رشتے الفت، احترام، توجہ اور اعتماد کے محتاج ہوتے ہیں

Updated: May 12, 2022, 11:46 AM IST | Fazila Ulfat Bint Shafiq-ur-Rehman | Mumbai

یوں تو ہماری زندگی میں دیگر اشیاء بھی اہمیت کی حامل ہیں مگر جو مقام و مرتبہ اور اہمیت رشتوں کے حصے میں آئی وہ کسی اور شے کو حاصل نہیں۔ رشتے وہ عظیم سرمایہ ہیں جن سے بڑھ کر کسی اور شے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ محبت کی بنیاد احساس و احترام کی اینٹوں سے قائم ہوتی ہے

Understand the value and importance of relationships and make the new generation bound by it.Picture:INN
رشتوں کی قدر و اہمیت کو سمجھیں اور نئی نسل کو بھی اس کا پابند بنائیں۔ تصویر: آئی این این

’’رشتہ‘‘ یہ ایسا لفظ ہے جس کے بغیر زندگی بے معنی لگتی ہے۔ یوں تو ہماری زندگی میں دیگر اشیاء بھی اہمیت کی حامل ہیں مگر جو مقام و مرتبہ اور اہمیت رشتوں کے حصے میں آئی وہ کسی اور شے کو حاصل نہیں۔ رشتے وہ عظیم سرمایہ ہیں جن سے بڑھ کر کسی اور شے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ محبت کی بنیاد احساس و احترام کی اینٹوں سے قائم ہوتی ہے۔ اس سے اعتماد و اعتبار کی دیوار کی شکل میں رشتے وجود میں آتے ہیں۔ ان دیواروں کو مضبوط و قائم رکھنے کیلئے لہجہ نرم رکھنا پڑتا ہے۔  انسان کو جس قوم و خاندان کا حصہ بننا ہوتا ہے وہ اللہ عزوجل کی طرف سے طے ہوتا ہے۔ قدرت کا یہ نظام ہے کہ دنیا میں آنے والا ہر انسان رشتوں سے گھرا ہوتا ہے۔ انسان والدین نامی رشتے سے سب سے پہلے جڑتا ہے اور اس کے حقیقی رشتوں میں بھی اس کے والدین اور بھائی بہن ہی شرکت کرتے ہیں۔ حقیقی رشتوں کا مرتبہ دوسرے رشتوں کی نسبت زیادہ بلند ہے یعنی ان کیساتھ نباہ، احترام، مان اور درگزر کا معاملہ زیادہ کرنا ہے، ہمارے ہاں کافی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں دنیا کے دوسرے رشتوں میں تو کمال کی مہارت حاصل ہوتی ہے مگر حقیقی رشتوں میں ناکام ہوتے ہیں۔ رشتوں کو بدلے کی بنیاد پر نہ ٹکائیں کہ انہوں نے میرے رنج و غم اور مسرت و فرحت کے لمحات میں شرکت کرنا ضروری نہیں سمجھا تو میں کیوں ان کے اچھے و برے وقت میں ان کی حمایت کروں۔ آپ اللہ کی رضا اور اپنی ذمہ داری سمجھ کر رشتوں کو نبھائیں۔  کچھ رشتوں کا انتخاب انسان خود اپنے فیصلے اور مرضی سے کرتا ہے۔ ان رشتوں میں بیوی، دوست وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن بعض رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندگی کے اس دروازے سے خود بخود ہی داخل ہو جایا کرتے ہیں اور کچھ عرصہ یا کچھ دیر اٹھتے بیٹھتے ہیں پھر الٹے قدموں چلے جاتے ہیں۔  رشتوں بنانے سے زیادہ نبھانا مشکل ہے۔ ان میں توازن کا ہونا بہت ضروری ہے۔ رشتے الفت، احترام، احساس، توجہ، فکر اور اعتماد کے محتاج ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی بھی کمی ان دیواروں کو کمزور کر دیتی ہے۔ بعض دفعہ ہنسی مذاق کرتے ہوئے ہم ایسی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں جو سامنے والے کی عزت نفس کو مجروح کرتی ہے۔ اس وقت شاید ہم مذاق کرنے اور مذاق اڑانے میں فرق کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور ساتھ ہی اس بات کو بھی بھلا بیٹھتے ہیں کہ رشتوں میں عزت و احترام کا کتنا اہم کردار ہوتا ہے؟ تلوار صرف انسان کے جسم کو زخمی کر سکتی ہے لیکن الفاظ سے انسان کا دل زخمی ہوتا ہے۔ اس لئے آپ اچھے الفاظ اور نرم لہجے کا انتخاب کریں۔ رشتوں کو گہرا اور دیرپا بنانے کے لئے ہر انسان کو اپنے اندر قوت برداشت پیدا کرنا ہوگا۔ کئی دفعہ ہم ایسی حماقت بھی کر جاتے ہیں کہ اپنی انا کے لئے برسوں کے خونی رشتوں کو اک پل میں توڑ دیتے ہیں۔ یہ بات بھی غلط نہیں کہ کچھ رشتوں کو قائم رکھنا ہمارے لئے مشکل ہو جاتا ہے لیکن ان سے ہمیشہ کے لئے رابطہ ختم کرنے کے بجائے کوئی حل تلاش کرنا چاہئے۔ ’’غلط فہمی‘‘ کے پاس کمال کی قوت و طاقت ہے۔ یہ صدیوں کے رشتوں کو پل بھر میں ہی جڑ سے اکھاڑ سکتی ہے۔ اکثر رشتے غلط فہمی کی وجہ سے ہی ٹوٹتے ہیں۔ مثال کے طور پہ دو شخص کے درمیان گہری دوستی تھی۔ ان میں سے کسی ایک شخص کو اس کے دوست کے خلاف بھڑکا دیا گیا۔ اور وہ اس سے بد گمان ہو گیا۔ افسوس کہ غلط فہمی کا پلڑا بھاری ثابت ہوا۔ اتنی گہری دوستی کے باوجود اس شخص نے اتنی زحمت نہیں کی کہ جس بات سے اسے آگاہ کیا جا رہا ہے وہ اس کی جانچ کر لے کہ اس میں کتنی سچائی ہے! ہم یہی تو کرتے ہیں کہ کسی کے خلاف کوئی بات معلوم ہونے پر اس کی تحقیق کئے بغیر اندھوں کی طرح یقین کر لیتے ہیں۔ ان باتوں میں کتنی سچائی ہے ہم یہ جاننے کی خواہش نہیں رکھتے۔  ہم کیا کر رہے ہیں؟ کبھی ہم نے سوچا؟ کیا یہ اعتماد کی دیواریں اتنی کمزور ہیں؟ ان غلط فہمیوں کی وجہ سے ہم کب تک اور کتنے رشتے گنوا دیں گے؟رشتے چاہےکسی بھی شکل میں ہوں، غلط فہمی کے وار سے ایسا ٹوٹ جاتے ہیں کہ دور دور تک ان کے جڑنے کے امکانات نظر نہیں آتے۔ ٹوٹ کر پھر سے جڑنے والے رشتوں کے درمیان ایک گرہ پیدا ہو جاتی ہے۔  سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم رشتوں اور ان کی قدر و اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ آج ہم زندگی کے مسائل و مصائب اور مصروفیات میں یوں غرق ہیں کہ رشتوں کی خدمات کو انجام دینے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ اور اس خدمت کا بوجھ اپنے کاندھوں پر لئے زندگی کے اس سفر کو انجام دے دیتے ہیں۔  اگر ہم رشتوں کی ناقدری کر رہے ہیں تو کیا ہماری نسلیں ان رشتوں کو نبھانے کی ہمت رکھیں گی؟ کیا وہ یوں ہی اس کی قدر کرنا سیکھ لیں گی؟ کیا مستقبل حال سے بالکل متاثر نہیں ہوگا؟  بالکل ہوگا، خوش فہمی دور کرلیں، رشتوں کی قدر و اہمیت کو سمجھیں اور نئی نسل کو بھی اس کا پابند بنائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK