کتنا کمیاب آدمی ہے، کتنا بسیارآدمی

Updated: January 03, 2022, 1:28 PM IST | Muhammad Rafi Ansari | Bhiwandi

’’اب یہ بات پایۂ تکمیل کو پہنچ رہی ہے کہ ’آدمی‘ کے لئے سب سے بڑا خطرہ خود ’ آدمی کی ذاتِ والا صفات ہے۔‘‘ سدّو بھائی نے حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے جب یہ بات کہی تو مجھ سے رہا نہ گیا ۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

’’اب یہ بات پایۂ تکمیل کو پہنچ رہی ہے کہ ’آدمی‘ کے  لئے سب سے بڑا خطرہ خود ’ آدمی کی ذاتِ والا صفات ہے۔‘‘ سدّو بھائی نے حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے جب یہ بات کہی تو مجھ سے رہا نہ گیا ۔ میں نے عرض کیا کہ’ حضور!آپ نے یہ بات کہہ کر مجھے واقعی ڈرادیا ہے۔ ویسے اس بات کا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے؟‘ بولے’ بہت سے شواہد ہیں۔ایٹم بم کا ظہور اور انسانی بم کا خروج اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔آدمی جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں انسان اتنی ہی سرعت سے کم ہوتے جارہے ہیں۔‘میں نے پھر پوچھا ’جناب! آدمیوں کی بھیڑ سے انسان کو تلاش کرنے کا کوئی آسان طریقہ بھی ہے ؟ ‘بولے ’ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ؟‘ میں نے عرض کیا کہ’ میں مردم شماری کے ساتھ ساتھ مردم شناسی کے طریقے کی بابت جاننا چاہتا ہوں‘۔ایک زور دار قہقہہ لگا کر کہنے لگے۔’یوں تو انسان کی تلاش کے بہت سے طریقے رائج ہیں۔ کچھ فرسودہ ہو چکے ہیں اور کچھ پژمردہ لیکن اس باب میںابتداء گھر سے ہو تو بہت اچھا۔ جس طرح خیرات گھر سے شروع ہوتی ہے اسی طرح انسان کی خیریت گھر ہی سے معلوم کی جائے تو اچھا۔‘
 یہ کام کس طرح انجام دیاجائے؟ کہنے لگے’ دیکھو!ایک گھر میں اگر چھوٹے بڑے دس لوگ ہوں تو ان میں سے کتنے فی الواقع ’انسان‘ ہیںیہ معلوم کیا جائے۔میں نے پوچھا ’یہ کیسے معلوم کریں گے بھلا! بولے‘فرض کیجئے کہ یہ کارِ نیک میں اپنے گھر سے شروع کررہا ہوں۔ تو میں اپنے ہمسائے کے افرادِ خانہ کا موازنہ اپنے اہلِ خانہ سے کروں گا۔یہ جانچ کس طرح ہوگی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’یہ جانچ بہت آسان ہے۔اخلاص و مروت اور تہذیب و شرافت کی بنیادپر اپنا اور ان کا موازنہ شفافیت اور غیر جانب دار ہو کر کیا جائے گا تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ یہ نتائج خود بتادیں گے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔پھر اس کے بعداس اصول پر عمل درآمد کر کے وسیع پیمانے پر آدمیوں میں سے انسانوں کی چھٹنی کی جاسکتی ہے۔
 باتوں کا سلسلہ طویل ہوا تو کہنے لگے بنظرِ غائر دیکھیں تو آدمی کی دو قسمیں ہیں۔اچھا آدمی اورخراب آدمی۔اب اس میں بھی درجے ہیں۔سولہ آنے اچھا آدمی، بارہ آنے اچھا آدمی ، آٹھ آنے اچھاآدمی، چار آنے اچھا آدمی وغیرہ۔ خراب آدمی کی درجہ بندی بھی اس نہج پر ہوتی ہے۔پھر سدّو نے مجھ سے پوچھا کہ’ جناب۱ کیا تُم جانتے ہو کہ غیر آدمی (یعنی جو آدمی ہوکر بھی انسان نہ ہو)کی تعمیر و تشکیل میں کس وصف کو اولیت حاصل ہے؟ ‘میں نے ان کے اس سوال کے جواب میں ’نہیں‘کہا تو بولے۔’دروغ کو‘ یہ پہلی اینٹ ہوتی ہے۔جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے اس دروغ کو بھی فروغ حاصل ہوتا جاتا ہے۔کیا دروغ گو کی بھی درجہ بندی کی جاسکتی ہے؟ میرے پوچھنے پر کہنے لگے کہ ’بے شک دروغ گوکی بھی کئی اقسام ہیں۔ جھوٹ بول کر ڈر جانے والوں کے مقابلے میں جھوٹ بول کر سادہ لوحوں کو ڈرانے والے بہادر کہلاتے ہیں۔اس نوع کے جھوٹے بعض جمہوری ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔
 میں نے بڑے مودبانہ انداز میں ان سے دریافت کیا ’حضور! جھوٹ بولنے میں جن لوگوں کو کمال حاصل ہے کیا اُن میں شعراء کا بھی شمار ہوتا ہے؟، یہ سن کر ایک بار پھر زور دار قہقہہ لگایا۔کہنے لگے اس باب میںقصیدہ گویوں کا کوئی ہاتھ نہیں پکڑسکتا۔جنابِ حالیؔ نے اپنی نظم ’مسدّس‘ میں ان کا ذکر کر کے راست گویوں کو خبردار کیا ہے، تفصیل میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں۔‘قصیدہ گویوں کے بعد غزل گو شعراء بھی اس فہرست میں بلند مقام کے حق دار قرار پاتے ہیں۔ مثالوں کی ضرورت نہیں شاعری کے دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں۔
 پھر انھوں نے ’جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں ‘ کے دلخراش موضوع پر راست گوئی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ کچھ سننے والے عش عش کر اُٹھے اور کچھ غش کھاتے کھاتے بچے۔اپنے خطاب میں انھوں نے از آدم تا ایں دم غلط بیانی سے کام لینے اور کام نکالنے والے ان بڑے آدمیوں کا ذکر کیا  جنہوں نے اپنے اس وصفِ خاص کی بدولت ’انسانوں ‘ پر شان سے حکمرانی کی ہے۔اب مجھے ان کی باتیں دلچسپ معلوم ہونے لگی تھیں ۔ میں نے ان سے رازدارانہ انداز میں دریافت کیاکہ کیا وہ ایسے چند حکمرانوں کے نام بتاسکتے ہیں؟پوچھا کیسے حکمرانوں کے؟ میں نے عرض کیا ’جن کی غلط بیانی کو بیان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔‘میری بات سن کر کچھ دیر خاموش رہے۔پھر بولے’کہو تو ماضی کے حکمرانوں کا نام گنا دوں،لیکن جہاں تک سوال موجودہ فرمانرواؤں کے نامِ نامی اسم گرامی کا ہے ،تو یہ کام خطرے سے خالی نہیں۔ان دنوں جاسوسی اور گرفتاری کے معاملے بہت عام ہیں۔  
 میں نے بھی معاملے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اس ذکر کو ٹال دیااور ان سے پوچھا کہ’ حاکموں کی دروغ گوئی کا فوری طور پر کیا نتیجہ سامنے آتا ہے؟‘ میرے پوچھنے پر بولے’فوری طور پر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے رعیت بہت خوش ہوتی ہے پھر رفتہ رفتہ وہ بھی دروغ یعنی جھوٹ کی کشش سے متاثر ہوکر اس میں مبتلا ہونے لگتی ہے‘۔’اس کا کیا اثرات ہوتے ہیں ؟‘ اس سوال کے جواب میں بولے’اس جھوٹ کی فرمانروائی ذرائع ابلاغ کو اپنے اثر میں لے کر سچ کووسیع پیمانے پر بے اثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔جس کے بڑے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔’ایسے عالم میں سچ کے طرف داروں کا کیا ردِ عمل ہوتا ہے؟‘ میرے اس سوال کے جواب میں بولے جناب ! از آدم تا ایں دم سچ کا ایک ہی انجام ہوتا آیا ہے۔وہ بے چارہ ( ہر بار)پچھڑ جاتا ہے۔ جیسے خرگوش اور کچھوے کی دوڑ میں کچھوا پچھڑ جاتا ہے۔’مگر انجامِ کار جیت تو کچھوے کی ہوتی ہے‘۔میں نے کہا تو بولے’ اب دیر میں اندھیر کا زمانہ ہے! اب پرانی کہانیوں کا اختتام بھی روایتوں سے الگ ہونے لگا ہے برخوردار!  ‘ ’پھر اس کا کیا علاج ہے؟‘ میں نے تاسف بھرے لہجے میں پوچھا توبولے ’ اس کا واحد علاج بالترتیب صبرِ جمیل ،فکرِ عدیل اور ذکرِ حبیب میں ہے۔‘ان کے اس فلسفیانہ جواب پر میں اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ پھر میں نے پوچھا کہ سدّو بھائی ! ایک بات بتائیے، آدمی اگر انسان بننا چاہے تو(بے چارہ) کیا کرے؟ ‘کہنے لگے ’ آدمی کو انسان بننے سے روکنے میں خانگی وجوہات نسبتاً زیادہ آڑے آتی ہیں۔دانشور پرائے شعلوں کے مقابلے میں ’آتشِ گُل ‘ سے خوف زدہ رہتے ہیں۔اگر اس پر قابو پالیا جائے تو کیا بات ہے۔جو لوگ اپنا بیشتر وقت بیرونِ خانہ صرف کرتے ہیں ،اُن کا ذہنی افق ان کے دل و دماغ کی طرح وسیع ہوتا ہے۔ ایک انسان دوست شاعر نے کیا خوب کہاہے۔ گھٹے اگر تو بس اِک مشتِ خاک ہے انساں ؍ بڑھے تو وسعتِ کونین میں سما نہ سکے...مجھے سدّو بھائی کے اس جواب سے واقعی خوشی ہوئی۔ اب میں نے ان سے ایک عجیب سا سوال کیا ۔ میں نے پوچھا ’یہ بتائیے ،دُنیا میں کہاں(یعنی کس جگہ) آدمیوں میں انسانوں کا تناسب زیادہ ہے؟ کہنے لگے کہ میاں ! یوں تو اس کی پیمائش آسان نہیں۔البتہ ایک بات ہے۔اِس کا کچھ کچھ اندازہ حکمرانوں کی کارسازیوں اور کارستانیوں کو ملاحظہ فرماکر کیا جاسکتا ہے۔‘ میرے پے بہ پے سوالوں سے گھبرا کر اب وہ اکتا سے گئے تھے۔ اُٹھنے لگے تومیں نے راستہ روک کر التجا کی کہ ’حضور گستاخی معاف، جاتے جاتے ازراہِ کرم اتنا بتا دیں کہ آپ کا شمار آدمی میں ہوتا ہے یا انسان میں؟یعنی آنجناب انسان کے معیار پر کس قدر پورا اترتے ہیں؟  ایک گہری سانس لی اور کچھ توقف کے بعد بولے ’میں ایک شریف آدمی کی طرح اس باب میں تھورا سا بے ایمان واقع ہوا ہوں۔‘ تو کیا شریف آدمی کسی قدر بے ایمان بھی ہوتا ہے؟ میری یہ بات سن کر کچھ دیر چپ رہے پھربولے’حالات و واقعات تو اسی بات کی شہادت دیتے ہیں پتّر ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK