ آیا ہو۔‘‘ ہم نے قیاس کیا۔ ’’وہ خود ڈرائیو کرتی ہیں۔‘‘ سمیہ نے ہمیں یاد دلایا۔ اور ہمیں یاد آگیا کہ ایسی خاتون جو دوسروں کو ترغیب دیتی تھیں کہ خود مکتفی ہونا چاہئے ہر معاملہ میں۔ وہ بھلا خود کیوں دوسروں پر انحصار کریں گی۔ یہ سوچ کر ہم ان کے آنے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔
 اس انتظار میں ایک اور دلچسپی یوں بھی تھی کہ ہم خود کار ڈرائیونگ کی نا کام مثال بنے بیٹھے تھے اور دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کیسی کار ڈرائیور ہیں؟
 ’’وہ یقینا بہت مشاق کار ڈرائیور ہوں گی۔‘‘ ہم نے دل میں سوچا اور اس سے قبل کہ اپنے دل کے خیالات سمیہ اور اطراف و اکناف کی خواتین کے کانوں میں ڈالتے تبھی ایک زور کی آواز آئی تھی اور ایک نسوانی چیخ کے ساتھ زبردست دھماکہ ہوا تھا۔ ہم تو ڈر کر اچھل گئے۔ سمیہ اور ایک دو خواتین بھی ڈر کر باہر کی جانب بھاگیں۔
 ’’اوہ.... نو، مسز نفیس....‘‘ سمیہ چلائی تھی اور ہم تیزی سے باہر بھاگے تو وہاں دیکھا ایک مشاق اور خود مکتفی اور خود اعتماد عورت اپنی کار درخت سے ٹکرا چکی تھی۔ کار تو رک گئی تھی لیکن وہ خود کار کے دروازہ سے لٹک رہی تھیں اور یہ منظر بڑا بھیانک تھا۔
 ’’مسز نفیس! آپ ٹھیک ہیں۔‘‘ ہم نے بے تکا سوال کر ڈالا۔
 سمیہ نے ہمیں گھورا، ’’حمنہ! ان کا ایک ہاتھ دروازہ سے لٹک رہا ہے۔ اور تم پو چھ رہی ہو کہ آپ ٹھیک ہیں۔‘‘
 اگر آپ دو نوں کی بحث ختم ہوگئی ہو تو مجھے اس کار سے نکال دیں۔ بڑی مہربانی ہوگی۔‘‘ مسز نفیس ہم دونوں پر خونخوار نظریں ڈالتی چیخی تھیں۔
 ہم ان کی چیخ پر بھاگے اور جلدی سے انہیں کار سے نکالا۔ ‌ان کے سر کا جوڑا گر گیا تھا اور چند بالوں کی چوٹی ان کے بڑے سے چوڑے چہرے پر مسکین سی چوہیا کی طرح لگ رہی تھی۔
 ہم نے اس مسکین چوٹی کو ترحم سے دیکھا۔ اف بیچاری۔
 سمیہ انہیں اٹھا کر اندر لے آئی اور پانی پلایا۔
 وہ چپ چاپ پانی پی گئی تھیں۔
 ’’مسز نفیس آپ تو کار اچھی طرح چلا لیتی ہیں پھر آج کیا ہوا؟‘‘ سمیہ کے ذہن میں بڑی دیر سے یہی سوال مچل رہا تھا۔ بالآخر باہر آگیا تھا۔
 ’’کار چلاتے چلاتے کب کار پر سے ذہن ہٹ گیا پتا ہی نہیں چلا۔ میں آج عورت اور اکیسویں صدی کے موضوع پر تقریر کا سوچ رہی تھی۔ اور.... آہ۔۔‌اوف....‘‘ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے پیر دبائے۔
 ’’تو آپ کو کیا لگا.... عورت اکیسویں صدی میں کیا انقلاب لاسکتی ہے۔‘‘ ہم نے ان پر ایک ترحم بھری نظر ڈالی۔
 ’’ہاں! بہت انقلاب لاسکتی ہے۔ بڑے بڑے پہاڑ سر کرسکتی ہے لیکن کار ڈرائیونگ میں اسے ابھی بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید اگلی صدی اس کی ہو۔‘‘
 ان کے بیچارگی سے کہنے پر ہمیں اپنی درگت یاد آئی کہ کس طرح کار ڈرائیو کرنے کے شوق میں ایک بڑے حادثہ سے بال بال بچے تھے اور اگر اس وقت شوہر صاحب نہ ہوتے تو....
 سچ بات تو یہ ہے کہ بہرحال اپنے شوہر کے شکر گزار ہیں کہ نہ صرف ہمارے لئے اپنی چھٹیاں برباد کیں بلکہ پیٹرول کے اضافی خرچ کو برداشت بھی کیا اور کار کو ڈینٹ پڑنے کا نقصان بھی برداشت کیا، جان جوکھم میں ڈالی وہ الگ، اس کے لئے ہم ان کے شکر گزار ہیں اور اب سوچ رہے ہیں کہ لوگ عورتوں کی ڈرائیونگ کو لے کر جو کہتے ہیں وہ شاید سچ ہی کہتے ہیں۔ اور ہمارے اس خیال کی تائید تو اب مسز نفیس بھی کرتی ہیں۔ اس واقعہ کے بعد نہ وہ خود کار ڈرائیو کرتی نظر آئیں نہ انہوں نے ہمیں کار ڈرائیو کرنے کا کہا۔ شاید انہیں بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK