نئی نسل میں حب الوطنی کا جذبہ

Updated: August 11, 2022, 1:15 PM IST | Saima Shaikh | Mumbai

گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے درخواست کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں

 Everyone loves their country and it is expressed through their words and thoughts .Picture:INN
ہر کسی کو اپنا وطن عزیز ہوتا ہے۔ اس کی باتوں اور افکار و خیالات سے اس کا اظہار بھی ہو جاتا ہے ۔ تصویر:آئی این این

ہماری نئی نسل وطن سے محبت کرتی ہے
اکثر کہا جاتا ہے کہ نئی نسل میں حب الوطنی کے جذبے کا فقدان نظر آرہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ نئی نسل ملک میں یکجہتی، آپسی اتحاد اور امن و امان قائم رکھنے کے لئے کوشاں ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو۔ ہمارا نوجوان حب الوطنی کے گیت سننا اور گنگنانا پسند کرتا ہے۔ ملک کے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد ہونے نہ ہونے پر اپنے تاثرات ظاہر کرتا ہے۔ ملک کے کسی علاقے میں ہونے والے تشدد یا غیر انسانی معاملات پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ اس طرح کے حالات کی تبدیلی پر تبادلۂ خیال کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ تعلیمی عمل میں نوجوان طبقے کو دھارے پر لانے کے لئے فکر مند، تمام مذاہب کی پاسبانی کے لئے تیار، معاشرے سے منفی رجحان ختم کرنے کی تدابیر اختیار کرنے والا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والا ہماری نئی نسل کا نوجوان کا یہی جذبہ تو حب الوطنی کا جذبہ ہے۔
سعیدہ وکیل، جلگاؤں
حب الوطنی اور یوم ِ آزادی
حب الوطنی وہ جذبہ ہے جو ہمارے اندر خون کے مانند دوڑنا چاہئے۔ حب الوطنی ہی وہ جذبہ ہے جو ہمارے جوانوں کو سرحدوں پر سالہا سال کھڑے رہنے کی ہمت دیتا ہے۔ حب الوطنی کا جذبہ مجھے میرے بچپن کی یاد دلاتا ہے جب ہم اسکول جایا کرتے تھے۔ یوم ِ آزادی ہو یا یوم ِ جمہوریہ ہمارے ہاتھوں میں ترنگے ہوا کرتے تھے اور ہماری نظروں میں اُس ترنگے کی قدر و اہمیت اتنی ہوتی تھی کہ وہ زمین پر نہ گرنے پائے۔ اور اسکول سے واپسی پر بھی وہ ترنگا ہمارے ہاتھوں میں موجود ہوتا تھا۔ اس دن شہید ہوئے لوگوں کو یاد کرتے تھے۔ جگہ جگہ پر ٹیپ ریکارڈ میں دیش بھکتی کے گیتوں کو سن کر ہم خوشی سے جھوم اٹھتے تھے۔ لیکن ہم جیسے جیسے بڑے ہو رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ حب الوطنی کا جذبہ ماند پڑ رہا ہو۔ آج ہماری نسل کی اپنے ملک کیلئے محبّت صرف اور صرف موبائل فون اور مبارکباد تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
سارہ شیخ (اعظم گڑھ، یوپی)
اپنا وطن اپنا ہوتا ہے
وطن لفظ سنتے ہی دل میں ملک کی محبّت بیدار ہو جاتی ہے اور آخر کیوں نہ ہو اپنا وطن اپنا ہوتا ہے۔ نئی نسل قوم کا اثاثہ ہوتی ہے۔ ہماری نئی نسل کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کس طرح ہمارے بڑوں نے ملک کو آزاد کرانے کی کوشش کی اوروہ کامیاب بھی ہوئے۔ اگر وہ بھی آج کل کے نوجوانوں کی طرح فضول چیزوں پر اپنا وقت ضائع کرتے تو شاید آج ہم آزاد ملک نہ کہلاتے۔
 حب الوطنی کا اظہار صرف ۱۵؍ اگست اور ۲۶؍ اگست تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ ہمیشہ ملک سے سچی محبّت کرنی چاہئے۔ اپنے ملک کو ایک پُرسکون اور ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ ملک کا نوجوان طبقہ اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ ملک نوجوانوں کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ نیز اعلیٰ تعلیم حاصل کریں، سچائی کے علمبردار بنیں اور ظلم کے خلاف کھڑے ہوں۔
انصاری مریم (ممبئی)
’’اپنے دیش کی حفاظت کرو ں گا‘‘
حب الوطنی یعنی اپنے ملک سے محبت کا جذبہ۔ آزادی ملنے کے ۷۵؍ برس کے دوران اگر غور و فکر کیا جائے تو ہماری نئی نسل ہمیشہ اپنے ملک کے لئے جذبۂ قربانی کا احساس لئے زندگی کی بازی لگانے کو تیار ہے۔ انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانے میں بھی نو جوان نسل پیش پیش تھی اور دور حاضر میں بھی ہر ہندوستانی کے اندر اپنے ملک و قوم کے لئے جذبہ ایثا ر مو جو د ہے۔ ایک واقعہ یاد آیا۔ پرائمری اسکول کے ۷؍ برس کے طالبعلم سے راقم الحروف نے دریافت کیا ’’بیٹا بڑے ہو کر کیا بنو گے؟‘‘ پرتپا ک جواب ملا ’’فو جی بنوں گا، ملک کی سرحد پر بند وق لے کر دشمنوں سے مقابلہ کرو ں گا۔‘‘ لیکن ملک تو آزاد ہو گیا ہے دشمن تو بھاگ گئے۔ بچہ نے روح کو جھنجھوڑ نے والا جواب دیا ’’میڈم جی اگر پھر سے کسی ملک نے ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے لئے بھی تو تیار رہنا چاہئے۔ بس میں تو اپنے دیش کی حفاظت کرو ں گا۔‘‘
ٹی این بھارتی (نئی دہلی)
وطن سے محبّت کا جذبہ پیدا کریں
ہم ہمارے بچّوں کو تہواروں کے بارے میں بتاتے ہیں کہ کیسے عید کی تیاری کریں۔ ٹھیک اسی طرح ہمارے وطن کے دیگر مذاہب کے ماننے والوں اور ان تہواروں کے بارے میں بھی بتائیں۔ بچپن ہی سے انہیں قومی تہواروں کے بارے میں بھی بتاتے رہنا چاہئے کہ کیسے یوم جمہوریہ یا یوم آزادی کی تیاری کریں۔ آزادی حاصل کرنے کے دوران کتنی مشقتیں جھیلنی پڑیں، اس کے بارے میں بھی آگاہ کریں۔ مجاہدین ِ آزادی کا تعارف کروائیں۔ یوم ِ آزادی کا جشن منانے کی تیاری کیسے کریں جیسے کہ اسکول میں پروگرام میں حصہ لیں، وطن کے گیت گائیں یا قومی پرچم لہرائیں یا ڈرامے میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔ مجاہدین ِ آزادی کی خدمات پر مضمون نویسی کا مقابلہ بھی ہوسکتا ہے۔ کم عمر ہی سے بچّوں میں وطن سے محبّت کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے اور ملک کی آزادی کی جدوجہد کی تاریخ بتائی جائیں۔ 
شاہدہ وارثیہ (وسئی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK