EPAPER
اگر تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری سے صرف ِنظر کیا جائے اور صرف مغربی بنگال اور آسام میں بی جے پی کو ملنے والے ووٹوں کا مجموعی فیصد پیش نظر رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ آسام میں اس پارٹی کو ۳۷ء۸۱؍ فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ بنگال میں ۴۵ء۸؍ فیصد۔ اگر دونوں ریاستو ںمیں اس کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد پچاس فیصد تک بھی پہنچ جاتی تو بلاشبہ یہ اور بھی بڑی کامیابی ہوتی مگر اس کا دوسرا معنی بھی ہوتا۔
May 07, 2026, 12:17 pm IST
مغربی بنگال کی سیاسی و انتخابی تصویر کا ایک رُخ جس سے آپ بہت اچھی طرح واقف ہیں یہ ہے: الیکشن جیتنے کیلئے مرکز کی حکمراں جماعت پر ای ڈی، سی بی آئی اور دیگرکے غلط استعمال کا الزام عائد ہوا۔ ایس آئی آر کی بابت کہا گیا کہ یہ مہم ایک خاص مقصد کے تحت چلائی گئی تھی۔
May 06, 2026, 12:22 pm IST
کیا مغربی بنگال میں بی جے پی جیت گئی؟ ہاں جیت گئی۔ کیوں جیتی؟ اس لئے کہ طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجو د نہ جیت پاتی تو اس کی شان گھٹ جاتی۔ کیا ٹی ایم سی کی ہار میں الیکشن کمیشن کا بھی رول ہے؟ اس سوال کے جواب سے ہر خاص و عام واقف ہے۔
May 05, 2026, 12:19 pm IST
