دسویں کے نتائج کا اعلان ہوچکا، اب طلبہ آگے کیاکریں؟

Updated: June 23, 2022, 11:46 AM IST | Aamir Ansari | Mumbai

دسویں اوربارہویں کے نتائج کا اعلان ہوچکا  اور اب داخلوں کی گہما گہمی ہوگی ۔  دسویں کے بعد کریئر کے انتخاب کا مسئلہ نہایت سنگین ہو تا جارہا ہے ۔ حالاں کہ پہلے کے مقابلے اب کریئر اور تعلیم کے تئیں بیداری زیادہ ہے،  

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

دسویں اوربارہویں کے نتائج کا اعلان ہوچکا  اور اب داخلوں کی گہما گہمی ہوگی ۔  دسویں کے بعد کریئر کے انتخاب کا مسئلہ نہایت سنگین ہو تا جارہا ہے ۔ حالاں کہ پہلے کے مقابلے اب کریئر اور تعلیم کے تئیں بیداری زیادہ ہے،   ویب سائٹ ، یوٹیوب چینلس ،سوشل  میڈیا  اور کریئر کے ایپس   کے ذریعہ بآسانی معلومات مل سکتی ہے لیکن اس کے باوجود کریئر کے انتخاب کے تئیں بیشتر طلبہ ’کنفیوز‘رہتے ہیں ۔ اس کی ایک بڑی وجہ ضرورت سے زیادہ نئے کورسیز اور کریئر کے متبادل کی بھر مار ہے۔ اسی طرح  نئی نجی یونیورسٹیز اور ڈیمڈ یونیورسٹیز کی بڑھتی تعداد ، کئی کالجز کا ’آٹو نامس اسٹیٹس‘  ملنا جس کے نتیجے میں ہر جگہ نت نئےکورسیز شروع ہورہے ہیں۔اسلئے  موجودہ حالات میں دسویں کے بچوں کو وقت دینا ، انہیں سمجھانا ، کورسیز کے متعلق بڑھتے کنفیوزن کو دور کرنے کے لئے بچوں کےساتھ چھوٹے چھوٹے گروپس میں ملاقات کرنا ضروری ہے۔ نیچے دیئے گئے کچھ اہم نکات کو سامنے رکھ کر اپنےکریئرکے متعلق صحیح فیصلہ کریں۔
گیارہویں سائنس میں کون سے طلبہ داخلہ لیں؟
 ایسے طلبہ جنہیں سائنس اول ، سائنس دوم ، الجبرا اور جیومیٹری مضمون میں دلچسپی  ہے۔
مذکورہ بالا مضامین میں کم از کم ۷۰؍فی صد مارکس یعنی سائنس میں۱۰۰؍ میں سے۷۰؍اور میتھس  میں بھی ۱۰۰؍ میں۷۰؍ سے زائد مارکس ملنے ضروری  ہے۔
 اگر سائنس اول اور جیومیٹری میںزیادہ دلچسپی  ہےلیکن سائنس دوم پسند نہیں توانجینئرنگ کی جانب رجحان  ہے۔
اگر آ پ کو سائنس دوم  پسند ہیں اور انگریزی بہتر ہے تو میڈیکل کا رجحان نظر آرہا ہے۔
 سائنس کے طلبہ میں سنجیدگی، مطالعہ کا شوق، پریکٹیکل کے لئے جسمانی صلاحیت، ڈرائنگ کا بہتر ہونا، نظم وضبط کی پابندی اور انگریزی زبان میں مہارت ضروری ہے۔ مشاہدہ، غور و فکر ، آن لائن ذریعہ سےپڑھائی کا شوق ، امتحانات کیلئے مشق کرنا ،تخلیقی سوچ ، پرابلم سالونگ ایٹی ٹیوڈ ، انا لیٹکل ریزننگ  بھی  ضروری صلاحیتیں ہیں ۔ 
مختلف پروفیشنل کورسیز میں داخلے کے مختلف انٹرنس امتحانات کی معلومات رکھنا ضروری ہے ۔ این ای ای ٹی ، جے ای ای ، این اے ٹی اے ، این ای ایس ٹی ، آئزر اپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ ، کے و ی پی وائے ، آئی ایم یو  ان جیسے کئی اہم انٹرنس امتحان کی معلومات بچوں کو ہونا ضروری ہے۔
  سائنس اسٹریم کے طلبہ  درج ذیل شعبوں میں کرئیر کر سکیں گے : میڈیکل ، انجینئرنگ ، فارمیسی، آرکیٹیکچر، پائلٹ، مرچنٹ نیوی، نرسنگ، آپٹومیٹری، ہوم سائنس، ایگری کلچرل، فوڈٹیکنالوجی، ٹیکسٹائیل ٹیکنالوجی، ریسرچ، سائنٹسٹ، ایسٹرونومی، ماحولیاتی تعلیم، ٹیچنگ، جینٹک/ بایوٹک سائنس، اسٹروفزکس، مائیکروبایولوجی، اوشینوگرافی،  میتھس اور اسٹیٹسٹکس ، آرٹی فیشیل ا نٹلی جنس، مشین لرننگ، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکوریٹی ، ایتھل ہیکنگ ، فارینسک سائنس جیسے بے شمارشعبے میں کریئر کے مواقع ہیں۔
گیارہویں کامرس میں کون سے طلبہ داخلہ لیں؟
آپ کو الجبرا ، انگریزی اور معاشیات اِن مضامین میں دلچسپی ہونا ضروری ہے۔
 الجبرا ، جیومیٹری یعنی میتھس میں کم ازکم ۷۰؍ فیصدمارکس اور انگریزی میں ۶۰- ۶۵؍مارکس بہترمانے جاسکتے ہیں۔
 الجبرا کے آخری اسباق میں دلچسپی  جیسے شیئر ، انکم ٹیکس، سیلس ٹیکس، رعایت، کمیشن، بینکنگ وغیرہ۔  تجارت کرنا ،رسک لینا، گروپ میں کام کرنایہ سب پسند ہے تو کامرس کا رجحان ہے۔ایکسل ،ٹیلی وغیرہ میں مہارت ۔
 کامرس کا شعبہ ان طلبہ کیلئے موزوں ہے جنہیں محنت اور مشق کرنا پسند ہو، گروپ میں کام کرنا پسند ہو، انگریزی میں مہارت، اکائونٹس اور تحریری صلاحیتیں، کاغذات اور فائل نیٹ ورک بہتر طریقے سے کرتے ہوں۔نئے بزنس آئیڈیاز ، اسٹارٹ اپس ، تخلیقی سوچ ، دنیا کے معاشی مسائل سے آگاہی ، فائنانشیل لٹریسی، مختلف ممالک کے معاشی نظام کی معلومات ، بزنس نیوز چینل دیکھنا ، بزنس  نیوز پیپرس ، میگزین پڑھنا ۔ 
بارہویں کامرس کے بعد سی اے سی ایس کمپنی سیکریٹری، سی ایم اے ،سی ایف اے، بی کام،ہوٹل مینجمنٹ، جرنلزم، ٹراویل اینڈ ٹورزم، وکالت، مینجمنٹ کورسیز ، ایویشن سیکٹر، بینک، ریلوے، لائف انشورینس، ایوینٹ مینجمنٹ، ایڈوٹائزمینٹ، مارکیٹنگ ، میڈیا، امپورٹ-ایکسپورٹ مینجمنٹ۔
گیارہویں آرٹس میں کون سے طلبہ داخلہ لیں
 عام طور پر ہمارے معاشرے میں یہ غلط فہمی عام ہیں کہ کم مارکس ملنے پر ہی آرٹس میں داخلہ لیتے ہیں ۔ ہر شعبہ اپنی جگہ اہم ہیں اور ہر شعبہ میں ماہرین کے لیے زبردست مانگ ہے۔ لہٰذا ایسا ہر گز نہیں کہ آپ کے  ۹۰؍ یا ۸۰؍ فیصد مارکس آیا ہے تو آپ آرٹس نہ لیں۔
 اگر آپ کو زبان (مثلاً اردو ، انگریزی، مراٹھی ، ہندی، عربی، فرینچ یا فارسی)  میں دلچسپی ہے، تاریخ و شہریت، جغرافیہ اور معاشیات پسند ہے تو آپ آرٹس ،میں داخلہ لیں۔
 زبان دانی  میں کم ازکم۷۰؍ مارکس۔ اسی طرح سماجی سائنس میں ۱۰۰؍میں سے ۶۵؍سے زائد مارکس۔
 آرٹس کے طلبہ بہت سی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ اور بہت سارے کرئیر متبادل کے ذریعہ مستقبل بنا سکتے ہیں۔مطالعہ کا شوق، ڈرامہ/ادب/ غزل/نظم/ شعرا و مصنفین سے دلچسپی، تاریخی ناول، مذہبی کتابیں، آپ بیتی ، اخبارات کے مطالعہ کا شوق، بات چیت کرنا پسند ، سماجی کام کے لئے  درکار  بے باکی ، نڈر،جرأتمندی جیسی خصوصیات(۵)بارہویں آرٹس کے بعد درج ذیل شعبوں میں کرئیر کر سکتے ہیں: ٹیچنگ، مارکٹنگ، وکالت، سماجی خدمت ، ہوٹل مینجمنٹ، فائن آرٹس، انٹیرئیر ڈیکوریٹر، جرنلزم،فوٹوگرافی، ایکٹنگ، کمپنی سیکریٹری، ایڈیٹنگ، جیولری ڈیزائننگ، مینجمنٹ کورسیز، پبلک سروس کمیشن، الیکٹرونک میڈیا، فیشن ڈیزائننگ، ہوم سائنس، فارین لنگویجز، لائبریری سائنس، میزولوجی، اسپورٹس، ماہر نفسیات،ماہر فلسفہ،ٹرانسلیٹر، ٹرانسکرئیر، اینکر، کنٹینٹ رائٹرس ، بلاگ رائٹرس وغیرہ۔ 
 ڈپلوما انجینئرنگ پالی ٹیکنک میں کون سے طلبا جائیں
 جن طلبا نے بہت پہلے سے انجینئرنگ کا خواب دیکھا ہےاور انہیں  انجینئرنگ کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں چاہیے نیز وہ طلبا آئی آئی ٹی جیسے اداروں سے ڈگری کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں ان کے لئے دسویں کے بعدڈپلوما پالی ٹیکنک جوائن کرنا ٹھیک ہے۔ بارہویں کے بعد  بی ا ی کرنے کی بہ نسبت ڈپلوما پالی ٹیکنک  کے کچھ فوائد دیکھ لیں۔
 پہلا فائدہ :  جو طلبا  معاشی اعتبار سے کمزور ہوتے ہیںجن کے گھریلو معاشی حالت ٹھیک نہیں۔ ان کے لئے  ڈپلومہ کرنا بہتر متبادل ہے۔ کیونکہ ان طلبہ کو فوراً ملازمت  ملنے کا موقع ہوتا ہے ، ساتھ ہی گیارہویں اور بارہویں میں کالج اور کوچنگ کی فیس ساتھ ہی انجینئرنگ کی ڈگری کورس کی بھاری فیس دینے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔اِن طلبہ کے لئے  ڈپلوما مکمل کرنے کے بعد ملازمت کرنا بہتر ہے۔ کچھ سال بعد تجربہ کی بنیاد پر آ گے تعلیم جاری رکھی جاسکتی ہے۔
 دوسرا فائدہ: ڈپلوما انجینئرنگ مکمل کر نے والے طلبہ عام طور سے انجینئرنگ کے مکمل نصاب اور طریقہ کار سے واقف ہوتے ہیں۔ پروجیکٹس بنانا، ورکشاپ اٹینڈ کرنا ، غرض عملی کام میں بارہویں کے طلبہ کے مقابلے بہتر تجربہ بہتر رکھتے ہیں۔(۳)تیسرافائدہ: ڈپلومہ انجینئرنگ میں سیمسٹر پیٹرن ہوتا ہے جو  بی ای کے سیمسٹر پیٹرن سے بالکل یکساں ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے بارہویں کے طلبہ کے مقابلہ اس پیٹرن کو سمجھنااور اس میں ڈھل جانا ڈپلوما والے طلبہ کے لئے  آسان ہوتا ہے۔ کیونکہ بارہویں کے طلبہ نے ۲؍سال سالانہ پیٹرن پر پڑھائی کی ہے، بی ای میں پہلے سال کے پہلے سمسٹر میں۶؍مضامین کے امتحانات ، داخلہ کے فوراً صرف چار ماہ بعد بہت مشکل سے گزرتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بی ای کے سال اول میں بارہویں کے طلبہ کی کارکردگی  بہت بہتر نہیں ہوتی۔ بارہویں میں اچھے مارکس حاصل کرنے والے طلبہ بھی ’اے ٹی کے ٹی‘ کےذریعہ دوسرے سال میں  داخل ہوتے ہیں ۔ ان سب پریشانی کے مقابلے ڈپلومہ انجینئرنگ مکمل کرنے والے طلبا پہلے سا ل کی اس تمام پریشانی سے محفوظ رہتے ہیں کیوں کہ وہ براہِ راست دوسرے سال میں داخل ہوتے ہیں۔ 
 ڈپلومہ انجینئرنگ کے کچھ نقصانات بھی ہیں جس میں سب سے اہم ہے لیٹرل انٹری میں ۱۰؍ فیصد نشستوں کا ہونا ۔ جس کی وجہ سے ڈپلوما سے ڈگری میں داخلے کے وقت  ڈپلوما  میں تینوں سال بہت اچھا پرفارمنس ہونا ضروری ہے ۔ ۸۵ فیصد زائد مارکس حاصل کرنے والے طلبہ بھی ممبئی جیسے شہر میں ڈگری انجینئرنگ میں داخلہ نہیں لے پاتے ۔ اسی طرح ڈپلومہ ہولڈرس ، بارہویں سائنس کے مقابلے میتھس میںتھوڑے کمزور ہوتے ہیں جس کا اثر ان کے ڈگری کورس پر پڑتا ہے، کئی ڈپلومہ انجینئرنگ پالی ٹیکنک اب بند ہوچکے ہیں ۔ کئی برانچز ختم ہوگئیں ہیں  اسلئے  ڈپلوما پالی ٹیکنک میں ریگولر کورسیز میں داخلے سے قبل بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ 
   ہُنر مندی کے کورسیز
 بعض طلبہ گیارہویں میں داخلہ نہ لیتے ہوئے آئی ٹی آئی کے کورسیز میں داخلہ لیتے ہیں۔اگر آپکے مارکس۶۵، ۶۶؍ فیصد ہیں اور آپ گیارہویں میں آرٹس / کامرس / سائنس میں داخلہ نہیں لینا چاہتے ہیں تو آئی ٹی آئی کے مختلف ٹریڈس  کے  بہت سے ہُنرمندی کے کورسیز کرسکتے  ہیں۔ ان کورسیز کے بعد آپ ۲؍سال/ ۳؍ سال میں اپنا کاروبار شروع کر سکتے ہیں یا ملازمت کر سکتے ہیں ۔ بیرون ممالک ان سرٹیفکیٹ کورسیز کی بنیاد پر خاص اچھی ملازمت ملتی ہے۔ آئی ٹی آئی کورسیز میں ٹرنر، فٹر، ویلڈر، مولڈر، ڈیزل میکانک، ڈرافٹسمین شپ، پلیٹ میکر، ڈائی میکر، انسٹرومنٹ مینٹننس، اے سی  میکانک، الیکٹریشن و دیگر کورسیز جاری ہیں۔سی این سی مشین آپریٹر، مشین میکانک، مرین ویلڈر، الیکٹریشین، پلمبر، لفٹ مکانک، کارپینٹری وغیرہ۔ مذکورہ بالا ۵؍ شعبوں میں سے کسی ایک شعبے کی جانب قدم بڑھانے کیلئے  بھر پور غور و فکر، منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اسلئے  ان چھٹیوں میں اوپر کے نِکات کی روشنی میں کرئیر پلان کیجیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK