نانی دادی کی نصیحتیں، مشورے، نسخے، روک ٹوک اور رہنمائی ہمارے لئے اہم

Updated: August 04, 2022, 12:37 PM IST | Saima Sheikh | Mumbai

گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے درخواست کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں

Stories told by grandparents are also a beacon for us.Picture:INN
نانی دادی کی سنائی ہوئی کہانیاں بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہوتی ہیں۔ تصویر:آئی این این

نانی دادی کا بار بار روکنا ٹوکنا نعمت ہے
ہمارے گھروں میں نانی دادی کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ مَیں نے اکثر یہ کہتے سنا ہے کہ بزرگوں سے گھر میں برکت ہوتی ہے اور بیشتر افراد اس بات سے اتفاق رکھیں گے۔ ہم جب چھوٹے تھے ہمیں اکثر دادی ہر بات پر روکا یا ٹوکا کرتی تھیں۔ ان کے روکنے ٹوکنے پر غصہ بھی آتا تھا۔ لیکن ماں سمجھاتی تھی کہ وہ تمہاری بھلائی کے لئے کہتی ہیں۔ بڑے ہونے کے بعد یہ بات سمجھ آئی ہے کہ دادی کے روکنے ٹوکنے کی وجہ سے ہم بہتر انسان بن پائے۔ صبح جلدی اٹھنے، سلیقے سے کپڑا پہننے، سر میں تیل ڈالنے، دھیرے بات کرنے، صفائی کرنے، غسل خانے سے پیر پونچھ کر نکلنے، نل ٹھیک سے بند کرنے، تولیہ جگہ پر رکھنے، کھانا بیٹھ کر کھانے، ہر بڑے سے ادب سے پیش آنے، پڑھائی کرنے وغیرہ وغیرہ جیسی باتوں کیلئے دادی اور نانی تلقین کیا کرتی تھیں۔ یہی وہ باتیں ہیں جو ہمیں ایک اچھا انسان بناتی ہے۔
روزمین مومن (کوٹر گیٹ، بھیونڈی)
ان کے مشورے کارگر ہوتے ہیں
ہماری زندگی میں نانی دادی کا بہت اہم کردار ہوتا ہے، خاص طور پر بچوں کی تربیت میں۔ اگر بچے بیمار ہو جائیں تو والدین سیدھا ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ لیکن ہماری نانی دادی کے کیا کہنے ان کے گھریلو نسخے اور ٹوٹکے جو جلد بچوں پر اثر بھی کرتے ہیں اور بیماری بھی غائب ہو جاتی ہے۔ اور اس کا کوئی منفی اثر بھی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ زندگی کے ہر مرحلے میں چاہے ہماری نانیاں اور دادیاں ہمارے ساتھ نہ ہوں لیکن ان کی باتیں ہمیشہ ہماری رہبری کرتی اور حوصلہ بخشتی ہیں۔ وہ بچپن سے زندگی کے نشیب و فراز سے آگاہ کرتی ہیں اور ہر اچھے برے وقت میں ثابت قدم رہنے کا درس دیتی ہیں۔ ان کے دیئے مشورے کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ نانی اور دادی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے مگر افسوس کہ آج کل بچے ہر سوال گوگل سے کرتے ہیں۔ یہ رشتے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، اسے سمجھئے۔
عریشہ کوکب (مظفر پور، بہار)
کھانوں کی لذت کا راز
نانی دادی کا رشتہ بہت ہی خاص ہوتا ہے اور ان کا ہماری زندگی میں بہت ہی اہم کردار ہوتا ہے۔ ہم کتنے ہی جتن کر لیں مگر ہمارے پکوانوں میں وہ ذائقہ نہیں آتا جو ان کے کم مسالوں اور جھٹ پٹ تیار ہونے والے پکوانوں میں ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ دادی کے پاس بیٹھی تھی، کہنے لگی کہ ’’ایک مرتبہ مہمان آگئے، اس وقت گھر میں گوشت موجود تھا۔ انہوں نے جلدی جلدی سیل بٹے پر ہری مرچی پسی، ادرک اور لہسن پسی اور بھنا بھنا گوشت تیار کر لی۔ مہمان بھر پیٹ کھائیں۔ آج کل تم لوگ نہ جانے یوٹیوب پر دیکھ کر کیا کیا مسالے شامل کرلیتے ہو مگر تب بھی اُس میں ذرا لذت نہیں رہتی۔ کھانے میں ذائقہ صرف مسالوں سے نہیں آتا بلکہ خلوصِ دل سے تیار کئے ہوئے پکوان کی لذت کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ آج کل مہمان کیا آئے تم لوگوں کے تو منہ بن جاتے ہیں۔‘‘ دادی نے واقعی بڑی سچی بات کہہ دی۔
افشاں شیخ (ممبئی)
ان کی پٹاری میں ہر مرض کا علاج ہوتا ہے
خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے نانی دادی ہوتے ہیں۔ پوتا پوتی اور نواسا نواسی، ان کی سرپرستی میں اچھی تربیت پاتے ہیں۔ نانی دادی پیار و محبت اور ڈانٹ کر بچوں کو زندگی جینے کا صحیح راستہ دکھاتی ہیں۔ نانی دادی کی سنائی ہوئی کہانیاں بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہوتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بات پر ان کا روکنا ٹوکنا بھی اپنے لئے بہتر ہوتا ہے۔ ان کی پٹاری میں ہر مرض کا علاج ہوتا ہے۔ بڑے سے بڑے مسئلے چٹکی میں حل کر دیتی ہیں۔ ان کا محبّت بھرا لمس اور دعائیں سب سے خاص ہوتی ہیں۔ نانی دادی کفایت شعار بھی ہوتی ہیں، اکثر کپڑوں کی کترن سے بستر تیار کر دیا کرتی ہیں۔ میرے خیال سے ہم سبھی نے اپنی نانی اور دادی کے تیار ہوئے فراک یا قمیص پہنیں ہوں گے۔ واقعی ان کا شفقت بھرا ہاتھ ہمارے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اللہ ان کا ہاتھ ہم پر سلامت رکھے (آمین)۔
ثناء انصاری (ممبرا، تھانے)
نانی دادی تجربہ کار ہوتی ہیں
نانی اور دادی، یہ دونوں ہی رشتہ خاص ہوتے ہیں۔ ان کی لازوال محبّت زندگی بھر ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ انہیں گھر کے ہر فرد کی فکر ہوتی ہے۔ اگر کوئی گھر دیر سے آتا ہے تو انہیں نیند ہی نہیں آتی۔ کبھی کبھی بچّوں کو ڈانٹ سے بچانے کے لئے غلطی اپنے سر لے لیتی ہیں۔ بچوں کو دین سے قریب کرنے میں ان کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ روزانہ نورانی قاعدہ لے کر بیٹھنا، الفاظ کی ادائیگی سکھانا، منسون دعائیں یاد کروانا، نبیوں کے واقعات سنانا وغیرہ کے ذریعے بچّوں کو صحیح راہ کی جانب گامزن کرتی ہیں۔ نانی دادی تجربہ کار ہوتی ہیں، ان کے پاس کئی مسائل کے حل ہوتے ہیں۔ اکثر وہ اپنی نواسیوں کو بچت کے لئے مفید مشورے دیتی ہیں۔ کس طرح کم وسائل میں بہتر زندگی گزاری جاسکتی ہے، کے متعلق بتاتی ہیں۔ ہمیں ان کے تجربے سے فیض حاصل کرنا چاہئے اور ان کی اہمیت کو بھی سمجھنا چاہئے۔
کلثوم شیخ (سیوڑی، ممبئی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK