بچّوں کو کفایت شعار بنانے کیلئے مَیں نے یہ اقدامات کئے

Updated: September 22, 2022, 11:47 AM IST | Saima Shaikh | Mumbai

گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں

 Preparation to make children content and thrifty should be from childhood .Picture:INN
بچوں کو قناعت پسند اور کفایت شعار بنانے کی تیاری بچپن ہی سے ہونی چاہئے ۔ تصویر:آئی این این

رزق حلال کھلایا
کفایت شعاری، خوش سلیقگی اور قناعت پسند ہونے کی علامت ہے۔ یہ مَیں نے اپنے بچوں کو شروع سے سکھایا۔ رزقِ حلال کھلایا اور انہیں محنت کی کمائی کی اہمیت سمجھائی۔ بخل و کنجوسی سے کفایت جدا ہے۔ کبھی ان کا جیب خرچ نہیں مقرر کیا بلکہ حسب ضرورت رقم مہیا کی۔ بچے بازار میں سجی سجائی ہر چیز پر متوجہ ہو جاتے ہیں انہیں سمجھا یا کہ ہر چیز تمہارے لئے کارآمد نہیں ہوتی۔ البتہ ضروری اور کام آنے والی اشیاء کو خریدنا چاہئے، کی تلقین کی۔ انہیں سمجھایا کہ اگر اپنے اثاثے کی حفاظت نہیں کی تو تہی دامن رہ جاؤگے اس لئے اپنے سرمایہ کو سوچ سمجھ کر خرچ کرو اور مستقبل کے لئے بچا کر رکھو۔ اپنے خرچ کو ایک ڈائری میں نوٹ کرنا بھی سکھایا تاکہ معلوم ہوسکے کہ کہاں کتنی رقم خرچ کی ہے۔ یہ کام ہر شخص کو کرنا چاہئے، اس سے فضول خرچی سے بچنا ممکن ہوتا ہے۔ بچوں کو ذمہ دار بنایا تاکہ وہ اپنا حساب کتاب موزوں رکھیں۔
نیّارہ رضوی (لکھنؤ، یوپی)
بچی ہوئی رقم کا صحیح استعمال
بچوں کی تربیت والدین کی زندگی کا اہم مقصد ہوتا ہے۔ پیدائش سے ۵؍ سال کی عمر تک والدین بچوں کی صحت پر توجہ دیتے ہیں تاکہ اُن کی نشوونما ٹھیک طرح سے ہو۔ پانچ سے بارہ سال کی عمر کے بچوں میں اگر والدین نے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر دی تو بچہ ایک کامیاب زندگی گزارتا ہے۔ زندگی مسلسل چلنے والا عمل ہے اس میں معاشی اتار چڑھاؤ کا آنا برحق ہے ا س لئے بچوں کو مستقل مزاجی سکھانا اور کفایت شعاری کی عادت ڈالنا بہت ضروری ہے۔ یہ زندگی کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے روزمرہ زندگی میں بچوں کی ضروریات کے لئے جو رقم دی جائیں اس کا مناسب استعمال کرکے اس میں کچھ حصہ ہر ہفتہ اگر بچا لیا جائیں تو آگے ضرورت پر وہ کام آسکتا ہے۔ بچوں میں یہ عادت ڈالنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ بحیثیت معلمہ مَیں طلبہ اسی بات کی تلقین کرتی ہوں۔
قمرالنساء جمیل احمد (مالونی، ملاڈ)
بچوں کو غلہ خرید کر دیا ہے
آج کے اس پرفتن دور میں جبکہ بچوں کو خرافات سے دور رکھنے کیلئے کئی جتن کرنے پڑتے ہیں ایک بہت بڑی برائی ’فضول خرچی‘ ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ بچوں کو فضول خرچی کا احساس ہی نہیں۔ مہنگی سے مہنگی چیز بھی انہیں سستی لگتی ہے۔ بچوں کو قناعت پسند اور کفایت شعار بنانے کی تیاری بچپن ہی سے ہونی چاہئے۔ مَیں نے میرے بچوں کو ان کے سن شعور میں پہنچنے سے پہلے ہی غلہ خرید کر دیا اور آج تک وہ اپنی بچی ہوئی رقم اس میں جمع کرتے ہیں۔ ایک غلہ مَیں نے دروازے کے قریب رکھےٹیبل پر رکھ دیا ہے، گھر سے باہر جاتے وقت غلےمیں صدقے کی رقم ڈالنے کی عادت ڈالی ہے۔ غریبوں اور فقیروں کو روپے بچوں کے ہاتھوں سے دلواتی ہوں تاکہ ان میں بھی یہ عادت پروان چڑھے۔ بچوں کو اپنے اسلاف کے قصے اور نبیوں اور اولیاء کرام کے قصے سنانا ضروری ہے تاکہ وہ زیادہ کی لالچ میں اپنا سکون غارت نہ کر بیٹھیں۔ 
صبا شاداب (میرا روڈ، تھانے)
گلک میں پیسہ جمع کرنے کی عادت
اکثر گھروں میں بچوں کو اسکول روانہ کرتے وقت انہیں کچھ پیسے دیئے جاتے ہیں تاکہ بچے خوشی خوشی اسکول جائیں اور اپنی سہولت و پسند کے مطابق کوئی چیز لے کر کھا سکیں۔ آہستہ آہستہ یہ عادت اتنی پختہ ہوجاتی ہے کہ اگر ایک دن بچے کو پیسہ نہ دیا جائے تو وہ ہنگامہ کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح پیسہ دینے کا دوسرا نقصان یہ بھی ہے کہ بچہ ان پیسوں سے باہر سے چیزیں لے کر کھانے لگتا ہے جو ان کی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بچوں کو کفایت شعار بنانے کیلئے انہیں گلک خرید کر دیں۔ انہیں اس کی آفادیت بتائیں جیسے کہ جب گلک بھر جائے گا تو آپ کی پسند کی کوئی چیز خریدیں گے یا کوئی ضروری کام انجام دیں گے۔ یہ عمل میرا آزمایا ہوا ہے، اس سے بچے میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ مجھے میرے پیسے ضائع نہیں کرنا بلکہ کسی صحیح کام میں صرف کرنا ہے اور یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات بچے کو کفایت شعاری کی جانب لے جاتے ہیں۔
خان شبنم محمد فاروق (ممبئی)
روپے کی اہمیت بتائیں
کفایت شعاری کے معنی ہے کہ انسان اپنے اخراجات اور خریداری کے معاملہ میں اعتدال توازن اور میانہ روی اختیار کرے نیز غیر ضروری اخراجات سے پرہیز کرے۔ پیارے نبی کریمﷺ کا فرمان ہے خرچ میں میانہ روی آدھی زندگی ہے۔ دور حاضر میں کفایت شعاری کی اشد ضرورت ہے۔ یہ ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کم عمری ہی سے کفایت شعاری کے بارے میں بتائیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے خرچ کو ایک ڈائری میں نوٹ کرنا سکھائیں۔ غیر ضروری چیزوں کی ضد کرنے پر انہیں سمجھائیں کہ جو چیزیں ضروری ہیں ان پر ہی خرچ کرنا چاہئے۔ سب سے اہم روپیہ کتنی محنت سے کمایا جاتا ہے، اس بارے میں بتائیں۔ اس سے وہ اس کی قدر کرنا سیکھیں گے۔ بے جا خواہشات کو محدود کرنا سکھائیں۔ ان باتوں پر عمل کرکے مائیں اپنے بچّوں کو کفایت شعار بنا سکتی ہیں۔ 
تحسین حسن (بھیلسر، ایودھیا)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK