منفی سوچ رشتے میں دوری پیدا کرسکتی ہے

Updated: January 19, 2022, 1:49 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

بعض اوقات ہم منفی سوچ کے سبب اپنی زندگی کو اجیرن بنا دیتے ہیں۔ میاں بیوی کا رشتہ بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ اکثر منفی سوچ کے سبب اس رشتے میں دراڑ پیدا ہو جاتی ہے۔ رشتے کو برقرار رکھنے اور اسے خوبصورتی سے جینے کیلئے اپنے دماغ سے منفی خیالات کو نکال دیں، اس شعوری کوشش سے کافی راحت ملتی ہے

Negative thinking can lead to a rift in a happy marriage..Picture:INN
منفی سوچ کے سبب خوشحال ازدواجی زندگی میں دراڑ پیدا ہو جاتی ہے۔ تصویر: آئی این این

 زندگی بہت مختصر ہے اسے کھل کر جئیں۔ بعض اوقات ہم خود اپنی زندگی کو اجیرن بنا دیتے ہیں، اس کی وجہ ہماری منفی سوچ ہے۔ یہ سوچ ہمیں سکون سے رہنے نہیں دیتی۔ میاں بیوی کے رشتے کی بات کی جائے تو یہ بہت خوبصورت رشتہ ہوتا ہے، جسے ہم اکثر اپنی منفی سوچ کی وجہ سے داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ رشتے کو برقرار رکھنے اور اسے خوبصورتی سے جینے کے لئے اپنے دماغ سے منفی خیالات کو نکال دیں، اس شعوری کوشش سے کافی راحت ملتی ہے۔

خود کو بدلیں  

ہمیں ہمیشہ دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنے کے بارے میں غور کرنا چاہئے۔ دوسروں کی سوچ کے بجائے پہلے اپنی سوچ کو مثبت بنانا ہوگا۔ مثبت سوچ نہ صرف حالات میں بلکہ رویوں میں بھی تبدیلی لاتی ہے۔ منفی سوچ کئی گھروں کو برباد کر چکی ہے۔ منفی سوچ کے سبب خوشحال ازدواجی زندگی میں دراڑ پیدا ہو جاتی ہے۔ کبھی بھی کسی دوسرے کے معاملات کو اپنے سے جوڑ کر نہ دیکھیں، کہ آپ کے گھر والے بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

تناؤ سے دوری

4 زندگی میں کئی بار ایسا ہوتا ہے جس پر ہمارا بس نہیں چلتا۔ ایسی صورتحال میں اپنے آپ کو اور اپنے شریک حیات کو منفی سوچنے سے روکنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کے شریک حیات کے ساتھ کوئی پریشانی ہے تو اسے اپنا بھرپور ساتھ دیں، منفی باتیں کر کے اس کا حوصلے پست نہ کریں۔

الزام تراشی سے اجتناب برتیں

 ہمیشہ کسی کام کے کامیاب نہ ہو پانے پر شریک حیات پر الزام نہ لگائیں کہ اس کی وجہ سے وہ کام ناکام ہوگیا یا ہمیشہ یہ کہتے رہنا کہ جب سے تم میری زندگی میں آئے ہو، تب سے ایسا ہو رہا ہے... ایسا وہ لوگ کہتے ہیں جن کی سوچ منفی ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی سے گریز کیا جائے۔ الزامات لگانے سے تعلقات میں تلخی پیدا ہوجاتی ہے اور پھر دھیرے دھیرے رشتہ کمزور ہوجاتا ہے۔ فوری ردعمل ظاہر  نہ کریں  اکثر میاں بیوی میں اس بات پر لڑائی ہوتی ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے کسی بات پر ردعمل ظاہر کر دیتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا منفی عمل ہے جس میں آپ نے سوچے سمجھے بغیر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس سے تناؤ بڑھتا ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے شریک حیات کی پوری بات سنیں اور اس کی بات سمجھ کر ردعمل ظاہر کریں۔

روک ٹوک سے چڑنا درست نہیں

 کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کا شریک حیات زیادہ فکر کرنے کی وجہ سے آپ سے بار بار سوال کرتا ہے یا فون کرتا ہے یا پورے دن کا جائزہ لیتا ہے کہ تم نے پورے دن کیا کیا....؟ تو اس معاملے کو منفی رخ نہ دیں۔ ایسی حالت میں یہ ضروری ہے کہ آپ اس کا احترام کریں۔ اس کی فکر کو روک ٹوک نہ سمجھیں۔ اگر وہ آپ سے کچھ پوچھتا ہے، تو آپ کے تئیں اس کی فکر کو سمجھیں۔

پرسنل اسپیس ضروری ہے

 میاں بیوی کے درمیان پرسنل اسپیس بہت ضروری ہوتا ہے۔ کئی بار آپ کی منفی سوچ آپ پر حاوی ہوجاتی ہے۔ آپ رشتے میں پرسنل اسپیس دینے کے بجائے ضرورت سے زیادہ روک ٹوک کرنے لگتے ہیں۔ اس سے رشتے میں دراڑیں پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ خاص طور پر شادی شدہ زندگی میں اس کا ہونا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کی پسند، ناپسند اور خاص کر ذاتی آزادی کا خیال رکھنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔

ہمیشہ شک کرنا

 میاں بیوی کا رشتہ یقین کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ لیکن شریک حیات پر شک کرنا آپ کی منفی سوچ کا نتیجہ ہے۔ اکثر خواتین اپنے شوہر پر بے وجہ شک کرتی رہتی ہیں۔ اسی طرح کئی مرتبہ شوہر، جن کی بیویاں ملازمت پیشہ ہیں، پر شک کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہمیشہ منفی سوچنے کے بجائے اپنی سوچ میں مثبیت لائیں تبھی آپ اپنی زندگی خوشحال طریقے سے گزار پائیں گے۔

فرمائش پوری نہ ہونا

 میاں بیوی کی زندگی میں منفیت تب شروع ہوتی ہے جب بیوی کو لگتا ہے کہ میرا شوہر میری خوشی کے بارے میں نہیں سوچتا۔ وہیں بیوی کا ہمیشہ بےجا فرمائشوں کے لئے لڑنا شوہر کے ذہن میں منفی جذبات کو پنپنے دیتا ہے جس کی وجہ سے ذہن میں ایک دوسرے کے لئے کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ بیوی، شوہر کی محدود آمدنی میں گزارہ کرنا سیکھیں اور خوش و خرم زندگی گزاریں، یہ مثبت رویہ رکھیں کہ آج نہیں تو کل سب ٹھیک ہوجائے گا۔

پرانی باتیں بھول جائیں

 اکثر مشاہدہ میں آتا ہے کہ آپ پرانی باتوں کے تعلق سے جھگڑتے رہتے ہیں، اس معاملے میں ضروری ہے کہ ماضی میں ہوئی باتوں کو چھوڑ کر آج میں جئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK