سرسید نے کیا فرمایا تھا غیر ضروری رسوم و رواج کے بارے میں؟

Updated: October 17, 2022, 2:02 PM IST | Mumbai

آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ’تہذیب الاخلاق‘‘ کے بانی سرسید احمد خان کے یوم ولادت کی مناسبت سے یہ مضمون ملاحظہ کیجئے جو ’’مضامین سرسید‘‘ سے ماخوذ ہے

Sir Syed Ahmad Khan: Born: 17 October 1817 and 27 March 1898 .Picture:INN
سرسید احمد خان: ولادت: ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۱۷ء چ ۲۷؍ مارچ ۱۸۹۸ء۔ تصویر:آئی این این

رسومات جو مقرر ہوئی ہیں، غالباً اس زمانہ میں جب کہ وہ مقرر ہوئیں، مفید تصور کی گئی ہوں مگر اس بات پر بھروسہ کرنا کہ در حقیقت وہ ایسی ہی ہیں محض غلطی ہے۔ ممکن ہے کہ جن لوگوں نے ان کو مقرر کیا ان کی رائے میں غلطی ہو، ان کا تجربہ صحیح نہ ہو یا ان کا تجربہ نہایت محدود اور صر ف چند اشخاص سے متعلق ہویا ا س تجربہ کا حال صحیح صحیح بیان ہوا ہو۔ یا وہ رسم اس وقت اور اس زمانہ میں مفید ہو یا وہ رسم جن حالت پر قائم کی گئی تھی، کسی شخص کی وہ حالت نہ ہو۔ غرض کہ رسموں کی پابندی میں مبتلا رہنا ہر طرح پر نقصان کا باعث ہے۔ اگر کوئی نقصان نہ ہو تو یہ نقصان تو ضرور ہے کہ آدمی کی عقل اور دانش اور جودتِ طبع اور قوت ایجاد باطل ہو جاتی ہے۔  یہ بات بے شک ہے کہ کسی عمدہ بات کی ایجاد کی لیاقت ہر ایک شخص کو نہیں ہوتی، بلکہ چند دانا شخصوں کو ہوتی ہے، جن کی پیروی اور سب لوگ کرتے ہیں لیکن رسم کی پابندی اور اس قسم کی پیروی میں بہت بڑا فرق ہے۔ رسومات کی پابندی میں اس کی بھلائی و برائی ومفید و غیر مفید و مناسب حال و مطابق طبع ہونے یا نہ ہونے کا مطلق خیال نہیں کیا جاتا اور بغیر سوچے سمجھے اس کی پابندی کی جاتی ہے اور دوسری حالت میں بوجہ پسندیدہ ہونے کے اور اس لیے دوسری حالت میں جو قوتیں ترقی کی انسان میں ہیں وہ معدوم و مفقود نہیں ہوتیں الا پہلی حالت میں معدوم و نابود ہو جاتی ہیں۔  رسم کی پابندی ہر جگہ انسان کی ترقی کی مانع و مزاحم ہے۔ چنانچہ وہ پابندی ایسی قوت طبعی کے جس کے ذریعہ سے بہ نسبت معمولی باتوں کے کوئی بہتر بات کرنے کا قصد کیا جاوے برابر رہتی ہے اور انسان کی تنزلِ حالت کا اصلی باعث ہوتی ہے۔ اب اس رائے کو دنیا کی موجودہ قوموں کے حال سے مقابلہ کرو۔ تمام مشرقی یا ایشیائی ملکوں کا حال دیکھو کہ ان ملکوں میں تمام باتوں کے تصفیہ کا مدار رسم و رواج پر ہے۔ ان ملکوں میں مذہب اور استحقاق اور انصاف کے لفظوں سے رسموں کی پابندی مراد ہوتی ہے۔ پس اب دیکھ لو کہ مشرقی یا ایشیائی قوموں کا جن میں مسلمان بھی داخل ہیں کیسا ابتر اور خراب اور ذلیل حال ہے۔  ان مشرقی یا ایشیائی قوموں میں بھی کسی زمانہ میں قوت عقل اور جو دت طبع اور مادۂ ایجاد ضرور موجود ہوگا جس کی بدولت وہ باتیں ایجاد ہوئیں جو اب رسمیں ہیں اس لیے کہ ان کے بزرگ ماں کے پیٹ سے تربیت یافتہ اور حسن معاشرت کے فنون سے واقف پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ یہ سب باتیں انہوں نے اپنی محنت اور علم اور عقل اور جودت طبع سے ایجاد کی تھیں اور انہی وجوہات سے دنیا کی نہایت بڑی اور قوی اور مشہور قوموں سے ہو گئے تھے۔ مگر اب ان کا حال دیکھو کہ کیا ہے؟ اسی رسومات کی پابندی سے ان کا مآل یہ ہوا ہے کہ اب وہ ایسی قوموں کے محکوم ہیں اور ایسے لوگوں کی آنکھوں میں ذلیل ہیں جن کے آباء و اجداد اس وقت جنگلوں میں آوارہ پڑے پھرتے تھے، جس وقت ان قوموں کے آباء و اجداد عالی شان محلوں میں رہتے تھے ۔ اس کا سبب یہی تھا کہ اس زمانہ میں ان قوموں میں رسم کی پابندی قطعی نہ تھی اور جو کسی قدر تھی تو اس کے ساتھ ہی آزادی اور ترقی کا جوش ان میں قائم تھا۔ تواریخ سے ثابت ہے کہ ایک قوم کسی قدر عرصہ تک ترقی کی حالت پر رہتی ہے اور اس کے بعد ترقی مسدود ہو جاتی ہے۔ مگر یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ ترقی کب مسدود ہوتی ہے۔ یہ اسی وقت مسدود ہوتی ہے جب کہ اس قوم میں سے وہ قوت اٹھ جاتی ہے جس کے سبب سے نئی نئی باتیں پیدا ہوتی ہیں اور ٹھیک ٹھیک مسلمانوں کا اس زمانہ میں یہی حال ہے بلکہ میں نے غلطی کی کیوں کہ ترقی مسدود ہونے کا زمانہ بھی گزر گیا اور تنزل اور ذلت و خواری کا زمانہ بھی انتہا درجہ کو پہنچ گیا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ بات کہے کہ یورپ کی قوموں میں بھی جو اس زمانہ میں ہر قسم کی ترقی کی حالت میں شمار ہوتی ہیں، بہت سی رسمیں ہیں اور ان رسموں کی نہایت درجہ پر پابندی ہے تو وہ قومیں کیوں ترقی پر ہیں؟   یہ اعتراض سچ ہے اور یورپ میں رسموں کی پابندی کا نہایت نقصان ہے اور اگر اس کی اصلاح نہ ہوتی رہے گی جیسے کہ اب تک ہوتی رہتی رہی ہے تو ان کو بھی بدنصیبی کا دن پیش آوےگا مگر یورپ میں اور مشرقی ملکوں کی پابندیٔ رسومات میں ایک بڑا فرق ہے۔ یورپ میں رسومات کی پابندی ایک عجیب اور نئی بات ہونے کو تو مانع ہے مگر رسومات کی تبدیلی کا کوئی مانع نہیں۔ اگر کوئی شخص عمدہ رسم نکالے اور سب لوگ پسند کریں، فی الفور پرانی رسم چھوڑ دی جائیگی اور نئی رسم اختیار کر لی جاوےگی اور اس سبب سے ان لوگوں کے قوائے عقلی اور حالت تمیز اور قوت ایجاد ضائع نہیں ہوتی۔ تم دیکھو کہ یہ پوشاک جو اب انگریزوں کی ہے ان کے باپ دادا کی نہیں ہے، بالکل اپنی پوشاک بدل دی ہے۔ ہر درجہ کے لوگوں کا جو مختلف لباس تھا اس رسم کو چھوڑ دیا گیا ہے اور ضرورسمجھا گیا ہے کہ ہر شخص ایک سا مثل اوروں کے لباس پہنے۔ اس وقت کوئی رسم یورپ میں ایسے درجہ پر نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی رسم اس کے بر خلاف مگر اس سے عمدہ ایجاد کرے اور لوگ اس پر اتفاق کریں اسی وقت تبدیل نہ ہو سکے اور اسی تبدیلی کے ساتھ ان کی ترقی بھی ہوتی جاتی ہے۔ پس یہ تصور کرنا کہ یورپ بھی مثل ہمارے مگر دوسری قسم کی رسموں میں مبتلا ہے، محض نادانی اور نا واقفیت کا سبب ہے۔  انگلستان میں اس زمانہ سے پہلے مختلف درجوں کے لوگوں اور مختلف ہمسایوں کے لوگ اور مختلف پیشہ والے گویا جدا جدا دنیا میں رہتے تھے یعنی سب کا طریقہ اور عادت جدا جدا تھی۔ اب وہ سب طریقے اور عادتیں ہر ایک کی ایسی مشابہ ہو گئی ہیں کہ گویا سب کے سب ایک ہی محلّہ کے رہنے والے ہیں۔ انگلستان میں بہ نسبت سابق کے اب بہت زیادہ رواج ہو گیا ہے کہ لوگ ایک ہی قسم کی تصنیفات کو پڑھتے ہیں اور ایک ہی سی باتیں سنتے ہیں اور ایک ہی سی چیزیں دیکھتے ہیں اور ایک ہی سے مقاموں میں جاتے ہیں اور یکساں باتوں کی خواہش رکھتے ہیں اور یکساں ہی چیزوں کا خوف کرتے ہیں اور ایک ہی سے حقوق اور آزادی سب کو حاصل ہے۔ اور ان حقوق اور آزادیوں کے قائم رکھنے کے ذریعے بھی یکساں ہیں اور یہ مشابہت اور مساوات روز بروز ترقی پاتی جاتی ہے۔ اور تعلیم و تربیت کی مشابہت اور مساوات سے اس کو اور زیادہ وسعت ہوتی ہے۔  تعلیم کے اثر سے تمام لوگ عام خیالات کے اور غلبہ اور رائے کے پابند ہوتے جاتے ہیں اور جو عام ذخیرہ حقائق اور مسائل اور رایوں کا موجود ہے اس پر سب کو رسائی ہوتی ہے۔ آمد و رفت کے ذریعوں کی ترقی سے مختلف مقاموں کے لوگ مجتمع اور شامل ہوتے ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جاتے ہیں اور اس سبب سے بھی مشابہت مذکور ترقی پاتی ہے۔ کارخانوں اور تجارت کی ترقی سے آسائش اور آرام کے وسیلے اور فائدے زیادہ شائع ہوتے ہیں اور ہر قسم کی عالی ہمتی بلکہ بڑی سے بڑی اولوالعزمی کے کام ایسی حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ہر شخص ان کے کرنے کو موجو د و مستعد ہوتا ہے، کسی خاص شخص یا گروہ پر منحصر نہیں رہا ہے، بلکہ اولوا لعزمی تمام لوگوں کی خاصیت ہوتی جاتی ہے اور ان سب پر آزادی اور عام رائے کا غلبہ بڑھتا جاتا ہے اور یہ تمام امور ایسے ہیں جیسے انگلستان کے تمام لوگوں کی رائیں اور عادتیں او ر طریق زندگی اور قواعد معاشرت اور امورات رنج و راحت یکساں ہوتے جاتے ہیں اور بلا شبہ ملک اور قوم کے مہذب ہونے کا اور ترقی پر پہنچنے کا یہی نتیجہ ہے۔  مگر باوصف اس کے ہم اس نتیجہ کو بشرطیکہ اس کی اصلاح نہ ہوتی رہے بدعت تنزل قرار دیتے ہیں تو ضرور ہم کو کہنا پڑے گا کہ کیوں یہ عمدہ نتیجہ باعث تنزل ہوگا۔ سبب اس کا یہ ہے کہ جب سب لوگ ایک سی طبیعت اور عادت اور خیال کے ہو جاتے ہیں توان کی طبیعتوں میں سے وہ قوتیں جو نئی باتوں کے ایجاد کرنے اور عمدہ عمدہ خیالات کے پیدا کرنے اور قواعد حسن معاشرت کو ترقی دینے کی ہیں، زائل اور کمزور ہو جاتی ہیں اور ایک زمانہ ایسا آتا ہے کہ ترقی ٹھہر جاتی ہے اور تنزل شروع ہو جاتا ہے۔  اس معاملہ میں ہم کو ملک چین کے حالات پر غور کرنے سے عبرت ہوتی ہے۔ چینی بہت لئیق آدمی ہیں بلکہ اگر بعض باتوں پر لحاظ کیا جاوے تو عقلمند بھی ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کی خوش قسمتی سے ابتدا ہی میں ان کی قوم میں بہت اچھی اچھی رسمیں قائم ہو گئیں۔ اور یہ کام ان لوگوں کا تھا جو اس قوم میں نہایت دانا اور بڑے حکیم تھے۔  چین کے لوگ اس بات میں مشہور و معروف ہیں کہ جو عمدہ سے عمدہ دانش اور عقل کی باتیں ان کو حاصل ہیں ان کو ہر شخص کی طبیعت پر بخوبی منقش کرنے کے واسطے اور اس بات کے لیے جن شخصوں کو وہ دانشمندی کی باتیں حاصل ہیں ان کو بڑے بڑے عہدے ملیں نہایت عمدہ طریقے ان میں رائج ہیں۔ اور وہ طریقے حقیقت میں بہت ہی عمدہ ہیں۔ بے شک جن لوگوں نے اپنا ایسا دستور قائم رکھا، انہوں نے انسان کی ترقی کے اسرار کو پا لیا اور اس لئے چاہیے تھا کہ وہ قوم تمام دنیا میں ہمیشہ افضل رہتی مگر بر خلاف اس کے ان کی حالت سکون پذیر ہو گئی ہے اور ہزاروں برس سے ساکن ہے اور اگر ان کی کبھی کچھ اور ترقی ہوگی تو بے شک غیر ملکوں کے لوگوں کی بدولت ہوگی۔ اس خرابی کا سبب یہی ہوا کہ اس تمام قوم کی حالت یکساں اور مشابہ ہو گئی اور سب کے خیالات اور طریق معاشرت ایک سے ہو گئے اور سب کے سب یکساں قواعد اور مسائل کی پابند ی میں پڑ گئے اور اس سبب سے وہ قوتیں جن سے انسان کو روز بروز ترقی ہوتی ہے ان میں سے معدوم ہو گئیں۔ پس جبکہ ہم مسلمان ہندوستان کے رہنے والے جن کی رسومات بھی عمدہ اصول و قواعد پر مبنی نہیں ہے بلکہ کوئی رسم اتفاقیہ اور کوئی رسم بلا خیال اور قوموں کے اختلا ط سے آ گئی ہے، جس میں ہزاروں نقص اور برائیاں ہیں، پھر ہم ان رسوم کے پابند اور نہ ان کی بھلائی برائی پر اور نہ خود کچھ اصلا ح اور درستی کی فکر میں ہوں بلکہ اندھا دھندی سے اسی کی پیروی کرتے چلے جاویں تو سمجھنا چاہیے کہ ہمارا حال کیا ہوگیا ہے اور آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ ہماری نوبت چینیوں کے حال سے بھی رسوم کی پابندی کے سبب بد تر ہو گئی ہے اور اب ہم میں خود اتنی طاقت نہیں رہی کہ ہم اپنی ترقی کر سکیں۔ اس لیے بجز اس کے کہ دوسری قوم ہماری ترقی اور ہمارے قوائے عقلی کی تحریک کا باعث ہو اور کچھ چارہ نہیں، بعد اس کے کہ ہمارے قوائے عقلیہ تحریک میں آجاویں اور پھر قوت ایجاد ہم میں شگفتہ ہوتب ہم پھر اس قابل ہوں گے کہ اپنی ترقی کے لئے کچھ کر سکیں۔  مگر جب کہ ہم دوسری قوموں سے از راہ تعصب نفرت رکھیں اور کوئی نیا طریقہ زندگی کا کہ وہ کیسا ہی بے عیب ہو اختیار کرنا، صرف بسبب اپنے تعصب یا رواج کی پابندی کے معیوب سمجھیں تو پھر ہم کو اپنی بھلائی اور اپنی ترقی کی کیا توقع ہے۔ مگر چونکہ ہم مسلمان ہیں اور ایک مذہب رکھتے ہیں جس کو ہم دل سے سچ جانتے ہیں اس لیے ہم کو مذہبی پابندی ضرور ہے، اور وہ اسی قدر ہے کہ جو بات معاشرت اور تمدن اور زندگی بسر کرنے اور دنیاوی ترقی کی اختیار کرتے ہیں اس کی نسبت اتنا دیکھ لیں کہ وہ مباحات شرعیہ میں سے ہے یا محرمات شرعیہ سے، در صورت ثانی بلا شبہ ہم کو احتراز کرنا چاہیے اور در صورت اول بلا لحاظ پابندی رسوم کے اور بلا لحاظ اس بات کے کہ لوگ ہم کو برا کہتے ہیں یا بھلا، اس کو اختیار کرنا ضروری بلکہ واسطے ترقی قومی کے فرض ہے۔ خدا ہمہ مسلمانان را بریں کار توفیق دہد۔ آمین۔

sir syed Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK