گھر میں جگہ کی کمی اور سامان کی بھرمار.... کیا کیا جائے؟

Updated: May 12, 2022, 11:51 AM IST | Agency | Mumbai

مکان اور گھر میں فرق ہے۔ یہی فرق گھر اور باسلیقہ گھر میں ہے۔ گھر کے در و دیوار سے جھلکتا سلیقہ دراصل گھر کے لوگوں کا سلیقہ ہوتا ہے، اس سے گھر کی رونق دوبالا ہوتی ہے

While arranging the room, it is prudent to keep the luggage in an orderly manner so that many things can be collected..Picture:INN
کمرے کی ترتیب کے دوران سمجھداری کا تقاضا یہی ہے کہ سامان منظم انداز میں رکھا جائے، اس طرح کئی چیزیں سمٹ جاتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

شہروں میں زیادہ تر لوگ اب فلیٹس میں رہتے ہیں جس میں ایک بڑا مسئلہ سامان رکھنا بھی ہوتا ہے۔ جگہ کی کمی اور سامان کی بھرمار کی وجہ سے گھر کے افراد پریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ہیں۔ اکثر صرف ضرورت کے سامان پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ایسے میں سمجھ نہیں آتا کہ کون سی چیز پھینکیں اور ضرورت کی چیزیں رکھنے کی جگہ کہاں سے لائیں۔ لیکن اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں چند ایسے طریقے بتائے جا رہے ہیں جن سے اب آپ کو اپنا قیمتی سامان پھینکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور گھر بھی کشادہ لگے گا:
اسٹینڈ یا جالی کا استعمال
 یہ طریقہ خاص طور پر باورچی خانے میں جگہ بنانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کچن میں کتنے ہی بڑے کیبنٹس کیوں نا موجود ہوں۔ کیبنٹ کی سطح پر چیزیں رکھنے کے بعد جگہ نہیں بچتی۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ کیبنٹس کے اندر اسٹینڈ یا جالیوں کا استعمال کریں جس سے ایک کے اوپر ایک چیزیں رکھنا ممکن ہو اور بوتلیں یا ڈبے ایک دوسرے سے ٹکرائیں بھی نہیں۔ یہ اسٹینڈ عام طور پر پلاسٹک کے بنے ہوتے ہیں اور بازار میں آسانی سے مل جاتے ہیں۔
چیزوں کو زیادہ سے زیادہ لٹکا کر رکھیں
 ایک بہترین طریقہ جو پورے گھر میں استعمال ہوسکتا ہے وہ ہے کہ چیزوں کو لٹکایا جائے۔ اس کے لئے سب سے اچھی جگہ دروازے کے پیچھے والا حصہ ہے۔ دروازے کے پیچھے ہک نصب کروا کے کپڑوں کے علاوہ دیگر ضروری اشیاء بھی شاپر یا پھر آرگنائزرز میں ڈال کر لٹکائی جاسکتی ہیں۔ الماری کے اندر بھی جیولری، ٹائی، دوپٹے اور اسی طرح کی چیزوں کو لٹکا کر رکھنے سے جگہ بنائی جاسکتی ہے۔ گھر کی چابیاں وغیرہ بھی دیوار پر ہک میں ہینگ کی جاسکتی ہیں جس سے ان کے کھونے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔
بستر کے نیچے اسٹوریج
 جن کپڑوں کا موسم گزر چکا ہے انہیں بستر کے نیچے اسٹوریج کے ڈبوں یا زپ والے بیگز میں ڈال کر رکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح جوتے، اضافی تکیے اور گھر کی باقی اشیاء بھی اس جگہ اسٹور کی جاسکتی ہیں۔ بیڈ کے نیچے والے حصے میں بڑے بڑے دراز بنانا اس مقصد کے لئے ایک اچھا خیال ہے۔ اس طرح چیزوں پر دھول مٹی نہیں جمتی۔
سیڑھیوں کے نیچے
 سیڑھی کے نیچے والا حصہ گھروں میں گندا یا بیکار چھوڑ دیا جاتا ہے جسے اگر مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ اسٹوریج کے لئے کافی اچھا رہتا ہے۔ یہاں بھی شیلف رکھے جاسکتے ہیں جہاں بچوں کے کھلونے، کتابیں اور جوتے وغیرہ رکھے جاسکتے ہیں۔ اکثر بچوں کے کپڑے رکھنے کے لئے پریشانی ہوتی ہے۔ آپ سیڑھی کے نیچے بنے اسٹوریج کو بطور الماری استعمال کرسکتی ہیں۔
 دیواروں کے کنارے
 دیوار کے کارنر چیزیں رکھنے کے لئے پرفیکٹ جگہ ہیں۔ یہاں آپ چاہیں تو کتابیں بھی ترتیب سے رکھ سکتے ہیں اس کے علاوہ اگر آپ کو کسی چیز کو جمع کرنے کا شوق ہے تو اسے کسی جگہ ٹھونسنے کے بجائے ان کارنرز پر سجا کے رکھنے سے خوبصورتی میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ کارنر پر شیلف بنانے سے کمرہ تنگ نہیں لگتا اور کافی جگہ مل جاتی ہے۔
فرنیچر کا استعمال
 چھوٹی یا تنگ جگہوں کے لئے ایسا فرنیچر جو سامان رکھنے میں بھی مدد دے ایک اچھی تجویز ہے۔ سامان رکھنے کی ایسی جگہ جو دیواروں یا فرنیچر کے رنگ سے میل کھاتی ہو، کمرے کو منظم دکھاتی ہے۔ باورچی کھانے کی الماریوں کی طرح باہر کو کھلنے والی درازیں کسی بھی جگہ پر سامان رکھنے کا آسان حل ہیں۔ البتہ ان میں سامان منظم انداز میں رکھنے کی کوشش کریں تاکہ زیادہ سامان ان میں سما جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK