Inquilab Logo Happiest Places to Work

عید، باسی اور تیواسی، تین دِن، تینوں بہت اہم

Updated: April 02, 2025, 11:15 AM IST | Mumbai

عید کا کافی انتظار کیا جاتا ہے مگر عید آتی ہے اور گزر جاتی ہے یہ الگ بات کہ اِن تین دنوں کی سرگرمیوں میں کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا ہے جو یادگار بن جاتا ہے۔ ذہن کے البم میں دیکھئے ایسی کتنی یادگار محفوظ ہیں!

odhani speical eid basi and tiwasi three days all three very important
عید کی خوشی خواتین اور بچوں سے منسوب ہے، ان کی خوشی عید کے تینوں دن برقرار رہتی ہے۔ تصویر: آئی این این

مسجد سے فجر کی نماز کی آواز آرہی تھی اور اِدھر گھروں سے سویوں کے گھی میں بھننے کی خوشبو آرہی تھی۔ مرد، خواتین اور بچے، سبھی اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ہر گھر میں ایک خوشگوار سی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ کوئی نہانے کے انتظار میں تھا تو کوئی رومال تلاش کر رہا تھا۔ خواتین خانہ شیرخرما بنانے میں مصروف ہیں تو بچیاں کپڑوں کے ساتھ میچنگ چوڑیوں کا سیٹ بنانے میں مصروف۔ عید کے موقع پر یہی منظر ہر جگہ نظر آتا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ ہنسی خوشی کے ساتھ عید گزر گئی۔ لیکن اب بھی گھروں، محلوں، علاقوں میں عید کا ماحول ہے۔
باسی عید پر رشتہ داروں اور عزیزوں کے یہاں جانے کا سلسلہ رہتا ہے۔ یہ دن خواتین کیلئے بے حد خاص ہوتا ہے کیونکہ عید کے دوسرے دن خواتین اپنے میکے جاتی ہیں۔ بچوں کو بھی ننھیال جانے کی خوشی ہوتی ہے۔ دراصل انہیں نانا نانی، ماموں ممانیوں کی جانب سے عیدی ملنا کا انتظار رہتا ہے۔ بیٹیاں آنے والی ہوتی ہیں اسلئے مائیں خوب اہتمام بھی کرتی ہیں۔ ان کی پسند کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ موقع بے حد جذباتی ہوتا ہے۔ اس موقع پر ہم سے بچھڑ جانے والے اپنوں کو بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اکثر شدت جذبات سے آنسو بھی نکل آتے ہیں۔
ممبئی کے چھوٹے بڑے علاقوں کے قریب جھولے بھی نظر آرہے ہیں۔ بچے بچیاں عیدی میں ملے روپے سے خوب جھولا جھول رہی ہیں۔ ان کے چہرے پر خوشی دیکھنے لائق ہے۔ لڑکیاں پلازو، شرارے، غرارے، میکسی، فراک سنبھالے جھولا جھول رہی ہیں۔ مہندی لگے ہاتھوں میں رنگ برنگی چوڑیاں بے حد خوبصورت لگ رہی ہیں۔ منفرد ہیئر اسٹائل ان کی خوبصورتی میں اضافہ کررہے ہیں۔ بھئی، بچیوں کے مختلف رنگ اور ڈیزائن والے پرس کو نظرانداز نہ کریں۔ پرس تو ان کے لئے بے حد عزیز ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی عیدی اسی میں جمع کرتی ہیں۔ لڑکے بھی پیچھے نہیں ہیں۔ پٹھانی سوٹ، کرتا پائجامہ میں ان کا انداز بھی دلکش ہے۔ اس پر چشمہ ان کی دلکشی میں اضافہ کررہا ہے۔
گھروں کا ماحول خوشگوار ہے۔ ہر گھر سے مختلف پکوانوں کی خوشبو اُٹھ رہی ہے۔ اس پر شیرخرمے کی میٹھی میٹھی خوشبو بھوک بڑھا رہی ہے۔ مہمانوں کا آنا جانا لگا ہوا ہے۔ خواتین اور بچوں کے رہ رہ کر قہقہے بلند ہوتے رہتے ہیں۔ ہر خاتون دوسری کو اپنا لباس، مہندی اور میک اپ دکھا کر تعریف وصول کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔ جبکہ اس دن ہر کوئی منفرد نظر آتا ہے۔ عید کی خوشی سے ہر کسی کا چہرہ نکھرا نکھرا نظر آتا ہے۔ یہی ماحول عید کے تینوں دن نظر آتا ہے۔ تیواسی عید کو اکثر خواتین اور بچے سیر و تفریح کی غرض سے شہر کے مشہور پکنک اسپاٹ کا رخ کرتے ہیں۔ ہوٹل بازی بھی ہوتی ہے۔ پیزا، سینڈوچ، برگر، فرنچ فرائز، آئس کریم، کولڈ ڈرنکس، فالودہ سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ اس موقع پر بچے بڑی ضد کرتے ہیں اور ماؤں کے انکار کرنے کے بعد بھی وہ سننے کو تیار نہیں ہوتے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ عیدی میں ملی رقم سے انہیں فلاں چیز یا سامان خریدنا ہے۔ مائیں بھی اس دن بچوں کو روک نہیں پاتی ہیں کیونکہ اصل عید تو بچوں کی ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے۔
عید کے تینوں دن دعوت کا خوب سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب خواتین خانہ عید کی دعوت کے لئے سارے پکوان گھر ہی میں تیار کرتی تھیں لیکن اب کیٹرنگ والوں سے کھانا تیار ہوکر گھر آجاتا ہے۔ ساتھ ہی ڈسپازیبل برتنوں کے سبب خواتین خانہ کے لئے آسانی ہوگئی ہے۔ ہاں، کچھ گھرانوں میں اب بھی روایتی انداز میں دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ گھر کی سبھی خواتین مل جل کر پکوان تیار کرتی ہیں اور کانچ کے نفیس کام والے ڈنر سیٹ میں ان پکوانوں کو پروسا جاتا ہے۔ بریانی، پلاؤ، سینک بریانی، قورمہ، نو رتن پلاؤ، زم زم پلاؤ، سنجو بابا وغیرہ ان دعوتوں کے دسترخوان کا خاص حصہ ہوتے ہیں۔ میٹھے پکوانوں میں شیرخرما، سیویاں، قوامی اور کسٹرڈ ضرور بنتے ہیں۔ عید کے دسترخوان پر دہی بڑے بھی سجنے لگے ہیں۔ لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ اسٹارٹر میں کباب، چنے، چکن کے آئٹم وغیرہ پیش کئے جاتے ہیں۔ دعوت کے اختتام میں چائے ضرور پوچھی جاتی ہے اور چائے کے دلدادہ انکار نہیں کر پاتے۔
عید کے موقع پر سب سے زیادہ انتظار عیدی کا ہوتا ہے۔ خاص طور پر بچوں کو۔ اس موقع پر ہر بالغ یہ سوچتا ہے کہ کاش! ہم بھی بچے ہوتے۔ اس معاملے میں خواتین خوش نصیب ہوتی ہیں کیونکہ انہیں والدین اور شوہر کی جانب سے عیدی ضرور ملتی ہے۔ گئے وقتوں میں پانچ پانچ دس دس روپے کی کڑک نوٹ ملتی تھی تو چہرے کھل اٹھتے تھے مگر اب زمانہ ڈجیٹل ہوگیا ہے اس لئے لوگ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عیدی بھی ’جی پے‘ کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہندسے کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے مگر وہ لطف نہیں رہا جو پانچ پانچ کی روپے کی کڑک نوٹوں میں ہوا کرتا تھا جنہیں بڑی احتیاط کے ساتھ پرس میں رکھا جاتا تھا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ’’ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں‘‘۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK