• Wed, 26 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماہِ رمضان المبارک اور خواتین کی تیاری

Updated: February 26, 2025, 11:48 AM IST | Mumabi

اس ماہ میں خواتین کے کام، فرائض اور ذمہ داریوں میں اضافہ ہوجاتا ہے جس کے باعث نہ صرف جسمانی تھکاوٹ بڑھ جاتی ہے بلکہ انہیں ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا بھی سامنا ہوتا ہے لیکن یہ تمام سرگرمیاں محنت اور مشقت کے باوجود باعث مسرت ہوتی ہیں وہ اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کی جستجو کے ساتھ گھر والوں کی دیکھ بھال اور ان کے حقوق ادا کرتی ہیں

In the true sense, this month is a month for women to maintain balance in worship and work. Photo: INN
صحیح معنوں میں یہ مہینہ خواتین کے لئے عبادات اور کاموں میں توازن برقرار رکھنے کا مہینہ ہے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کا مہینہ اپنی تمام تر عظمتوں، برکتوں اور رحمتوں کیساتھ ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ ملت اسلامیہ کا ہر فرد بے چینی سے منتظر ہے اس ماہِ مبارک کی آمد کا۔ رمضان المبارک کا مہینہ وہ فصل بہار ہے جس میں رب کریم اپنی خاص عنایات، نوازشات کے ساتھ اپنے ان بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس میں رب کی رحمت اور مغفرت کے منتظر ہوتے ہیں۔ تقویٰ اور پرہیزگاری لانے والا یہ مہینہ اللہ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو اس نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں۔ یہ وہ ماہِ مقدس ہے جس میں رب العالمین نے اپنا کلام نازل کیا اور جس نے اپنے دامن میں اس عظیم الشان رات کو بھی سمویا ہوا ہے جو لیلۃ القدر کہلاتی ہے اور ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ خوش نصیب ہوگا وہ جسے ایک بار پھر رمضان کی مبارک ساعتیں میسر آئیں اور انتہائی بدنصیب ہوگا وہ جسے یہ ماہِ مبارک ملے اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اگر غور کیا جائے تو سفر کی تیاری سفر شروع ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ رمضان ایک سفر ہے، تزکیہ کا سفر۔ اس سفر کی تیاری شروع سے ہی کرنا عقل و دانش کا تقاضا ہے تاکہ یکسوئی اور اطمینان سے روحانی پرواز حاصل کی جائے اور انسانیت کی معراج حاصل کی جائے۔
 نیکیوں کے اس موسم بہار کا حق ہے کہ اس کی تیاری پہلے سے کی جائے۔ ویسے تو مذہبی نقطۂ نظر سے رمضان المبارک میں عبادت کے حوالے سے سب کیلئے یکساں احکامات ہیں اور سب ایک ہی طرح کے جذبہ ایمانی اور خوشی سے ماہِ رمضان کا استقبال کرتے ہیں لیکن گھریلو، سماجی، ثقافتی اقدار اور روایات ان کو خواتین کیلئے ایک بہت مختلف تجربہ بناتی ہیں۔ صبح کی سحری سے شروع ہونے والے کاموں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ افطاری اور اس کے بعد رات کے کھانے اور دوبارہ سحری بنانے تک جاری رہتا ہے۔ خواتین کے دن کا آغاز بچوں کو ناشتہ کرانے سے ہوتا ہے۔ اس ماہ میں خواتین کے کام، فرائض اور ذمہ داریوں میں اضافہ ہوجاتا ہے جس کے باعث نہ صرف جسمانی تھکاوٹ بڑھ جاتی ہے بلکہ انہیں ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا بھی سامنا ہوتا ہے لیکن یہ تمام سرگرمیاں محنت اور مشقت کے باوجود باعث مسرت ہوتی ہیں وہ اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کی جستجو کے ساتھ گھر والوں کی دیکھ بھال اور ان کے حقوق ادا کرتی ہیں۔ صحیح معنوں میں یہ مہینہ خواتین کے لئے عبادات اور کاموں میں توازن برقرار رکھنے کا مہینہ ہے۔ خواتین ہمیشہ اس معاملے میں نہایت الرٹ اور محتاط رہتی ہیں اور منصوبہ بندی پہلے سے کر لیتی ہیں۔ ہم نے اپنے گھروں میں دیکھا کہ رمضان سے پہلے خواتین نفلی روزوں کا خوب اہتمام کرتیں۔ چٹنی، اچار، مربے اور مسالے تیار کرکے رکھ لیتیں۔ عید کی تیاری، بازاروں کے کام نمٹا لیتیں۔ تراویح کیلئے سورہ یاد کرنے کا اہتمام کرتیں۔ بچوں کو روزوں کے فضائل اور احکامات بتائیں۔ نظام الاوقات کے ذریعے کاموں کی تنظیم کرتیں۔ گھر کی اچھے سے صفائی کر لیتیں۔
 خواتین کی کوشش ہونی چاہئے کہ اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزاریں اس لئے مصروفیات کو اس طرح ترتیب دیں کہ عبادت کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت نکل سکے۔ صبح کے اوقات میں ہی ضروری کام کریں مثلاً پکوڑوں کے لئے بیسن میں تمام اجزاء اور مسالے ملا کر فریج میں رکھ دیں۔ آپ پہلے سے بھی کچھ چیزیں تیار کرکے فریز کرسکتی ہیں نیز افطار میں زیادہ اہتمام سے بچئے۔ آپ کا کافی وقت پس انداز ہوگا۔
 اس بابرکت مہینے کو بچوں کی تربیت کا حصہ بنالیں۔ انہیں رمضان المبارک کی عظمت کا احساس دلائیں۔ یہ کوشش بھرپور کریں کہ ہر کوئی فرد رمضان المبارک کے انوار و سعادتیں حاصل کرے۔ بخشش کا موقع مل رہا ہے اس لئے جسم کو تھکا دیں۔
 رمضان المبارک کے دن اور رات کا ایک ایک لمحہ اتنا قیمتی ہے کہ ایک پوری زندگی دے کر بھی اس کا نعم البدل ملنا محال ہے اس لئے ماہ مبارک کے شروع ہونے سے پہلے ایک فہرست بنالی جائے کہ اس میں وہ دنیاوی امور جو انجام دینا ناگزیر ہیں اور جن کی بجا آوری ضروری نہیں۔ ترجیحات کا تعین انسان کو سچی خوشی اور کامیابی عطا کرتا ہے۔ یہ ایام ِ معدودات یعنی گنتی کے چند دن ہیں خواتین کو بھی اس کے لئے مساوی وقت ملنا چاہئے۔
 عبادات کے حوالے سے دو پہلو پیش نظر رکھیں۔ ایک منکر سے اجتناب اور دوسرا معروف سے رغبت۔ ملازمت پیشہ خواتین بھی نظام الاوقات کو اس ترتیب سے مرتب کریں کہ عبادات کو بھرپور موقع ملے کوئی گھڑی ضائع نہ ہو۔
 خواتین اپنے ملازموں اور دیگر ماتحتوں کے کام کو کم کر دیں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ صدقہ و خیرات، زکوٰۃ کا خیال رکھیں۔ سوشل میڈیا پر روک لگا دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ کی رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں سے مالا مال کرے (آمین)۔

Odhani Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK