کیا خواتین ذمہ دار ڈرائیور ہوتی ہیں؟

Updated: November 24, 2021, 1:18 PM IST | Odhani Desk

جب بھی خاتون ڈرائیور کے تعلق سے بات کی جاتی ہے تو وہ موضوعِ بحث بن جاتی ہے جبکہ تحقیق کے ذریعے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ خواتین اچھی ڈرائیور ہوتی ہیں۔ ناروے کے انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس کی تحقیق میں دریافت ہوا ہے کہ خواتین گاڑی چلاتے وقت سڑک پر زیادہ توجہ دیتی ہیں

Experts say that women are very serious while driving.Picture:INN
ماہرین کی رائے ہے کہ خواتین گاڑی چلاتے وقت کافی سنجیدہ رہتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

آج کے دور میں خواتین مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کو تیار نظر آتی ہیں مگر جب بات خواتین کی ڈرائیونگ کی آتی ہے یہ موضوع بحث بن جاتی ہے۔ بیشتر مرد یہ سمجھتے ہیں کہ خواتین بہتر گاڑی نہیں چلاتی ہیں۔ گزشتہ دنوں مدھیہ پردیش کے دیواس کی ۹۰؍ سال کی خاتون کا کار چلانے کا ویڈیو منظر عام پر آیا تھا۔ اس عمر میں بھی وہ بہت اچھی ڈرائیونگ کر رہی تھی جیسے برسوں سے کار چلاتی آئی ہوں۔ واضح ہو کہ متعدد تحقیقات بھی یہ بات کہتی ہیں کہ خواتین زیادہ بہتر ڈرائیور ہوتی ہیں۔
 یہ بات جنرل انجری پری وینشن میں شائع ہوئی تحقیق میں ثابت ہوچکی ہے کہ مردوں کی بہ نسبت خواتین اچھی ڈرائیور ہوتی ہیں۔
 بیشتر مرد خطرناک طریقے سے گاڑی چلا کر اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔ اس میں واضح ہوا ہے کہ اگر خواتین کو ٹرک چلانے کی ذمہ داری ملے تو سڑکیں کافی محفوظ ہوں گی۔
کیا واقعی اس میں سچائی ہے؟
 عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کی مانیں تو سڑک حادثوں میں ۵؍ کروڑ سے زائد لوگ سیٹ بیلٹ نہ لگانے، ڈرائیونگ کے دوران ذہن منتشر ہونے اور ہیلمٹ نہ پہننے کی وجہ سے زخمی ہوجاتے ہیں۔ وہیں، ان وجوہات سے تقریباً ۱۰؍ لاکھ افراد کی موت ہوجاتی ہے۔ اس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سب سے کم سڑک حادثے ناروے میں ہوتے ہیں۔ ناروے کے انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس کی تحقیق میں دریافت ہوا ہے کہ گاڑی چلاتے وقت مردوں کی توجہ زیادہ بٹتی ہے۔ خواتین گاڑی چلاتے وقت سڑک پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔
کار پارکنگ کے معاملے میں بھی خواتین بہتر
 بات صرف سیف ڈرائیونگ تک ہی محدود نہیں ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ کار پارکنگ کے معاملے میں بھی خواتین بہتر ہوتی ہیں۔ گاڑی پارک کرنے کے لئے جگہ تلاش کرنے اور کم جگہ میں بھی صحیح طریقے سے گاڑی پارک کرنے میں خواتین زیادہ سمجھداری سے کام لیتی ہیں۔ حالانکہ کار پارک کرنے میں انہیں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ممبئی میں گزشتہ چند برسوں میں خاتون کار ڈرائیور کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تقریباً ۳۰؍ لاکھ خواتین کے پاس قانونی ڈرائیونگ لائسنس ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کل ۸۸؍ لاکھ ڈرائیونگ لائسنس میں سے تقریباً ۳۵؍ خاتون ڈرائیور ہیں۔ ان میں تقریباً ۴۰؍ فیصد ۱۸؍ سے ۲۰؍ سال کی عمر کی لڑکیاں شامل ہیں۔
کار خریدنے کے معاملے میں بھی آگے
 باشعور ذہن، احتیاط، مشق اور صحیح تربیت.... یہ ساری خوبیاں ایک اچھے ڈرائیور کے لئے ضروری  ہوتی ہیں۔ ڈرائیونگ کے معیار کو صنف کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی گاڑی چلانے میں پیچھے نہیں ہیں۔ وہ ڈرائیونگ صرف ضرورت کے لئے ہی نہیں، بلکہ شوقیہ اور طویل سفر کے لئے بھی کرنے لگی ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی ماروتی سوزوکی کے مطابق خاتون کار خریداروں کی حصہ داری ۷؍ فیصد سے بڑھ کر ۱۲؍ فیصد ہو گئی ہے۔ ہیونڈے موٹر میں ۲۰۱۴ء کے بعد سے ۳؍ فیصد بڑھ گئی ہے۔ وہیں مرسڈیز بینز اور آؤڈی جیسی لگژری کار خریدنے والوں میں خواتین کی حصہ داری ۲۰؍ فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ آٹو کمپنیوں کے ملازمین کا کہنا ہے کہ کار چلانے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن اب بھی کئی گاڑیاں خاندان کے مردوں کے نام پر رجسٹرڈ کی جاتی ہیں۔
پاؤں سے گاڑی چلانے والی خاتون
 کیرالا کے ایڈوکی ضلع میں توڈوپوزا کی رہنے والی جلومل میریٹ تھامس ملک کی پہلی ایسی خاتون کار ڈرائیور ہیں، جو بغیر ہاتھوں کے بھی گاڑی چلاتی ہیں۔ تھیلیڈومائیڈ سنڈروم کی وجہ سے جلومل گاڑی چلانے کیلئے اپنی ٹانگیں استعمال کرتی ہے۔ ۲۰۱۸ء میں عدالت کے حکم پر اسے لائسنس ملا تھا۔
فارمولا ای ریسنگ کار چلانے والی پہلی ہندوستانی خاتون
 بالی ووڈ اداکارہ گل پناگ ای کار ریسنگ میں حصہ لینے والی پہلی ہندوستانی خاتون ہے۔ انہوں نت ۲۰۱۷ء میں اسپین کے بارسلونا میں فارمولا ای ریسنگ میں حصہ لیا تھا، جس میں انہوں نے ایم ۴؍ الیکٹرو کار چلائی تھی۔
ماہرین کی رائے
 ماہرین کی رائے ہے کہ خواتین گاڑی چلاتے وقت کافی سنجیدہ رہتی ہیں۔ علاوہ ازیں سڑکوں پر بھی وہ مردوں کے مقابلے کم خطرہ مول لیتی ہیں اور آہستہ ہی سہی مگر محفوظ ڈرائیونگ کرتی ہیں۔ ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور اب پہلے کے مقابلے میں ۷۰؍ فیصد زائد خواتین ڈرائیونگ لائسنس کے لئے درخواست دے رہی ہیں۔ ماہرین خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ انہیں کار کی معمولی رپیئرنگ بھی آنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK