’’اللہ بھلا کرے میری بہو کا، اُس نے مجھے بالکل مختلف انداز سے سوچنے کی طرف مائل کیا کہ رمضان المبارک دراصل ہماری تربیت کا مہینہ ہے۔
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 12:13 PM IST | Nazir Fatima | Mumbai
’’اللہ بھلا کرے میری بہو کا، اُس نے مجھے بالکل مختلف انداز سے سوچنے کی طرف مائل کیا کہ رمضان المبارک دراصل ہماری تربیت کا مہینہ ہے۔
’’بھئی، ہم تو رمضان کے مہینے میں اپنا دسترخوان وسیع کر لیتے ہیں۔ سحر و افطار میں یہ بھرے بھرے دسترخوان ہوتے ہیں ہمارے، ہر چیز دستر خوان پر موجود ہوتی ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ اِس مہینے میں دسترخوان وسیع کرنے پر بھی ثواب ملتا ہے۔‘‘ نائلہ نے افطاری کے لئے اپنے بھرے دسترخوان کو اطمینان بھری نظروں سے دیکھا اور پھر ایک نظر اپنی ساس کے پاس بیٹھی اپنی ہمسائی خالہ صابرہ کو دیکھا۔ اُنہیں نائلہ کی ساس نے آج اپنے ہاں افطار کی دعوت دی تھی۔ خالہ صابرہ نائلہ کی بات سن کر دھیرے سے مسکرا دیں۔
’’آج افطار میں اتنا کچھ تھا مگر آپ نے دیکھا خالہ صابرہ نے کتنا کم کھایا بلکہ کچھ چیزوں کو تو اُنہوں نے چکھا تک نہیں۔‘‘ رات کو نائلہ اپنی ساس کو دوا دینے آئی تو جیسے گلہ کیا۔
’’ہاں دیکھا تھا۔ پہلے تو صابرہ کے ہاں بھی رمضان کے مہینے میں کیا کیا پکوان نہیں بنتے تھے مگر جب سے اُس کی بہو آئی ہے، سب کچھ بدل گیا ہے۔‘‘
نائلہ کی ساس نے بات مکمل کرکے پانی کے ساتھ دوا نگلی۔
’ہاں، ہاں! یاد ہے، پچھلے سال ہم اِن کے ہاں افطار پر گئے تھے تو دسترخوان پر گِن کے چار چیزیں تھیں۔‘‘ نائلہ کو بھی یاد تھا کہ پچھلے سال خالہ صابرہ کے ہاں افطار پر صرف کھجور، دہی بڑے، فروٹ چاٹ اور پکوڑے ہی تھے، جبکہ پینے کے لئے سادہ پانی اور سکنجبین رکھی گئی تھی۔ جواباً ساس نے اثبات میں سَر ہلایا۔
’’مجھے تو لگتا ہے، اِن کی بہو بہت کنجوس ہے۔‘‘ نائلہ نے رائے دی۔
’’ہاں، مجھےبھی لگتا ہے کہ اُس نے صابرہ کے گھر، بیٹے اور بیٹے کی ساری کمائی پر قبضہ کرلیا ہے۔ صابرہ کو شاید ہر معاملے ہی سے بے دخل کردیا ہے۔ مَیں نے اتنی بار اشارے کنایوں میں اُس کی بہو کے بارے میں پوچھا ہے، مگر وہ تو آگے سے اُس کی تعریفوں کے پُل باندھ دیتی ہے۔‘‘ نائلہ کی ساس کے لہجے میں خدشات بول رہے تھے۔
’’دیکھ لیں امی! آپ کو کتنی اچھی بہو ملی ہے، جو ہر کام آپ کے مشورے سے کرتی ہے۔‘‘ نائلہ نے شرارت سے کہا تو اُس کی ساس مسکرا دیں۔
’’کسی دن جاؤں گی، صابرہ کی طرف تو اُس سے ٹھونک بجا کر پوچھوں گی کہ آخر وہ مجھ سے کیا چھپا رہی ہے۔ دیکھ لینا سب اُگلوا لوں گی۔‘‘ بالآخر نائلہ کی ساس یہ کہتے ہوئے سونے کا ارادہ باندھ کے لیٹ گئیں۔
دو چار روز گزرے تو صابرہ افطار کی ٹرے لئے چلی آئی۔ نائلہ نے ٹرے سے کپڑا ہٹایا، لوازمات پر ایک نظر ڈالی۔ مبہم سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی ساس کو دیکھا اور ٹرے لئے کچن میں چلی آئی۔ افطار کے نام پر فروٹ چاٹ، پکوڑے اور کھجوریں ہی تھیں۔
’’اللہ! اب کوئی اتنا بھی کنجوس نہ ہو۔‘‘ نائلہ نے لوازمات اپنے برتنوں میں نکالتے ہوئے خود کلامی کی۔
’’صابرہ! آج ایک بات سچ سچ بتانا.... کہیں تمہاری بہو نے تمہیں ہر چیز سے بےدخل تو نہیں کر دیا؟‘‘ نائلہ کی ساس کی دل کی بات آخر ہونٹوں پر آہی گئی۔ ’’تمہیں ایسا کیوں لگا؟‘‘ صابرہ مسکرائی۔
’’بہت سی باتیں ہیں مگر ایک یہی دیکھ لو کہ بہو کے آنے سے پہلے تمہارے ہاں سحری و افطاری میں کتنی چیزیں بنتی تھیں اور اب ایسے جیسے کسی غریب کا دسترخوان ہو۔‘‘
نائلہ کچن میں کھڑی سن رہی تھی۔ اور اب اُس کی حس ِ سماعت صابرہ خالہ کے جواب کی منتظر تھی۔ ’’نہیں بہن! میری بہو نے ہر چیز پر قبضہ نہیں کیا بلکہ میرے سوچنے اور دیکھنے کا انداز بدل دیا ہے۔‘‘ صابرہ خالہ کی آواز اُبھری۔ ’’کیا مطلب....؟‘‘ نائلہ کی ساس حیران تھیں۔
’’رمضان المبارک میں دسترخوان وسیع ہونا چاہئے، رمضان میں کسی چیز کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا، جتنا چاہو، خرچ کرو، اللہ اور دیتا ہے، یہ بابرکت مہینہ ہے، کھلے ہاتھ سے خرچ کرو.... یہ اور اس قسم کے بے شمار جملے مَیں نے بھی سُن رکھے تھے اور اُن پر عمل بھی کرتی تھی مگر صرف اپنی ذات یا اپنے خاندان کی حد تک۔‘‘ صابرہ سانس لینے کو رُکی۔
’’تو اِس میں بُرا کیا ہے؟‘‘ کچن میں کھڑی نائلہ کے دل میں یہ سوال اُبھرا ہی تھا کہ اُس کی ساس نے یہ سوال پوچھ لیا۔
’’اللہ بھلا کرے میری بہو کا، اُس نے مجھے بالکل مختلف انداز سے سوچنے کی طرف مائل کیا کہ رمضان المبارک دراصل ہماری تربیت کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم اپنے نفس پر قابو پائیں اور صرف اپنی ذات ہی کے لئے نہیں بلکہ اُن لوگوں کے لئے بھی کچھ کریں، جو مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ جنہیں زندگی کی آسائشیں اور نعمتیں میسر نہیں۔ زندگی کی نعمتوں میں ایک بڑی نعمت خوراک ہے تو جو خوراک ہم اپنے دسترخوان پہ سجاتے ہیں، اگر اُس کا کچھ حصہ ناداروں میں بھی بانٹ دیا جائے تو درحقیقت یہی عمل رزق کی فراوانی کا سبب بنے گا۔ نہ کہ صرف اپنے اور اہل ِ خانہ کے لئے طرح طرح کے لوازمات سے دسترخوان سجا لیا جائے اور جو اشیاء کھانے سے بچ جائیں، اگلے روز ضائع کر دی جائیں۔ دسترخوان وسیع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دسترخوان پر سجی نعمتوں کو محروم لوگوں کے دسترخوان تک پہنچانے کی سعی کی جائے۔‘‘ نائلہ ایک لمحے کو تھم سی گئی۔ وہ کچن سے نکل کر دونوں کے قریب آگئی کہ اِس طرح تو اُس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ اُس کی ساس بھی یک ٹک خاموش بیٹھی تھیں۔
’’میری بہو ہر سال رمضان کے شروع میں اپنی حیثیت کے مطابق چار پانچ تنگ دست گھروں میں پورے ایک مہینے کا راشن پہنچا دیتی ہے تاکہ وہ سحری اور افطاری میں پیٹ بھر کر کھا سکیں۔ میرا زاویۂ نظر بدلا تو مَیں نے بھی اِس کام میں اُس کا ساتھ دینا شروع کر دیا ہے۔ اب ہم رمضان کے علاوہ بھی کچھ لوگوں کو خاموشی سے راشن پہنچا دیتے ہیں۔ میں تمہیں یہ سب شاید کبھی نہ بتاتی۔ مگر صرف اِس لئے بتا دیا کہ ایک تو تمہاری، میری بہو کے حوالے سے بدگمانی دُور ہو جائے۔ دوم، یہ کہ تم لوگ بھی صاحبِ حیثیت ہو تو اگر آج ہی سے اِس انداز سے سوچنا شروع کر دو تو کسی نہ کسی غریب کا بھلا ہو جائے گا۔‘‘صابرہ خالہ تو خالی برتن لے کر چلی گئیں۔ مگر.... نائلہ اور اُس کی ساس بہت دیر تک نظریں جھکائے بیٹھی رہیں۔
’’کہہ تو صابرہ ٹھیک ہی رہی تھی کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کا یہی تصور ہے کہ رمضان میں ہر طرح کی فضول خرچی کی چھوٹ مل جاتی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جو مہینہ رحمت و برکت کا ہے، اُسے ہم نے فضول خرچی، شکم سیری، دکھاوے اور نمود و نمائش کا مہینہ سمجھ لیا ہے۔‘‘ نائلہ کی ساس نے کافی دیر بعد ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔ ’’مجھے خالہ صابرہ کی بہو کا نقطۂ نظر سمجھ آگیا ہے امّی! اور مَیں اب اِن شاء اللہ، اپنی ذات اور خاندان کے ساتھ ساتھ دوسرے ضرورتمندوں کا خیال بھی رکھوں گی۔ اپنا دسترخوان ناداروں تک وسیع کروں گی۔‘‘ نائلہ نے بھی عزم سے کہا۔
’’اِن شاء اللہ....‘‘ نائلہ کی ساس جواباً بولیں تو دونوں طمانیت سے مسکرا دیں۔