حکمت اور موعظہ ٔحسنہ : دعوت ِ دین کے دو کلیدی اور لازمی اسلوب ہیں

Updated: January 21, 2022, 1:54 PM IST | Agency | Mumbai

قرآن مجید نے یہ اسلوب بتانے کے ساتھ انبیائے کرام کی دعوت کے نمونے پیش کر کے اس کے خطوط و حدود بھی واضح کئے ہیں، جن کی موجودگی میں دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کو کسی تحریک یا ازم سے طریق کار مستعار لینے کی ضرورت نہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

قرآن مجید وہ واحد کتاب ہے جس نے نہایت اختصار لیکن پوری تشریح کے ساتھ اپنے پیروؤں کو بتایا کہ پیغام الٰہی کو کس طرح لوگوں تک پہنچایا جائے اور ان کو قبول حق کی دعوت کس طرح دی جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔‘‘ (النحل: ۱۲۵)حکمت اور موعظۂ حسنہ جیسے دعوت کے دو کلیدی اسلوب بتانے کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام کی دعوت کے نمونے پیش کر کے اس کے خطوط و حدود بھی واضح کر دیئے گئے جن کی موجودگی میں دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کو کسی تحریک یا ازم سے طریق کار مستعار لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ذیل میں مختصر طور پر اسالیب ِدعوت پیش کر رہے ہیں۔
تدریج
انسان کی قوت فہم اور قوت اخذ میں نقص ہے، جس کے سبب وہ بیک وقت ساری باتیں نہیں سمجھ سکتا۔ اس لئے قرآن اپنی دعوت پیش کرنے میں تدریجی طریقہ اختیار کرتا ہے تاکہ جو لوگ اس کو قبول کریں اپنی طبیعت کی طلب سے قبول کریں اور پورا دین ان کی فکر و نظر اور روح و دل کے اندر جذب ہو جائے۔ اس لئے قرآن سب سے پہلے عقیدہ کو پیش کرتا ہے جو انسانی روح کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہی صورت انسانوں کے مجتمع اور متحد ہونے کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ شکل ہے جو انسانی وجود کے شایان شان ہے۔ دعوت کا یہی طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بتایا ہے:’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب روانہ کرتے وقت ان سے فرمایا کہ تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، اس لئے وہاں جانے کے بعد سب سے پہلے انہیں لاالٰہ الا اللہ اور محمد الرسولؐ اللہ کی دعوت دینا۔ جب وہ تمہاری اس بات کو مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اس کے بھی پابند ہو جائیں تو انہیں فرضیت زکوٰۃ کی دعوت دینا کہ اللہ نے تمہارے اوپر زکوٰۃ فرض کی ہے جو تمہارے مالداروں سے لی جائے گی اور تمہارے ہی غریبوں پر لوٹائی جائے گی۔ جب وہ تمہاری اس بات کو بھی قبول کر لیں تو ان کے عمدہ مال لینے سے بچنا کیونکہ مظلوموں کی آہ اللہ تک بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچ جاتی ہے۔‘‘ (صحیح البخاری جلد، ۲ ص، ۶۲۳)
تمثیل اور تصویر کشی
قرآنِ کریم اپنے مخاطبین کو اپنی بات سمجھانے اور دل کی گہرائیوں تک اتارنے کے لئے جابجا تمثیل اور تصویر کشی کا پیرایہ اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ یہ ادب کی دلنواز قسم ہے جو بات کو سمجھانے کے لئے تیر بہدف کا اثر رکھتی ہے، اس کے ذریعہ باتیں بہت جلد اور آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہیں۔’’اور درحقیقت ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کر سکیں۔‘‘ (الزمر: ۲۷)’’یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔‘‘(الحشر: ۲۱)
قصص و واقعات
یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ حقائق کو پیش کرنے اور انہیں مؤثر صورت میں دلوں میں اتارنے کے لئے قصوں کو بیان کرنے کا قرآن مجید کا ایک خاص اسلوب ہے اور یہ حقیقت کسی بھی زبان کے فصیح و بلیغ ادیب سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ واقعات کا استعمال پند و نصیحت کے لئے کس درجہ مفید اور دلنشین ہے۔ قرآن مجید انبیائے کرام کے قصص و واقعات کے ضمن میں ان کے دعوتی نمونے کو بھی پیش کرتا ہے۔ کیونکہ عملی نمونوں سے جو سبق ملتے ہیں وہ کسی بھی نوع کے دیگر وسائل سے بہتر ہوتے ہیں۔
تصریف آیات
کوئی بات جب ایک پہلو سے سمجھ میں نہیں آتی تو دوسرا اور تیسرا پہلو اختیار کرنا پڑتا ہے اور عموماً یہ صورت کارگر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن ایک مدعا کو مختلف اسالیب اور پہلوؤں سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے:’’اسی طرح ہم نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو شکر گزار ہونے والے ہیں۔‘‘ (الاعراف: ۵۸)پھر ایک ہی قسم کی باتوں کا اعادہ ایک ہی عبارت اور ایک ہی ڈھنگ پر نہیں کرتا بلکہ ہر بار نئے الفاظ اور نئے اسلوب میں پیش کرتا ہے تاکہ نہایت خوشگوار طریقے سے دلوں میں اتر جائیں۔
نفسیات ِانسانی کا لحاظ
نفسیاتی نقطۂ نظر سے سب سے اہم چیز جس کا قرآن مجید خاص لحاظ رکھتا ہے، وہ یہ ہے کہ اپنے مخاطب کے اندر حمیت جاہلیت نہ ابھرنے پائے۔ ہر قوم اپنے معتقدات و روایات کے ساتھ وابستگی رکھتی ہے۔ اگر یہ وابستگی باطل ہے تو قرآن اس کی اصلاح کا طریقہ یہ بتاتا ہے کہ پہلے ان غلط فہمیوں کو دور کیا جائے جن کی وجہ سے یہ غلط وابستگی قائم ہے۔ ایسا ہر گز نہ کیا جائے کہ اس کی غلط وابستگی کے فکری اسباب کی اصلاح کے بجائے خود اس پر براہِ راست حملہ کر دیا جائے کیونکہ اس طرح براہ راست حملے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مخاطب حمیت جاہلیت سے بے خود ہو کر دعوت کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑا ہو گا۔ اسی نکتہ کی طرف ان آیتوں میں اشارہ کیا گیا ہے:’’اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو بُرا نہ کہو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر فرقہ (و جماعت) کے لئے ان کا عمل (ان کی آنکھوں میں) مرغوب کر رکھا ہے (اور وہ اسی کو حق سمجھتے رہتے ہیں)، پھر سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ انہیں ان اعمال کے نتائج سے آگاہ فرما دے گا جو وہ انجام دیتے تھے۔‘‘(الانعام: ۱۰۸)’’اور اے نبیؐ! میرے بندوں سے کہہ دیجئے وہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو۔ دراصل وہ شیطان ہے جو انسان کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘  
(بنی اسرائیل: ۵۳)
قرآن مجید ان اوقات میں بھی دعوت دینے سے احتراز کرتا ہے جب کہ مخاطب اعتراض اور نکتہ چینی پر مستعد ہوتا ہے اور کسی ایسے مناسب موقع کا انتظار کرتا ہے جب کہ مخاطب خالی الذہن یا کم از کم اعتراض و نکتہ چینی کے جذبے سے عاری ہو۔
’’اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں (کج بحثی اور استہزاء میں) مشغول ہوں تو تم ان سے کنارہ کش ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں، اور اگر شیطان تمہیں (یہ بات) بھلا دے تو یاد آنے کے بعد تم (کبھی بھی) ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھا کرو۔‘‘  (الانعام: ۶۸)
خلاف ِوقار طریقوں سے احتراز
قرآن مجید ان تمام طریقوں سے بھی احتراز کرتا ہے جن سے دعوت کی شان کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ بھاگنے والوں کے پیچھے پڑنا، نفرت کرنے والوں کا پیچھا کرنا یا گھمنڈ کرنے والوں کے سامنے تواضع کرنا اسی حد تک جائز قرار دیتا ہے کہ دعوت کی عظمت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ سورۂ عبس میں آپ ﷺ کو زعمائے قریش کے ساتھ اسی طرح کی نیاز مندیوں سے روکا گیا ہے اور داعیانِ حق کو تعلیم دی گئی ہے کہ جو لوگ دعوت سے متنفر اور بے نیاز ہوں ان کو پکارنے اور اپنانے کی خواہش اتنی غالب نہ ہونی چاہئے کہ اس انہماک میں ان لوگوں کی حق تلفی ہونے لگے جو دعوت قبول کر کے تربیت کے لئے منتظر اور محتاج ہوں۔
بدی کا مقابلہ بہترین نیکی سے
قرآن کا ایک نمایاں اسلوب ِ دعوت یہ ہے کہ وہ بدی کا مقابلہ بہترین نیکی سے کرتا ہے: ’’اور اے نبیؐ! نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی، وہ جگری دوست بن گیا ہے۔‘‘(حم السجدہ: ۳۴)اس آیت کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ رقم طراز ہیں: ’’اس آیت میں دو باتیں بتائی گئی ہیں، پہلی بات یہ کہ نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ یعنی بظاہر مخالفین بدی کا کیسا ہی خوفناک طوفان اٹھا لائیں لیکن بدی بجائے خود اپنے اندر کمزوری رکھتی ہے جو آخر کار اس کا بھٹہ بٹھا دیتی ہے۔ کیونکہ انسان جب تک انسان ہے اس کی فطرت بدی سے نفرت کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اس بدی کے مقابلے میں اگر وہی نیکی جو بالکل عاجز و بے بس نظر آتی ہے مسلسل کام کرتی چلی جائے تو آخر کار وہ غالب آکر رہتی ہے۔ کیونکہ اول تو نیکی بجائے خود ایک طاقت ہے جو دلوں کو مسخر کرتی ہے اور آدمی خواہ کتنا ہی بگڑا ہوا ہو اپنے دل میں اس کی قدر محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پھر جب نیکی اور بدی سامنے مصروف پیکار ہوں اور کھل کر دونوں کے جوہر پوری طرح نمایاں ہو جائیں، ایسی حالت میں تو ایک مدت کی کشمکش کے بعد کم ہی لوگ ایسے باقی رہ سکتے ہیں جو بدی سے متنفر اور نیکی کے گرویدہ نہ ہو جائیں۔ دوسری بات یہ فرمائی گئی کہ بدی کا مقابلہ محض نیکی سے نہیں بلکہ اس نیکی سے کرو جو بہت اعلیٰ درجے کی ہو۔ یعنی کوئی شخص تمہارے ساتھ کوئی برائی کرے اور تم اس کو معاف کردو تو یہ محض نیکی ہے۔ اعلیٰ درجے کی نیکی یہ ہے کہ جو تم سے بُرا سلوک کرے تم موقع آنے پر اس کے ساتھ احسان کرو۔ اس کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ بدترین دشمن بھی آخر کار جگری دوست بن جائے گا اس لئے کہ یہی انسانی فطرت ہے۔‘‘(تفہیم القرآن: جلد،۴)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK