ملک کی کئی اسکیمیں خواتین کو بااختیار بنانے میں معاون ہیں

Updated: June 22, 2022, 11:11 AM IST | Dr.Sharmeen Ansari | Mumbai

حکومت ِ ہند نے خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے والی کئی اسکیمیں متعارف کروائی ہیں، ان کا مقصد نہ صرف خواتین کو معاشی تقویت فراہم کرنا ہے بلکہ انہیں بااختیار بھی بنانا ہے۔ اس مضمون میں چند اسکیموں کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے

Apart from daughter protection and daughter education, many welfare schemes have been introduced by the Government of India, but better .Picture:INN
بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ کے علاوہ کئی فلاحی اسکیمیں حکومت ہند کی جانب سے متعارف کی گئی ہیں مگر ان کا بہتر نفاذ ضروری ہے۔ تصویر: آئی این این

پچھلے کچھ برسوں میں حکومت ِ ہند نے خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے والی کئی اسکیمیں متعارف کروائی ہیں، ان کا مقصد نہ صرف خواتین کو معاشی تقویت فراہم کرنا ہے بلکہ انہیں بااختیار بھی بنانا ہے۔ ذیل میں خواتین کو بااختیار بنانے والی اسکیموں کی فہرست اور ان کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے، ملاحظہ فرمائیں:
بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ
 اس اسکیم کا مقصد بچیوں کے تحفظ اور تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ اس اسکیم کا مقصد جنسی تناسب کے مسائل کو حل کرنا، سماجی بیداری پیداکرنا اور لڑکیوں کیلئے فلاحی خدمات کی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔ ایسا خاندان جس میں لڑکی کی عمر ۱۰؍ سال سے کم ہو یا ایساخاندان جس کا کسی بھی قومی بینک میں سوکنیا سمردھی اکاؤنٹ ہو اس اسکیم سے استفادہ کرسکتا ہے۔
ورکنگ ویمن ہوسٹل
 کام کرنے والی خواتین کے لئے محفوظ رہائش و ماحول کو فروغ دینے اور ان کے بچوں کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے حکومت ہند نے ’’ورکنگ وومن ہاسٹل ‘‘کی اسکیم متعارف کروائی ہے۔ حکومت ہند خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے اس اسکیم کے ذریعے ہاسٹل کی نئی عمارتوں کی تعمیر اور توسیع کے لئے ’’گرانٹ ان ایڈ‘‘ فراہم کرتی ہے۔یہ اسکیم کام کرنے والی خواتین (اکیلی، بیوہ، شادی شدہ، طلاق یافتہ وغیرہ) معاشرے کے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی اور ملازمت پیشہ خواتین کیلئے ایک خاص ترجیح فراہم کرتی ہے۔ 
ون اسٹاپ سینٹر اسکیم
 یہ ایک مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم ہے اور اسے نربھیا فنڈ سے چلایا جاتا ہے۔ ریاستی حکومتوں کو عوامی اور نجی جگہوں پر تشددسے متاثرہ خواتین کے تحفظ کیلئے سو فیصد امداد ملتی ہے۔ تشدد سے متاثرہ خواتین مثلاً تیزاب حملے، عصمت دری اور جنسی ہراسانی وغیرہ کیلئے ایک ہی چھت کے نیچے اس اسکیم کے تحت طبی اور قانونی امداد فراہم کی جاتی ہے۔  تشدد سے متاثرہ تمام خواتین قطع نظر طبقے، ذات، علاقے، مذہب اس اسکیم سے استفادہ کرسکتی ہیں۔ 
ویمن ہیلپ لائن اسکیم
 یہ گورنمنٹ اسکیم ہفتہ کے ۷؍ دن اور ۲۴؍ گھنٹے خواتین کو نجی یا عوامی علاقوں میں تحفظ فراہم کرنے کے لئے تشکیل دی گئی ہے۔ خواتین کے ہیلپ لائن نمبروں کا یونیورسلائزیشن ہر ریاست اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں ایک ہی ٹول فری نمبر 181 کے ذریعے کیاگیاہے جوملک بھر میں خواتین کو فوری مدد فراہم کرتا ہے۔  کوئی بھی خواتین یالڑکیاں جو تشددکاشکار ہوں، اس نمبر پر اپنی شکایت درج کروا سکتی ہیں۔
مہیلا ای ہاٹ
 مہیلا ای ہاٹ خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کی طرف سے شروع کی گئی ایک پہل ہے۔ یہ اسکیم خواتین جو اپنا کاروبار کرتی ہیں انہیں ٹیکنالوجی کے استعمال کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہ خواتین اپنی مصنوعات اور تیار شدہ اشیاء آن لائن پلیٹ فارم پر پیش کرتی اور فروخت کرتی ہیں۔ صرف موبائل اور انٹرنیٹ کنکشن کے ساتھ خواتین اپنی مصنوعات کی تفصیلات اور تصاویر کے ساتھ نمائش کرسکتی ہیں اور خریدار اور سیلرز ٹیلی فون یا ای میل کے ذریعے ان سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔
استفادہ کنندگان: کاروباری خواتین، خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ، این جی اوز۔
مہیلاپولیس والینٹئرس
 خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت نے امور داخلہ کے ساتھ مل کر تمام ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مہیلا پولیس رضاکار اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ مرکزی حکومت کے زیرانتظام اس اسکیم کا مقصد پولیس حکام اور مقامی افراد کے درمیان ایک ربط پیداکرناہے تاکہ جرائم کے معاملات پر رسائی کو یقینی بنایاجاسکے۔ یہ اسکیم خواتین کیلئے تحفظ فراہم کرتی ہے اورخواتین کیلئے محفوظ ماحول پیداکرتی ہے۔ اورخواتین کو پولیس فورس میں شامل ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔ خواتین درخواست دہندگان کی عمر ۲۱؍ سال ہونی چاہئے۔ l خواتین درخواست دہندگان کے پاس ۱۲؍ ویں جماعت کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہئے۔ l اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہونا چاہئے۔ 
مہیلاشکتی کیندر
 اس اسکیم کا مقصد خواتین کو ہنر آراستہ کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اورڈجیٹل خواندگی کو بڑھانے کیلئے ایک جگہ تربیت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکیم متعدد سطحوں پر کام کرتی ہیں۔ مثلاً قومی سطح، ریاستی سطح اورضلعی سطح۔ حکومت نے پسماندہ علاقوں میں تقریباً ۹۲۰؍ اضلاع میں شکتی کیندر قائم کئے ہیں۔  دیہی اور پسماندہ علاقوں کی خواتین اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK