عید کی مبارکباد فوٹوز، ویڈیوز یا ایموجیز سے نہیں بلکہ مل کر یا فون کرکے حقیقی جذبات کے ساتھ دیں۔ اپنے حقیقی جذبات کا اظہار کریں۔ چونکہ عید، باسی اور تیواسی گزر چکی ہے لیکن عید کی مبارکباد دینے کا سلسلہ کچھ دنوں تک جاری رہے گا تو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنوں سے ملاقات کریں اور انہیں مبارکباد پیش کریں۔
ڈجیٹل دنیا نے عید کی خوشی کو دکھاوا میں بدل دیا ہے۔ تصویر: آئی این این۔
عید منانے کے لئے کئی تیاریاں کی جاتی ہیں۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ اس کو منانے کے انداز میں تبدیلیاں آرہی ہیں۔ حالانکہ یہ تبدیلیاں خوش آئند اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں، مگر عید منانے کے روایتی انداز کی یاد دل میں کسک بن جاتی ہے۔ ہر دور میں عید کے نقش بڑے دلفریب ہوتے ہیں۔ تاہم، جدید ٹیکنالوجی کے زیرِ اثر زندگی کے دیگرشعبوں کی طرح عید کا مفہوم بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے اور وہ خوشیاں جو کبھی اپنوں کی قربت میں سمیٹی جاتی تھیں، اب موبائل فون کیمروں کی آنکھ میں قید ہو کر سوشل میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔
بدقسمتی سے آج عید کی خوشی کا اظہار حقیقی میل ملاپ اور ملاقاتوں کے بجائے تصاویر اور سیلفیز کے ذریعے کیا جانے لگا ہے۔ اب عید کے موقع پر تقریباً ہر کوئی خاص طور پر خواتین اور بچے اپنی بہترین زاویے سے تصویر کھینچنے، اُسے فلٹرز کی مدد سے مزید دلکش بنانے اور پھر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے زیادہ سے زیادہ ”لائکس“ اور ”کمنٹس“ بٹورنے میں کوشاں نظر آتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے نہ صرف عید کی اصل روح کو پس پشت ڈال دیا ہے بلکہ ہمارے سماجی رویوں میں بھی ایک غیرمحسوس سی تبدیلی پیدا کرد ی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تصاویر اور سیلفیز حقیقی خوشی کا مظہر ہیں یا محض سوشل میڈیا پر نمایاں ہونے کا ایک ذریعہ ہیں؟
ماضی میں عید کی صبح خاص روحانی و جذباتی منظر پیش کرتی تھی۔ نمازِ عید ادا کرنے کے بعد بزرگوں کی دعائیں لینا، رشتے داروں سے ملنا جلنا، مستحقین اور اپنوں سے بچھڑنے والوں کی دلجوئی ہماری روایات کا حصہ تھی۔ مگر آج عید کے موقع پر ان تمام جذبات کو پس پشت ڈال کر سب سے پہلے سیلفیز لینا اور پھر اُنہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا گویا ایک لازمی رسم بن چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نمازِ عید کے فوراً بعد ہی فیس بُک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور وہاٹس ایپ سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تصاویر کی بھرمار ہوجاتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ رجحان محض خوشی کو قید کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک غیرمحسوس مسابقت بھی ہے۔
خوبصورت لباس، قیمتی جوتے، ٹرینڈی میک اپ، پرتکلف ضیافتیں اور دلکش مقامات سمیت عید سے جڑی دیگر روایات ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکی ہیں کہ جس میں ہر کوئی اپنی خوشیوں کو سب سے زیادہ متاثر کن انداز میں پیش کرنا چاہتا ہے اور اِس دوڑ میں لوگ اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ اُنہیں عید کے لمحات سے حقیقی معنوں میں لُطف اندوز ہونا یاد ہی نہیں رہتا۔
عید کے قیمتی اور یادگارلمحات سوشل میڈیا کے نذر کرنے کے نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی اثرات بھی نہایت گہرے ہیں۔ ایک طرف یہ کلچر اُن لوگوں میں احساس کمتری پیدا کر رہا ہے کہ جو عید کے موقع پر کسی بھی وجہ سے منہگے ملبوسات پہننے اور شاندار تقریبات یا دلکش مقامات پر جانے سے قاصر ہیں، تو دوسری جانب اس رجحان نے عید کی حقیقی خوشیوں کو ایک سطحی اور نمائشی مقابلے میں بدل دیا ہے، جہاں محبت، خلوص اور باہمی مسرت کے بجائے محض سوشل میڈیا پر ملنے والے لائکس اور کمنٹس ہی کو خوشی کا پیمانہ سمجھا جانے لگا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا نے جہاں ایک طرف دور دراز بسنے والے عزیز و اقارب سے رابطے کو آسان بنا دیا ہے، وہیں اس نے حقیقی انسانی تعلقات کو مصنوعی اور سرسری سطح پر لاکھڑا کیا ہے۔ وہ عید، جو کبھی محبت و یگانگت کے اظہار کا دن ہوا کرتی تھی، اب ڈجیٹل عید میں تبدیل ہوچکی ہے اور وہ ملاقاتیں، جو پہلے محبت سے لبریز اور دعاؤں سے معمور ہوا کرتی تھیں، اب چند ڈجیٹل پوسٹس، ایموجیز اور تبصروں میں سمٹ چکی ہیں۔
خدارا! عید کے اصل مفہوم پر غور کریں اور اِس دن کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ منائیں۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا اور حقیقی زندگی کے درمیان توازن پیدا کریں، مصنوعی مسابقت سے گریز کریں اور اپنوں کے ساتھ خوشی کےاصل لمحات سے لطف اندوز ہوں۔
عید کی مبارکباد فوٹوز، ویڈیوز یا ایموجیز سے نہیں بلکہ مل کر یا فون کرکے حقیقی جذبات کے ساتھ دیں۔ اپنے حقیقی جذبات کا اظہار کریں۔ چونکہ عید، باسی اور تیواسی گزر چکی ہے لیکن عید کی مبارکباد دینے کا سلسلہ کچھ دنوں تک جاری رہے گا تو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنوں سے ملاقات کریں اور انہیں مبارکباد پیش کریں کیونکہ عید صرف ایک تہوار نہیں، یہ محبت، اخوت اور اجتماعیت کا استعارہ ہے۔
اگر ہم اپنے رویوں میں توازن لے آئیں اور عید کی حقیقی خوشیوں کو فوقیت دیں تو جدیدیت اور روایت کو ہم آہنگ بھی کرسکتے ہیں، بجائے اس کے کہ عید کی اصل روح کہیں کھو جائے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس دن کو حقیقی معنوں میں جینے کی کوشش کریں اور عید کی خوشیوں کو سوشل میڈیا کے بجائے حقیقی زندگی میں محسوس کریں۔