پہنتے ہوتو پاجامہ پہنئے

Updated: January 17, 2022, 1:14 PM IST | Shakeel Ajaz | Akola

فیض احمد فیض کے لئے تعزیتی میٹنگ میں کسی نے کہا میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ فیض کا پاجامہ میرے پاس ہے... مَیں ایک بار ان کا مہمان ہوا تب انہوں نے پہننے کے لئے پاجامہ دیا تھا جو میرے ساتھ آگیا تھا.... اس بات سے تحریک پاکر یہ انشائیہ لکھا گیا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

فیض احمد فیض کے لئے تعزیتی میٹنگ میں کسی نے کہا میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ فیض کا پاجامہ میرے پاس ہے... مَیں ایک بار ان کا مہمان ہوا تب انہوں نے پہننے کے لئے پاجامہ دیا تھا جو میرے ساتھ آگیا تھا.... اس بات سے تحریک پاکر یہ انشائیہ لکھا گیا ہے گزشتہ برس درزیوں نے دو دفعہ ہمارے پاجامے چھوٹے کردیئے۔یعنی اتنے چھوٹے کہ ہماری باریک ٹانگیں ٹخنے سے کافی اوپر تک لکڑیوں کی طرح نظر آتیں۔ بچے سمجھتے سرکس کے بارہ فٹ اونچے آدمی کا سب سے چھوٹا بھائی ہے۔ گھر تک چھوڑنے کے لئے آتے۔ رات کو فلم دیکھ کر بھی گھر لوٹتے تو بعض دیندار یہی سمجھتے کہ بس نما ز پڑھ کر آرہے ہیں چنانچہ اب کی بار نہا یت قیمتی کپڑا خریدنے کے بعد سوچا کہ اسے اپنے ہی گھر میں سلوائیں۔ ہمارے یہاں بھی تو امی اور بھابی جان کپڑے سینے میں مشہور ہیں۔ دور دور کے رشتہ دار مفت میں کپڑے سلوانے بھیجتے ہیں اور جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ ’’بڑے بڑے درزیوں کے ہاں سلوالیا ، تمہارے ہاتھ کی بات کسی میں نہیں آتی۔ ‘‘  چنانچہ شام کے کھانے پر جب سارا گھر موجود تھا، ہم نے کپڑا دستر خوان پر رکھ دیا۔ کھانے کے بعد امی نے ہمارا ناپ لکھ لیا۔ ہم پہلے ہی درزیوں کے ستائے ہوئے تھے۔ اگلی صبح باہر جانے سے قبل احتیاطاً امی سے کہہ دیا کہ آپ نے جتنا ناپ لیا ہے اس سے دوانچ بڑا رکھئے گا، ہم چھوٹے پاجاموں سے عاجز آچکے ہیں۔ ان سے بات کرکے آنگن میں آئے تو بھابھی جان جھاڑودے رہی تھیں۔ خیال آیا امی کو بھولنے کی بڑی عادت ہے اس لئے بھابھی جان سے بھی تاکید کردی کہ دیکھیے پاجامہ اصل ناپ سے دوتین انچ بڑا رکھیے گا۔ صبح امی نے کپڑے پر نشان لگا کر دوانچ لمبا کردیا۔ بھابھی جان سینے بیٹھیں تو اس نشان سے بھی تین انچ آگے سے سلائی کی ۔ شام کو ہم نے پہن کر دیکھا تو کمر بند والا سرا کھینچ کھینچ کر خوب اوپر یعنی پورا پیٹ ڈھک لینے کے بعدبھی ہمارے پنجے ، پاجامہ سے  باہر نکل نہ سکے۔ اسے پہن کر گھر میں چند قدم چلے تو پنجے ، فرش کے لمس سے محفوظ تھے اور فرش بڑی اچھی طرح صاف ہورہا تھا۔ بھابھی جان نے اصرار کرکے دس منٹ چلوایا۔ سارے گھر کو ہنستا دیکھ کر ہم ناراض ہوئے اورامی اوربھابھی جان سے روہانسی صورت میں کہا کہ آپ دونوں نے اسے چھ انچ چھوٹا کردیجئے۔ فوراً عمل درآمد ہوا۔ دونوں نے مل کر اسے بارہ انچ چھوٹا کردیا۔ پاجامہ، گھٹنے اور ٹخنے کے درمیان آکر رک گیا۔ جیسے تھرما میٹر کا پارہ کسی ایک مقام پر ٹھہرجاتا ہے۔ کچھ بچوں کو اس پر فلم ’’شعلے‘‘ کے قیدی کی یادآگئی۔ ہم اسے پہن کر آنگن میں آئے تو سارا گھر ہنسی میں شرابور ، بھابھی جان ، البتہ بھائی جان کے لحاظ میں ہنس نہ سکیں فوراً کپڑے تبدیل کرنے کے بہانے حمام میں چلی گئیں۔ تھوڑی دیر بعد وہاں سے رونے کی آوازیں آئیں۔ امی نے گھبراکر دروازہ کھولا تو ہم سب نے دیکھا کہ پیٹ پکڑے زورزور سے ہنس رہی ہیں۔  پاجامہ ، رسوائی سے بچنے کا ذ ریعہ ہے۔ ہم پاجامے کے ہاتھوں رسوا ہوئے اورہمیں رستم کا خیال آیاجنہیں پاجامے ہی کے سبب شکست کھانی پڑی تھی۔ مسرور سے پانی کے نل پر ان کی لڑائی ہورہی تھی۔ رستم ان پر حاوی بھی ہورہے تھے۔ کئی دھواں دھار گھونسے جماچکے تھے کہ بے خیالی میں مسرور کا پاؤں رستم کے پاجامے میں پڑ گیا۔ جو زمین کے ذرات سے انٹرویولے رہا تھا۔ پاؤں پڑناتھا کہ جھٹکے سے کمربند کھلا اور نیفے میں چلا گیا۔ انہیں پتہ نہ چلا تھوڑی دیر بعد احساس ہوا کہ کوئی چیز جسم سے پھسل رہی ہے۔ ایک ہاتھ سے پاجامہ پکڑکر دوسرے سے لڑنے لگےلیکن پاجامہ قابو میں نہ آتا تھا۔ مجبوراً اسے دونوں ہا تھوں سے پکڑنا پڑا۔ اب مسرور نے گھونسوں کی وہ بارش کی کہ دیکھتے ہی بنی۔ آخر آخر میں مسرور بڑے اطمینان سے کبھی ان کی ناک پکڑتے کبھی کان کھینچتے۔ یہ خود ا تنے  غصہ میں تھے کہ آس پاس کھڑکیوں دروازوں پر عورتیں نہ ہوتیں تو اسی حالت میں دودوہاتھ کرلیتے۔ ہائے رے قسمت۔ ایک پاجامے کے ہاتھوں رسوا ہونا پڑا۔ اوراپنے گھر کے دروازے تک پاجامہ پکڑے، مار کھاتے کھاتے آنا پڑا۔ بعد میں بیوی سے بہت جھگڑا کیا کہ کمربند ذرا لمبا رکھنے میں تیراکیا جاتا ہے؟ کہتے ہیں بعد میں کئی روز تک ایک دو پاجامے پہن کر آتے اور جھگڑےکے لئے لوگوں کو خود اُکساتے رہے۔ لیکن اسی دن کمرے میں بیٹھے ٹوتھ برش سے کمربند کھینچنے کی کوشش کررہے ہوں گے۔ لیکن نیفہ میں پھنسا ہوکمربند بھی اچھی قسمت کی طرح ہے کہ ہاتھ آتے آتے نکل جاتا ہے۔ ایسے میں جی چاہتا ہے ہم کسی جادو سے چھوٹے ہوجائیں اور نیفہ میں گھس کر اس کم بخت کو دونوں ہاتھوں سے کھینچتے ہوئے باہر لائیں۔ خصوصاً ایسے نیفے کا کمر بند جو ہم خود پہنے ہوئے ہوں۔ کبھی کبھار بہت جان لڑانے ، کئی ترکیبیں استعمال کرنے کے بعد کمربند کے دوتین دھاگے ہاتھ لگتے ہیں۔ ہم کمالِ احتیاط سے ان دھاگوں کو پچکار کر کمربند کی گردن پکڑتے ہیں۔ پھر دوسری انگلی نیفے میں اس طرح ڈالتے ہیں کہ کمر بند کو اس کی خبر نہ ہو۔ اب اچانک حملہ کرکے اسے گردن سے پکڑ کر نیفے سے باہر لاتے ہیں۔ انتقامی جذبے سے سرشار ہوکر اتنا باہر کھینچتے ہیں کہ نہ صرف دوسری طرف سے اندر چلا جاتا بلکہ تھوڑی دیر بعد پورا کمربند ہمارے ہاتھوں میں آجاتا ہے۔    ہندوستان اور پاکستا ن میں کھدائی کے دوران کبھی عجیب و غریب چیزیں دریافت ہوتی ہیں ، کبھی کارآمد۔ لیکن پچھلے دنوں کھدائی کے بغیر ایک پاجامہ دریافت ہوا ہے۔ یہ عجیب وغریب تو نہیں عام پاجاموں جیسا ہے لیکن بہت کارآمد ہے۔ اسی لئے بہت سے لوگ اس پر اپنا حق جتا نے کے لئے کمربند کشی پر اترآئے ہیں۔ یہ پاجامہ فیض ؔکا ہے ۔ پاجامے کے بھی کیا نصیب کھلے ۔ شکر ہے کہ پاجامے کے لئے یہ چھینا جھپٹی فیضؔ کے انتقال کے بعد یعنی اس وقت شروع ہوئی جب انہوںنے اسے پہننا چھوڑ دیا۔ انتقال سے قبل ذرا سا بھی اشارہ مل جاتا کہ ان کے بعد پاجامے کو یہ شہرت ملنے والی ہے تو ممکن ہے خصوصی پاجامہ سلواتے۔ اوروں کا حال تو معلوم نہیں لیکن ہمارے ایک پڑوسی شاعر اس واقعے کے بعد اپنے پاجاموں پر خصوصی توجہ دینے لگے ہیں۔ پتہ نہیں لوگ فیضؔ کے پاجامے کو پہن کر زندگی کے کس شعبہ میں بہتر کارکردگی کی امید باندھے بیٹھے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK