غیر اردو داں طبقےکو اردو کی کون سی چیز پسند ہے؟

Updated: October 31, 2022, 12:32 PM IST | Afzal Osmani | Mumbai

اردو کی مقبولیت عالمی ہے۔دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جہاں اردو ادب خصوصاً شاعری کا کوئی دلدادہ نہ ہو۔یہ بات سچ ہے کہ اردو کے دامن کو وسعت اور مالا مال کرنے میں غیر اردو داں طبقے کی بھی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔اردو زبان نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ ایک تہذیب کی ترجمان بھی ہے

 The attraction towards Urdu is increasing among the non-Urdu speaking class .Picture:INN
غیر اردو داں طبقے میں اردو کے تئیں کشش میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ تصویر:آئی این این

اردو زبان کی چاشنی و شیرینی کا شہرہ زبان زد عام ہے۔اردو زبان کا جو انداز ہے وہ شاید ہی کسی دوسری زبان میں دیکھنے کو ملے۔یہی وجہ ہے کہ اس زبان سے نہ صرف اردو داں طبقہ بلکہ غیر اردو داں طبقہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا۔ اردوزبان میں کچھ تو بات ہے ورنہ داغ دہلوی یہ نہ کہتے کہ؎
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
 غیر اردو داں طبقہ پر اردو زبان و ادب کے اثرات کس حد تک مرتب ہوئے ہیں یا انہیں اردو ادب کی کون سی چیز اپنی طرف راغب کرتی ہے۔یہ جاننے کیلئے ہم نے کچھ ایسے افراد سے بات چیت کی جن کا تعلق غیر اردو داں طبقے سے ہےمگران میں اردو زبان سیکھنے کی چاہ بدرجۂ اتم موجود ہے۔
پریم چند اور کرشن چندر کے افسانے متاثر کئے
 سنمیتر نوگھڑے،شعبہ اردو، ممبئی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں ۔ انہوں نے اردو سے اپنا پہلا تعارف ہونے کے سلسلے میں بتایا کہ ان کے والد کو اردو زبان بہت پسند تھی اور ان کی خواہش تھی کہ یہ زبان ان کے سبھی بھائی سیکھے مگر سنمیتر نوگھڑے کے دادا نے یہ کہتے ہوئے صاف انکار کردیا کہ اردو اپنے بیٹے کو سیکھانا،میرے بچوں کو نہیں۔لہٰذا ان کے والد نے یہ پہلا تجربہ اپنے بیٹے پر کیا اور انہیں کی کوششوں کا ثمرہ ہے کہ وہ آج ممبئی یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر ہیں۔
 انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں پریم چند اور کرشن چندر کے افسانے بہت متاثر کئے ۔ان کے مطابق اردو کے دیگر شعرا کی بہ نسبت اقبال کی شاعری میں فکر اور حقیقت پسندانہ خیالات کا اظہار ملتاہے۔جو انہیں مشکل حالات میں باہر نکلنے کا راستہ دیتا ہے۔کیا اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے ۔اس پر انہوں نے کہا کہ ایسا کہنا غلط ہوگا کیونکہ یہ زبان غیر ملکی نہیں بلکہ اسی ملک میں پروان چڑھی ۔ 
اردو زبان بہت زرخیز ہے
 انوشکا نکم مراٹھی تھیٹر آرٹسٹ ہیں اس کے علاوہ اسکرپٹ رائٹنگ بھی کرتی ہیں ۔ انوشکا غزل اور صوفی نغموںکو بھی نہایت عمدگی سے گانے میں ماہر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ دیوناگری رسم الخط میں پڑھتی تھیں ۔بعد میں انہیں احساس ہوا کہ اگر دیو ناگری میں پڑھنا اتنا اچھا لگتا ہے تو کیوں نہ اردو زبان ہی میں پڑھا جائے۔یہاں سے ان کی اردو سیکھنے کی کوشش کی شروعات ہوئی۔
 انوشکا کے مطابق اردو شاعری ان کے بہت متاثر کرتی ہے ۔اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ صرف دو مصرعوں میں بات اس قدر مکمل ہوجاتی ہے کہ اگر کوئی اس کی تشریح لکھنا چاہے تو پوری ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ یہ خاصیت دنیا کی کسی دوسری زبان میں نہیں دیکھنے کو ملتی۔ان کے مطابق شاعری معنی و مطالب کا اتھاہ سمندر ہے جس کی کوئی حد نہیں ۔ جو جتناگہرائی میں اترتا جائے گا اسے مفاہیم کےاتنےگوہر ملتے جائیں گے ۔ انہوں نے اردو غزل سے متعلق کہا کہ غزل کے دیوانے دنیا کے ہر گوشے میں موجود ہیں اور اس میں تہذیب و ادب کی مکمل داستان سموئی ہوئی ہے۔
میرے دوست نے مجھے اردو کی طرف راغب کیا
 پرتھمیش کا تعلق مروڈ جنجیرہ سے ہے۔انہوں نے بی ایس سی آئی ٹی کیا ۔اس کے بعد ایم بی اے کی تعلیم مکمل کی اور حال ہی میں ایل ایل بی کا امتحان بھی پاس کیا ہے۔جبکہ اردو میں ایڈوانس ڈپلومہ کی سند بھی حاصل کی۔ ان کے مطابق کوکن میں اردو زبان بولنے والوں کی اکثریت ہے اور چونکہ ان کا بھی تعلق وہیں سے ہے لہٰذا شروع ہی سے انہیں اس میں دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔بعد ازاں یونیورسٹی میں اساتذہ کی مدد سے اردو سرٹیفکیٹ کورس میں داخلہ ہوا اور یہاں سے ان کے اردو سیکھنے اور پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔انہوںنے بتایا کہ انہیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ افسانے کی کتابیں ضرور پڑھتے ہیں جس میں ان کے ایک دوست ان کی مدد کرتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ جب کبھی بھی موقع ملے وہ شمس الرحمن فاروقی کا مشہور ناول ’ کئی چاند تھے سر آسماں‘ ضرور پڑھنا چاہیں گے۔
دلیپ کمار کی اردو نے مجھے بہت ترغیب دی
 پروفیسر کرشنا آر ساونت کا تعلق پنویل سے ہے۔وہ گزشتہ ۲۵؍ برسوں سے ایم بی اے کی لکچرر ہیں اور ابھی ممبئی یونیورسٹی سے ایم اے اردو میں کیا ہے۔ انہوںکے مطابق انہوںنے جب ہوش سنبھالا تو بالی ووڈ کا سنہرا دور شروع تھا ۔کچھ بڑے ہونے کے بعد محمد رفیع اور دلیپ کمار کی فلمیں اور انٹرویوز دیکھے۔انہوں نے بتایا کہ انہیں سننے کے بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ بس یہ بولتے جائیں اور میں سنتی رہوں۔اس کے علاوہ انہیں پرانے نغمے سننا زیادہ پسند ہے جس میں ادبیت ہو۔ کرشنا ساونت نے بتایا کہ انہیں مومن خان مومن اور جگر مراد آبادی کی غزلیں پڑھنا بہت پسند ہے۔اس کے علاوہ وہ قرۃ العین حیدر کو بھی پڑھتی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ اپنے اکابرادب کو پڑھتے ہوئے ان کے جیسا لکھنے کی کوشش کرتی ہوں ۔خدیجہ مستور کا مشہور ناول ’آنگن ‘ انہیں بہت متاثر کرتا ہے۔انہوں نے اپنے اساتذہ خصوصاً مزمل سرکھوت اور معزہ قاضی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی ترغیب اور مدد نہ ہوتی تو شاید وہ اردو نہ پڑھ پاتیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK