گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند تحریریں حاضر خدمت ہیں
EPAPER
Updated: December 22, 2022, 11:14 AM IST | Mumbai
گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند تحریریں حاضر خدمت ہیں
کڑھائی بُنائی کو جدید ٹیکنالوجی نے کنارے کردیا ہے
آج کا دور فوری مادی فوائدکے حصول پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے۔ یہی کوئی بیس پچیس برسوں پہلے اگر کسی لڑکی یا نئی نویلی دلہن کڑھائی بنائی کرنا جانتی تھی تو اس کی محلے اور رشتہ داروں میں کافی تعریف ہوتی تھی۔ اس ہنر کی وجہ سے لڑکیاں کافی پیسے پس انداز کرکے زیور یا کپڑے یا دیگر سامان خریدنے میں گھر والوں کا تعاون کرتی تھیں۔ جن کے پاس یہ ہنر تھا انہیں گھر اور باہر بھی کافی عزت ملتی تھی۔ وقت کے ساتھ جہاں لوگوں کے پاس روپے کی ریل پیل بڑھ گئی وہیں سائنس و ٹیکنالوجی کی تیزرفتار ترقی نے دست کاری اور بہت سے ہنر کو ہڑپ کر لیا ہے چنانچہ ماؤں اور لڑکیوں کا رحجان اس طرف کافی کم ہوگیا ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ بڑھتی ہوئی مادہ پرستی کی وجہ سے قناعت سے گھر چلانا یہ ایک خواب کی بات ہے۔ماضی قریب میں جس کام کو ہفتے اور مہینے لگ جاتے تھے اب وہی کام گھنٹوں اور منٹ میں ہونے لگے ہیں۔ کڑھائی بنائی سکھانے کے پیچھے ماؤں کا خواب بھی ہوتا تھا اور اگر کسی وجہ سے وہ اس ہنر کو سیکھ نہیں پاتی تھیں تو اپنی اولاد سے امید کرتی تھیں کہ وہ اسے پوری کریں گے۔جس طرح سے چین ہماری معاشیات میں سیندھ لگا کر ہماری مارکیٹ میں اپنی چیزوں کو فروخت کرنے میں کامیاب ہوگیا اسی طرح کڑھائی بنائی کو جدید ٹیکنالوجی نے کنارے کردیا اور سیکھنے والوں نے بھی اس سے منہ موڑ لیا ۔ اس جانب بالخصوص گھر کی بزرگ خواتین کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
نصرت عبدالرحمٰن ،بھیونڈی
ہاتھ سے بنے کپڑے اور سوئٹرکے
ساتھ جذباتی وابستگی بھی ہوتی ہے
ایک وقت تھا جب سردی کا موسم آتے ہی خواتین سوئٹر بننے لگتی تھیں۔ دوپہر کے وقت دھوپ سینکتے ہوئے وہ بنائی، کڑھائی یا سلائی وغیرہ کرتی رہتیں اور ایک دوسرے سے نت نئی ڈیزائن سیکھتی تھیں۔ اب اسے لوگوں کی مصروفیت کہیں یا پھر بازار میں مشین سے بنے سوئٹر ، کپڑوں اور لوازمات کی بہار اور ٹیکنالوجی ،کہ اس دور میں یہ فنون اپنی پہچان کھوتے جارہے ہیں مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہاتھ سے بنے کپڑے اور سوئٹر صرف ٹھنڈ ہی دور نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ جذبات کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔اس لئے ان کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوسکتی۔گھر بیٹھے آپ اپنے کسی شوق ، ہنر یا جنون کو بھی کاروبار میں بدل سکتی ہیں۔ سلائی کڑھائی اور بنائی اسی طرز کا عمدہ ہنر ہے جنہیں آپ کسی بھی عمر میں شروع کرسکتی ہیں آپ گھر بیٹھے بچوں اور بڑوں کے کپڑے سل سکتی ہیں۔نت نئی ڈیزائن والے خوبصورت سوئٹر بنا سکتی ہیں۔آپ گھر میں بنے سوئٹر بچّوں کو پہنائیں گی تو کم سے کم ایک اطمینان ہوگا کہ انہیں محفوظ چیز پہنا رہی ہیں۔ ہاتھ سے بنے ہونے کی وجہ سے ان میں الگ کشش ہوتی ہے۔اون سے فیشن ایبل جیکٹ ، اسٹول ، اسکارف اور ٹوپی کافی مقبول ہو رہے ہیں۔ اگر آپ سلائی مشین چلانے میں ماہر ہیں اور آپ میں فیشن کی سمجھ بھی ہے تو آپ ایک فیشن ڈیزائنر بن سکتی ہیں۔بچّوں کے کپڑوں کی ہمیشہ زیادہ مانگ ہوتی ہے۔ آپ آسانی سے گھر پر بچّوں کے خوبصورت لباس تیار کرسکتی ہیں۔ بنائی اور کڑھائی کا ہنر آپ کو کئی طرح کی جسمانی و ذہنی پریشانیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ بنائی یا کڑھائی جیسے کام ذہن کو سکون پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔اس سے ہاتھوں اور آنکھوں کی ورزش بھی ہوتی ہے۔ بنائی اور کڑھائی کرنے سے انگلیاں اور ہاتھ متحرک رہتے ہیں اور گٹھیا جیسی بیماریاں آپ سے دور رہتی ہیں۔بنائی اور سلائی وغیرہ کرنے سے دماغ بھی تیز ہوتا ہے ۔
حفظہ پروین ،عمر گنج بلیا،یوپی عرق ریزی کا زمانہ گیا
کڑھائی، بنائی کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ واقعی ایک اچھا ہنر ہے مگر آج کل ٹیکنالوجی اتنی زیادہ ترقی کر رہی ہے کہ انسان زندگی کو آسان سے آسان تر بناتا جا رہا ہے۔ محنت سے بچنے کے طریقے اور اسباب ایجاد کر رہا ہے۔ پہلے زمانے میں خواتین کاڑھنے بننے میں مہارت رکھتی تھیں۔ ایک ہی دن میں ایک سویٹر بن کر تیار کر لیا کرتی تھیں۔ تکیوں کے کونوں پراور چادروں پر کشیدہ کاری کرنا ، جمپروں کے دامن اور آستینوں پر کشیدہ کاری کرنا اور کشیدہ کاری کرتے ہوئے بچیوں کو قرآن پڑھانا اور گھریلو کام کاج میں مصروف رہنا روز کا معمول تھا۔ مگر اب یہ چیزیں پرانے زمانے کی بات ہو کر رہ گئی ہیں۔ آج کل یہ سب چیزیں بازار میں دستیاب ہیں۔ اس لئے اس ہنر کو زیادہ تر خواتین نے خیرباد کہہ دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی مشغولیت کے اور بھی کافی ذرائع اب موجود ہیں۔ دل بہلانے کے واسطے موبائل سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سوشل میڈیا پر کافی سے زیادہ وقت گزر جاتا ہے۔
نجمہ طلعت، جمال پور، علی گڑھ
زندگی کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے
کڑھائی بُنائی ایک خوبصورت فن ہے جس کا سلیقہ ہر لڑکی کو ہونا چاہئے۔ پہلے سردیوں کے موسم میں خواتین کے ہاتھوں میں اون اور سلائیاں ہوتی تھیں۔چاہے کہیں جانا ہو یا پھر کسی کو آنا ہو سوئیٹر اور ٹوپی کی تکمیل زیادہ اہم تھی ۔اب اس کی جگہ موبائل فون نے لے لی ہے۔تیز رفتار زندگی میں ہر تیار شدہ چیز کو ترجیح دی جاتی ہے ۔رنگ برنگے دھاگوں سے کرتے اور دامن کی کشیدہ کاری بہت دیدہ زیب ہوتی تھی ۔ اب اس کی جگہ مشین کی کڑھائی کا رواج ہے ۔سوئیٹر سے زیادہ جیکٹ اور کوٹ پسند کئے جاتے ہیں۔ آج کل کی لڑکیاں اس کڑھائی بُنائی کے ہنر سیکھنے کو وقت کا ضیاع سمجھنے لگی ہیں اور کہتی ہیں کہ آنکھیں کمزور ہو جاتی ہیں اور اس میں کون دماغ کھپائے ۔یہ ان کی نادانی والی سوچ ہے۔ کیونکہ جو خواتین اس ہنر میں مہارت رکھتی ہیں ،وہ اسے اپنی آمدنی کا ذریعہ بھی بنا لیتی ہیں۔اس ہنر سے دوری آج کل کے دور میں طبقاتی فرق اور دولت کی فراوانی کی وجہ سے ہے۔پیسہ پھینکو تماشہ دیکھو۔بچت کا تصور نہیں ہے ۔
نور رضوی، لکھنؤ
کڑھائی بُنائی کی اہمیت اب بھی قائم ہے
مصروفیت ایک نعمت ہے ،یه ہماری امی کهتی ہیں۔ جب بھی کالج اور پڑھائی سے کچھ وقت کی مهلت ملتی تو ہمارے ہاتھوں میں کڑھائی بُنائی کرنے کے لئے پکڑا دیتیں اور ساتھ میں یه بھی کهتیں کہ ”سیکھ لواپنا گن راجا ہوتا ہے۔‘‘ وه کهتی کہ کھانے پکانے اور دوسرے کام کے ساتھ ساتھ یه بھی بهت ضروری ہے ۔لیکن مجھے لگتا تھا که موجودہ دَور میں جہاں بازاروں میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اور ڈیزائنر لباس موجود ہے وہاں یه گھر کے بنے کپڑوں کی کیا اہمیت ۔ لیکن یہ میری غلط فہمی تھیں۔ ہم کتنا بھی مہنگا کپڑا پهن لیں کوئی اس کے بارے میں نهیں پوچھتا لیکن اگر کسی کو یه معلوم ہوجائے کہ ہم نے کپڑے پر ڈیزائن خود بنائی ہے تو لوگ بهت ہی شوق سے دیکھتے اور پوچھتے ہیں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کڑھائی بُنائی کا ہنر آج بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ اب خواتین اس ہنر میں کم کم دلچسپی لیتی ہیں ۔ وہ یہ تو چاہتی ہیں کہ ہاتھ کی بنائی کڑھائی والے کپڑے پہنیں لیکن سیکھنے کا شوق ماند پڑگیا ہے۔
عفت احسان ،چکیا آعظم گڈھ