Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ : چھاؤں کے نیچے

Updated: April 29, 2025, 1:53 PM IST | Khan Ifra Taskeen | Mumbai

ماں باپ کا سایہ اولاد کے لئے گھنی چھاؤں کی مانند ہوتا ہے، یہ افسانہ یہی پیغام دیتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

کمرے میں ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی مگر احمد کا دل جیسے تپتے صحرا کی ریت بن چکا تھا۔ وہ کبھی اِس کروٹ تو کبھی اُس کروٹ پر پلٹتا رہا۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ آج دل کی بےچینی نے تمام مصروفیات، تمام فاصلے مٹا دیئے تھے۔ آج شدت سے ابا جان یاد آ رہے تھے۔
 گھڑی کی سوئیاں اپنی رفتار سے چل رہی تھیں۔ کمرے کی خاموشی میں گھڑی کی ٹک ٹک اور احمد کے دل کی دھڑکن آپس میں کوئی اداس دھن چھیڑ رہی تھی۔
 احمد، جو تین سال پہلے اپنا سب کچھ چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں سرزمین ِ حجاز آ گیا تھا، آج اپنے ماضی کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔
 پاس والے بیڈ پر لیٹا سرفراز، احمد کی بےچینی محسوس کر چکا تھا۔ وہ اٹھ کر اس کے قریب آیا اور نرم لہجے میں پوچھا، ’’کیا ہوا بھائی؟ کچھ تو بات ہے؟‘‘
 احمد نے جواب میں خاموشی اختیار کی، مگر اس کی آنکھوں میں جیسے درد کی پوری کہانی لکھی ہوئی تھی۔ سرفراز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، جیسے کہہ رہا ہو، ’’کہہ دو، دل ہلکا ہو جائے گا۔‘‘
 کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد احمد نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہنا شروع کیا، ’’زندگی کے کچھ فیصلے.... انسان کی روح پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ مَیں نے تمہیں کبھی نہیں بتایا کہ میں اپنا گھر کیوں چھوڑ آیا۔‘‘
 وہ رک کر گہری سانس لیتا، جیسے ماضی کی گرد کو پلکوں سے جھاڑ رہا ہو۔ ’’میری ماں، اللہ انہیں جنت نصیب کرے، بہت پیار کرتی تھیں۔ ابا جان سخت مزاج تھے، مگر ان کے سایے میں ہم نے کبھی دھوپ نہیں دیکھی۔ جب ماں چلی گئیں تو ابا کا سایہ ہی ہماری دنیا رہ گیا۔ مگر مَیں.... میں بےصبرہ نکلا۔ میں چاہتا تھا کہ سعودی عرب جا کر کچھ بڑا کر دکھاؤں۔ ایک اچھی زندگی، اچھے خواب.... بس جلدی میں سب کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ مگر ابا جان چاہتے تھے کہ میں یہیں کوئی چھوٹی موٹی نوکری کر لوں، بس ان کے قریب رہوں۔ انہیں مجھ سے جدائی کا خوف تھا.... اور میں.... میں نے ان کے دل کی نہیں سنی۔‘‘
 احمد کی آواز میں ندامت کے آنسو شامل ہوچکے تھے۔
 سرفراز نے نرمی سے کہا، ’’بھائی، والدین کبھی دل سے ناراض نہیں ہوتے۔ ان کا دل تو مٹی کی طرح نرم ہوتا ہے جو ہمیشہ اولاد کے قدموں تلے بچھنے کو تیار رہتی ہے۔ ایک بار فون کر لو۔‘‘
 احمد نے سر جھکا کر کہا، ’’ڈر لگتا ہے.... پتہ نہیں ابا سنیں گے بھی یا نہیں۔‘‘
 سرفراز نے ہاتھ تھاما، ’’آزما لو بھائی، بعض اوقات ایک قدم محبت کی پوری دنیا بدل دیتا ہے۔‘‘
 احمد دھیرے دھیرے بالکنی کی طرف بڑھا۔ سرد رات کے جھونکے اس کے چہرے سے ٹکرا رہے تھے۔ سامنے چمکتے ستاروں میں اسے ابا جان کی شفیق آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔ یادوں کا دروازہ کھل گیا۔
 بچپن کے دن.... جب وہ ابّا کی انگلی تھامے چلنا سیکھا تھا۔ جب ابا جان اپنے کندھوں پر بٹھا کر پورے میلے کا چکر لگواتے تھے۔ جب ابا کی چھاؤں میں دنیا کی سختیاں دھندلی ہو جاتی تھیں۔ جب ماں ڈانٹتیں تو ابا کی مسکراہٹ دل کا بوجھ اتار دیتی۔
 اور اب؟ اب احمد وہ چھاؤں کھو چکا تھا۔ اپنی ضد، اپنی انا کی وجہ سے۔
 آج پہلی بار احمد کو شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ والدین، خاص طور پر باپ، صرف ایک رشتہ نہیں ہوتا — وہ ایک دعا، ایک ڈھال، ایک ٹھنڈی چھاؤں ہے۔ جس کے بغیر انسان خواہ دنیا کے کسی کونے میں ہو، اندر سے ہمیشہ تپتا ہی رہتا ہے۔
 اصل حقیقت یہی ہے کہ ماں باپ کی دعائیں ہی اولاد کی قسمت کا دروازہ کھولتی ہیں۔ وہ اپنی خواہشوں، اپنے خوابوں کو قربان کرکے اپنی اولاد کے لئے راہیں ہموار کرتے ہیں۔ اور افسوس.... اولاد جب سمجھتی ہے، تو اکثر بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔
 سرفراز نے موبائل آگے بڑھایا، ’’کر لو احمد بھائی، کر لو فون۔ شاید وقت ابھی مہربان ہو۔‘‘
 کانپتے ہاتھوں سے احمد نے فون ملایا۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ پہلی بیل.... دوسری بیل.... اور پھر فون کٹ گیا۔
 احمد کا دل بیٹھنے لگا۔ سرفراز نے تسلی دی، ’’دوبارہ کوشش کرو بھائی۔ ہارنے کا وقت نہیں۔‘‘
 دوسری بار فون ملایا۔ اس بار دوسری طرف سے ایک معصوم سی، مانوس آواز آئی: ’’ہیلو؟ کون؟‘‘
 ’’فاطمہ! میں احمد بھائی۔‘‘ احمد کی آواز لرز رہی تھی۔
 ’’بھائی ای ای ای ای!‘‘ فاطمہ کی آواز خوشی اور رنج سے بھیگی ہوئی تھی، ’’آپ کہاں تھے؟ ہم سب آپ کو ڈھونڈتے رہے۔‘‘
 اس کی سسکیاں احمد کے دل پر ہتھوڑے برسا رہی تھیں۔
 احمد نے آنکھیں بند کرکے کہا، ’’فاطی.... ابا جان.... کیا وہ مجھ سے ناراض ہیں؟‘‘
 فاطمہ کی آواز رُک گئی۔ پھر پیچھے سے ابا جان کی گہری، تھکی ہوئی مگر محبت بھری آواز سنائی دی: ’’کون ہے فاطمہ؟‘‘
 ’’بابا! احمد بھائی کا فون ہے۔‘‘ چند لمحے خاموشی چھا گئی۔ احمد کی سانسیں تھم سی گئیں۔ پھر فون پر وہ مانوس، مضبوط مگر تھوڑی سی کپکپاتی آواز آئی: ’’احمد.... بیٹا؟‘‘
 احمد جیسے ٹوٹ کر بکھر گیا۔ بچپن کی ضدیں، جوانی کی انا، سارے فاصلے بہہ گئے۔ رندھی ہوئی آواز میں بولا: ’’ابا جان! معاف کر دیجئے.... مَیں بہت غلط تھا۔ میں واپس آنا چاہتا ہوں۔‘‘
 ابا جان نے وہی پرانی محبت بھری ہنسی ہنسی، جس میں شفقت اور دعا تھی: ’’بیٹا! گھر کبھی بند نہیں ہوتا۔ سایہ اب بھی تیرے انتظار میں ہے۔ واپس آ جا۔‘‘
 احمد کے آنسو بہنے لگے۔ سرفراز نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔
 اس رات، ٹھنڈی خاموش ہوا میں احمد نے پہلی بار دل کے اندر ایک حقیقی سکون محسوس کیا۔ ابا جان کا سایہ، جو احمد نے کھو دیا سمجھا تھا، اصل میں کبھی گیا ہی نہ تھا۔
 ماں باپ کی محبت، ان کی دعائیں، کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ ان کے بغیر دنیا میں سب کچھ ادھورا ہے۔ ان کا احترام، ان کی قدر کرنا انسان کی اپنی روح کی سلامتی ہے۔
 چھاؤں کے نیچے رہ کر کبھی کسی نے دھوپ محسوس نہیں کی۔ اور جب انسان پلٹتا ہے، تو وہ سایہ، پہلے سے زیادہ محبت کے ساتھ، بانہیں پھیلائے منتظر ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK