فلم ’کشمیر فائلز‘ کو تاریخ بتانے اور تاریخ بنانے کی کوشش کےپس پشت مقاصد کیا ہیں؟

Updated: March 29, 2022, 2:40 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai

وزیراعظم اوروزیرداخلہ سمیت بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ تک اس فلم کی تشہیر میں حصہ لیتے ہوئے نظر آرہے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ زیر نظر کالم میں انقلاب نے انہی وجوہات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے

In Delhi, BJP workers staged a protest demanding tax evasion of film files from Kejriwal government..Picture:INN
دہلی میں بی جے پی کے کارکنان نے کیجریوال حکومت سے فلم ’کشمیر فائلز‘ کو ٹیکس فری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ کیا ۔ تصویر: آئی این این

عام طور پر کسی فلم کی تشہیر اس فلم کے پروڈیوسر اور فلم کی یونٹ کے  دوسرے فنکار کرتےہیں کیونکہ فلم کی کامیابی سے ان کے مفاد وابستہ ہوتے ہیں۔  اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ فلم کی تشہیر وہی لوگ کرتے ہیں جن سے ان کے مفاد  وابستہ ہوتے ہیں۔اس کسوٹی پر فلم ’کشمیر فائلز‘ کے تعلق سے بی جے پی اور اس کی حکومتوں کے رویے کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ اس فلم کی تشہیر کی ذمہ داری جس طرح  وزیراعظم اور وزیرداخلہ سمیت ان کی کابینہ کے بیشتر اراکین  اور بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ  نے سنبھال رکھی ہے، وہ  ہر سوچنے سمجھنے والے شخص کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے۔ اسی طرح ان ریاستوں میں جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے، یہ کام پارٹی نے سنبھال رکھی ہے۔حالانکہ کچھ ایسی فلمیں بھی ریلیز ہوتی ہیں جو عوام کو کسی خاص زاویئے سے اپیل کرتی ہیں تو عوام کی جانب سے اس کی زبانی تشہیر بھی ہوتی ہے لیکن ’کشمیر فائلز‘ کے تعلق سے یہ بات نہیں کہی جاسکتی کیونکہ اس کی تشہیر عوامی سطح پر قطعی نہیں کی جا رہی ہے۔ فلم کے تئیں بی جے پی کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں  وزیراعظم مودی نے کشمیر فائلز پر گفتگو کی۔ اپنے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فلم میں جو دکھایا گیا ہے، اسے اب تک دبانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس فلم کے ذریعہ سچ کو باہر لایا گیا ہے۔ انہوں نے صرف اتنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اس طرح کی فلمیں مزید بننی چاہئیں۔ ’اس طرح کی فلموں‘ کی انہوں نے وضاحت نہیں کی کیونکہ اس سے قبل جب وہ گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، وہاں کے فسادات کے موضوع پربنی ایک فلم ’پرزانیہ‘ کو انہوں  نے اپنی ریاست میں نمائش تک کی اجازت نہیں دی تھی۔   
 سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی اور مودی حکومت کو اس فلم کی تشہیر سے کیا فائدہ ہے؟ اور وہ ایساکیوں کررہی ہے؟ دراصل  بی جے پی کو ایسا لگتا ہے کہ اگر اسے اقتدار پر دیر تک قابض رہنا ہے تواس کیلئے اسے مختلف حربے آزمانے پڑیں گے۔ یہ فلم بھی اس کیلئے ایک حربہ ہی ہے جس کی مدد سے وہ ایک ساتھ تین اہداف پر نشانہ لگارہی ہے۔ اس فلم کی مدد سے بی جےپی اور اس کے لیڈران کی پہلی کوشش سماج کو پولرائز کرنا ہے جو انتخابی پولرائزیشن سے تھوڑی آگے کی چیز ہے۔  ان کا خیال ہے کہ سماج میں جس قدر انتشار پیدا ہوگا، اسی تناسب میں اسے انتخابی فائدہ ہوگا۔کشمیری پنڈتوں کی حالت زار بتاکر اور ان کے خلاف مظالم کی ’تاریخ‘ بتاکر بی جے پی عوام کے درمیان دوسری جماعتوں کو مورد الزام ٹھہرانا چاہتی ہے ۔اسی طرح اس فلم کے ذریعہ بی جے پی کی تیسری کوشش اپنی اُس سیاسی کوشش کو درست ٹھہرانا ہے جس  کے تحت اس نے کشمیر سے دفعہ ۳۷۰؍ کا خاتمہ کیا تھا۔ حالانکہ دیکھا جائے تو  اسے فی الحال اس کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہونی چاہئے لیکن وہ بہت دور کی سوچتی ہے۔ اس کو ایسا لگتا ہے کہ اگر ماضی میں بھی یہ موضوع اُٹھا تو عوام میں اس کی سوچ کی حمایت کرنےوالوں کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہئے۔ یہی سبب ہے کہ بی جے پی اس فلم کے واقعات کو تاریخ بتانے پر بضد ہے۔اسی کےساتھ اس کی کامیابی سے ایک تاریخ بھی مرتب کرنے کیلئے  وہ کوشاں نظر آتی ہے۔   خیال رہے کہ اس فلم میں بتائی گئی کہانی کو بی جے پی کی طرف سے سچی کہانی کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، حالانکہ خود فلم ساز نے فلم کے آغاز ہی میں یہ کہہ کر اپنا دامن بچا لیا ہے کہ اس کے کردار اور واقعات فرضی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن چونکہ اس کہانی سے سماج میں نفرت کی ایک لہر اٹھنے کی امید ہے، اسلئے اسے سچ بتاکر اس کی تشہیر کی جارہی ہے۔  دوسری طرف سماج کا وہ دانشور طبقہ جو کشمیر اور وہاں کے حالات سے واقف ہے، اس فلم کو بی جے پی کا پروپیگنڈہ  قرار دے رہا  ہے۔ ان میں سب سے اہم نام ملک کی تفتیشی ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دولت کا ہے جنہوں نے اسے ایک پروپیگنڈہ فلم بتایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فلم میں حقیقت کم، فسانہ زیادہ ہے جس کا مقصد سماج میں انتشار پیدا کرنا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK