حکومت کی کوشش یہی ہےکہ معاشی پریشانی کی وجہ سے کوئی طالب تعلیم ادھوری نہ چھوڑدے

Updated: July 27, 2022, 2:32 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

اعلیٰ تعلیم کیلئے اسکالرشپ اور ایجوکیشن لون کے موضوع پر منعقدہ ’تعلیم نامہ‘ کی چوتھی قسط میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اقلیتی طبقے کے طلبہ کو سرکاری اسکیموں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے

 From right Lal Mian Sharif, Qutbuddin Shahid, Ainul Attar and Sabir Ali Sheikh. Picture: Inquilab
دائیں سےلعل میاں شریف، قطب الدین شاہد، عین العطار اور صابر علی شیخ تصویر: انقلاب

روزنامہ انقلاب کے زیر اہتمام پیش کی جانے والی ’تعلیم نامہ‘ سیریز کی   یہ چوتھی قسط ہے جس کا انعقادگزشتہ دنوں انجمن اسلام میں ’ایجوکیشن ایکسپو‘ کے موقع پرکیا گیا تھا۔ اس سلسلے کی پہلی قسط کا اہتمام دفتر انقلاب میں، دوسری قسط ’جشن انقلاب‘ کے دوران بھیونڈی میں اور تیسری قسط انجمن اسلام میں ’ایجوکیشن ایکسپو‘ کے دوران ہی ہوا تھا۔ اس چوتھی قسط میں اسکالر شپ کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو ہوئی تھی، جس کے بعض اقتباسات یہاں پیش کئے جارہے ہیں۔    تعلیم حاصل کرنا کئی لحاظ سے ضروری ہے ، جیسے یہ کہ تعلیم انسان کی بنیادی ضرورت ہے، شخصیت کو بہتر بنانے اور حصول معلومات کیلئے تعلیم ضروری ہے، ملازمت حاصل کرنے کیلئے تعلیم بنیادی ضرورت ہے اور ملک کے قانون ’آر ٹی ای ‘کے تحت بھی تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے ۔ اور ان سب سے کہیں زیادہ یہ ہے کہ ہم بحمداللہ مسلمان ہیں،اس لحاظ سے تعلیم حاصل کرنا ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ ہمیں حکم دیاگیا ہے کہ تمام مر د و خواتین کیلئے تعلیم کا حاصل کرنا فرض ہے۔لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ بالخصوص ان لوگوں کیلئے جن کی مالی حیثیت کمزور ہے یا  جن کی ارباب اقتدار اور اختیا ر تک رسائی نہیں ہے۔   ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایسے لوگ کیا کریں؟ کیا پیروں میں مجبوری اور محرومی کی بیڑیاں پہن کر گھر بیٹھ جائیں؟ 
  آج ہم اسی موضوع پر گفتگو کریں گے اور ان طلبہ کیلئے راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں گے جنہیں اس قسم کی کوئی دشواری ہے۔ ہمارے طلبہ کیلئے حکومت، نجی اداروں اوربینکوں کے علاوہ اور فلاحی و سماجی اداروں کی طرف سے بہت ساری اسکیمیں جاری کی گئی ہیں ۔ ضرورت ہے ان تک پہنچنے اور اس تعلق سے معلومات حاصل کرنے کی۔ آج ہم اسی معلومات کو تعلیم نامہ کے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ آج کے ہمارے مہمانان  طلبہ اور والدین کی اسی سلسلے میں رہنمائی کریںگے اور بتائیں گے کہ وہ ان سہولیات سے کس طرح مستفیض ہوسکتے ہیں۔
  آج کے ہمارے پہلے مہمان  ڈاکٹر لعل میاں شریف شیخ صاحب ہیں جو مولانا آزاد مائناریٹی  فائنانشیل ڈیولپمنٹ کارپوریشن  کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ ہم آپ سے جاننا چاہیں گے کہ اقلیتوں کے قائم اس ادارے سے ہمارے طلبہ کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
لعل میاں شریف شیخ:مولانا آزاد  فائنانشیل ڈیولپمنٹ کارپوریشن ، مہاراشٹر حکومت کا ایک ایسا ادارہ ہے جو ریاست کے اقلیتی طلبہ کو تعلیم کے شعبے میں معاشی مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ مدد قرض کی صورت میں ہوتی ہے جو اعلیٰ تعلیم  کے حصول کیلئے دیا جاتا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہمارے پاس ایسی کوئی اسکیم نہیں ہے جس سے ہم کسی کو اسکالرشپ  یا گرانٹ کی  پیش کش کرسکیں۔ یہ خالص ایک لون ہے، بالکل اسی طرح، جس طرح آپ کسی بینک سے لون لیتے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ  یہ لون انتہائی کم شرح پر فراہم کیاجاتا ہے اور ضرورت مندوں کو بہت آسانی کے ساتھ مل جاتا ہے۔ مولانا آزاد  فائنانشیل کارپوریشن سے لون لینے والوں کو صرف ۳؍ فیصد سالانہ انٹرسٹ ادا کرنا پڑتا ہے جو آج کی تاریخ میں بینکوںکے مقابلے بہت کم ہے۔
اس قرض کے حصول کیلئے شرائط کیا ہیں؟ 
 لعل میاں :ہمارے یہاں سے لون حاصل کرنے کیلئے ۴؍ بنیادی شرائط ہیں جو طلبہ اور ان کے سرپرستوں کو پوری کرنی پڑتی ہیں۔ اول یہ کہ طلبہ کا تعلق اقلیتی طبقے (مسلم، عیسائی، سکھ، پارسی، بدھ اور جین) سے ہو۔ دوسری یہ کہ مہاراشٹر کا رہنے والا ہو ۔ چونکہ یہ مہاراشٹر حکومت کی اسکیم ہے، اسلئے مہاراشٹر ہی کے طلبہ کو دی جاتی ہے۔ تیسری یہ کہ طلبہ کے والدین کی سالانہ آمدنی ۸؍ لاکھ روپوں سے کم ہو اور چوتھی شرط ضمانت کی ہے۔
قرض کیلئے کس طرح کی ضمانت درکار ہوتی ہے؟
 لعل میاں :مولانا آزاد مائناریٹی  فائنانشیل ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں تین طرح کی گارنٹی منظور کی جاتی ہے۔ اول یہ کہ یہ ضمانت کوئی سرکاری ملازم لے، خواہ وہ سرکاری ملازم  طلبہ کے والدین میں سے کوئی ہو ، یا ان کے جان پہچان اور متعلقین میں سے کوئی ہو۔ دوسری یہ کہ لون کے عوض گھر ، کھیتی کی زمین  یا اور کوئی جائیداد کے دستاویزات ضمانت کی صورت میں جمع کریں  یا پھر کوئی دکاندار یا کاروباری شخص ہو جو انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتا ہو اور آخری تین سال میں کم از کم ڈھائی لاکھ روپوں کا ریٹرن فائل کیا ہو۔ ایسا کوئی بھی فرد کسی بھی طالب علم کی ضمانت لے سکتا ہے۔
ایک طالب علم کو کتنا قرض مل سکتا ہے؟
 لعل میاں :اس  مدمیں لون کی حد ساڑھے سات لاکھ روپوں تک ہے۔ یہ کسی بھی پروفیشنل کورس کیلئے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ ادارہ جہاںاسے داخلہ لینا ہے، حکومت سے منظور شدہ ہو۔ وہ تمام طلبہ جو لون کے حصول کی تمام شرائط کو پوری کرلیتے ہیں، ان کو ان کی فیس کی پوری رقم (زیادہ سے زیادہ ساڑھے ۷؍ لاکھ تک) منظور کرلی جاتی ہے لیکن  پوری رقم ایک ساتھ نہیں دی جاتی۔ مثال کے طور پربی ایس سی آئی ٹی کا کوئی طالب علم ہے جس کی تین سال کی فیس ڈیڑھ لاکھ ہے تو اسے ہر سال ۵۰۔۵۰؍ ہزار کی رقم فراہم کی جاتی ہے۔ تین سال کے بعد اسے مزید ۶؍ ماہ ملازمت کی تلاش کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کے لون کو ۶۰؍ مہینوں کی قسط میں تقسیم کرکے پہلی قسط ادا کرنے کیلئے کہا جاتا ہے۔
 آج کی ہماری دوسری مہمان عین العطار صاحبہ ہیں۔ آپ ٹیکنیکل ایجوکیشن میں ڈپٹی ڈائریکٹر سے ہوتے ہوئے منترالیہ میں جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے تک پہنچیں۔ مولانا آزاد مائناریٹی فائنانشیل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی منیجنگ ڈائریکٹر کے علاوہ سینٹرل اور اسٹیٹ گورنمنٹ کی اسکالرشپ اسکیموں کی انچارج رہی ہیں۔ میڈم! ہم آپ سے جاننا چاہیں گے کہ مسلم طلبہ کیلئے کون کون سی اسکیمیں ہیں؟
عین العطار: حکومت کی پہلی کوشش یہی ہے کہ معاشی پریشانی کی وجہ سے    کوئی طالب علم اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور نہ ہو۔ اس کیلئے بہت ساری اسکالرشپ اسکیمیں ہیں۔ایسے میں دیکھنا یہ ضروری ہے کہ ان میں سے کون سی اسکیم ہمارے لئے مناسب ہے۔پرائمری، سیکنڈری اور ہائر ایجوکیشن کیلئے الگ الگ اسکالرشپ اسکیمیں ہیں۔ طلبہ اور ان کے والدین کو اس کی معلومات لینی چاہئے کہ کون سی اسکالرشپ کیلئے اپلائی کرنے میں ان کا زیادہ فائدہ ہے۔ ہائر ایجوکیشن میں بھی دو طرح کی اسکالرشپ ہیں۔ ایک نان پروفیشنل ایجوکیشن کیلئے اور ایک پروفیشنل ایجوکیشن کیلئے ہے۔ نان پروفیشنل ایجوکیشن میں بی اے، بی کام، بی ایس سی اور بی ایم ایس جیسے کورسیز کا شمار ہوتا ہے جبکہ پروفیشنل ایجوکیشن میں میڈیکل، انجینئرنگ ، فارمیسی اور ایم بی اے جیسے کورسیز ہیں۔ان تمام کیلئے الگ الگ قسم کی اسکالر شپ ہیں۔ اس میں بھی ریاستوں کی طرف سے الگ اور مرکز کی طرف سے الگ اسکالر شپ دی جاتی ہیں۔اہم بات یہ ہے کہطلبہ کو ان میں سے کوئی ایک ہی اسکالرشپ مل سکتی ہے، اسلئے طلبہ اور ان کے والدین کیلئے یہ دیکھنا ضروری  ہے کہ  انہیں زیادہ سے زیادہ رقم کس اسکالرشپ اسکیم سے مل سکتی ہے۔
کیا یہ اسکالر ان طلبہ کو بھی مل سکتی ہے جنہوں نے مولانا آزاد مائناریٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے یا کہیں اور  سے ایجوکیشن لون لیا ہوا ہے؟
عین العطار:جی ہاں بالکل! اسکالر شپ حاصل کرنے کیلئے صرف یہ دیکھنا ہے کہ آپ اس کے اصول و ضوابط پر پورے اُتر رہے ہیں یا نہیں؟ ملک کی آبادی میں اقلیتی طبقے کی آبادی تقریباً ۲۰؍ فیصد ہے، جس میں سے صرف مسلمانوں کی تعداد نصف سے زائد ہے لیکن اگر ہم تعلیم کی بات کریں تو اس میں ہماری شرح دیگر اقلیتی برادری کے طلبہ سے بہت کم ہے۔ دسویں کے بعد مسلمانوں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح ۵۰؍ فیصد تک ہے  جو آگے چل کر اور بڑھ جاتی ہے۔ مسلم طلبہ میں سے صرف ۵؍ تا ۷؍ فیصد طلبہ ہی گریجویشن کی سطح تک پہنچ پاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور معلومات کا فقدان ہے۔ اگر ہمارے طلبہ اور ان کے سرپرستوں کو اقلیتوں کو دی جانے والی اسکالر شپ کی معلومات ہوجائے تو غربت کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنے کا سلسلہ بڑی حد تک رُک جائے گا۔
کیا ہمارے طلبہ کو صرف اقلیتوں کیلئے مخصوص اسکالر شپ ہی مل سکتی ہیں؟
عین العطار: نہیں! ایسا بالکل نہیں ہے۔ہمارے طلبہ ملک کے ایک شہری کی حیثیت سے ان تمام اسکالر شپ کے حصول کے حقدار ہیں  جو حکومت کی طرف سے جنرل کٹیگری کے جاری کئے گئے ہیں۔ اسی لئے تومیں اس بات پر زیادہ زور دے رہی ہوں کہ اسکالر شپ حاصل کرنے سے قبل مختلف اسکیموں کی جانکاری حاصل کرلیں۔ مثال کے طور پر پری میٹرک اسکالر شپ دسویں تک کے طلبہ کیلئے ہے لیکن اس کیلئے والدین کی آمدنی کی حد صرف ایک لاکھ رکھی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ  اس اسکیم سے بہت زیاہ غریب طلبہ ہی استفادہ کرسکیں گے۔ اسی طرح پوسٹ میٹرک اسکالر شپ نان پروفیشنل طلبہ کیلئے گریجویشن تک کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے ہے۔ اس میں طلبہ کو ۱۵؍ ہزار روپوں تک کی اسکالر شپ مل سکتی ہے۔ اس کیلئے والدین کی سالانہ آمدنی کی حد ۲؍ لاکھ روپے ہے۔ یہ ساری اسکیمیں آن لائن دستیاب ہیں۔
اسکالر شپ حاصل کرنے کیلئے کون کون سے دستاویزدرکار ہیں؟
عین العطار:ریاستی حکومت کی کسی بھی اسکالر شپ اسکیم کیلئے پہلی شرط طالب علم کا مہاراشٹر کا ہونا ضروری ہے۔ اس کیلئے وہ فون بل، بجلی بل،  آدھار کارڈ، پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس جیسے دستاویزات میں سے کوئی ایک دستاویز بطور رہائشی ثبوت  پیش کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بونافائیڈ سرٹیفکیٹ اور سال گزشتہ کا مارکس شیٹ بھی چاہئے جس میںکم سے کم ۵۰؍ فیصد مارکس لازمی ہے۔ اگر کسی طالب علم کا کسی سال ۵۰؍ فیصد سے کم مارکس آیا تواس کی اسکالر شپ وہیں رک جائے گی۔اس قسم کے اسکالر شپ میں دو طرح کے فارم ہوتے ہیں۔ ایک فریش اور دوسرا رینویل۔پہلی بار فارم بھرنے والوں کو ’فریش‘ پر کلک کرکے اس کی خانہ پری کرنی ہے جبکہ اسکالر شپ حاصل کرنے والوں کو آئندہ سال’ رینویل‘  کا فارم بھرنا ہے۔   ہمارے یہاںایک  غلط فہمی  یہ پائی جاتی ہے کہ انکم سرٹیفکیٹ کیلئے تحصیلدار کی جانب سے جاری کیا ہوا سرٹیفکیٹ ہی چاہئے۔  ایسا نہیں ہے۔ یہ صرف مرکز کی جانب سے جاری اسکالر شپ کیلئے ضروری ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والی اسکالر شپ کیلئے والدین کو خود سے ’ڈکلیئریشن‘ دینا کافی ہوتا ہے۔اس کیلئے تحصیلدار کے دفتر کا چکر لگانے یا پھر دلالوں کی خدمات حاصل کرکے پیسہ برباد کر نا ضروری نہیں ہے۔
ہمارے تیسرے مہمان صابر علی شیخ صاحب ہیں۔آپ بینک آف مہاراشٹر کے ڈپٹی جنرل منیجر اور ممبئی نارتھ زون کے زونل ہیڈ ہیں۔ آپ کو بینکنگ سیکٹر میں۲۰؍ سے زیادہ کا تجربہ  ہونے کے ساتھ ہی ملک کے مختلف خطوں میں کام کرنے کا بھی تجربہ ہے ۔ صابر صاحب! ہم آپ سے جاننا چاہیں گے کہ ایجوکیشن لون کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے؟  اور یہ بھی کہ ایجوکیشن لون اور عام لون میں کیا فرق ہے؟
صابر علی شیخ: لوگوں کا عام تاثر یہی ہے کہ بینک سے لون حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے لیکن ایسانہیں ہے۔دراصل اس میں مشکل کام یہ ہے کہ ایک تو فیس بھرنا اور اس کیلئے پرائیویٹ بینکوں میں جاکر لون کیلئے درخواست  دینا۔میں یہاں پر بینک آف مہاراشٹر کے ایک ذمہ دار کی حیثیت سے نہیں بلکہ بینکوں کی مجموعی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی بات کہنا چاہوں گا۔ جتنی بھی سرکاری  اور پبلک سیکٹر کے بینک ہیں، ان تمام میں وہ خواہ عامر زمرے کے لوگ ہوں یا اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے، سبھی کیلئے یکساں سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔ 
کیا بینکوں میں بھی لون کی کوئی حد ہوتی ہے؟ کوئی طالب علم کتنا لون حاصل کرسکتا ہے؟
صابر علی:اس میں کورسیز اور فیس کی مناسبت سے لون کی حد مقرر کی جاتی ہے۔جیسے اسکل ڈیولپمنٹ کیلئے دسویں پاس طلبہ میں سے کوئی آئی ٹی آئی میں جانا چاہتا ہے یا پھرکوئی ووکیشنل کورسیز کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے ۲؍ لاکھ روپوں تک کا قرض فراہم کیاجاتا ہے، اس میں کوئی مارجن نہیں رکھا جاتا۔ اس میں فیس کی پوری رقم کے برابر قرض دیا جاتا ہے ۔ حکومت کی گائیڈ لائن کے مطابق ایجوکیشن لون میں۴؍ لاکھ تک کی رقم کیلئے کوئی مارجن نہیں رکھا جاتا بلکہ فیس کی پوری کی پوری رقم کے برابر قرض منظور کیا جاتا ہے البتہ اگر  یہ رقم چار لاکھ سے زیادہ ہے تواس کیلئے الگ طریقہ ہے۔ بینکوں کیلئے طے کی گئی گائیڈ لائن کے مطابق  چار لاکھ سے ساڑھے سات لاکھ تک کی رقم کیلئے ۵؍ فیصد مارجن رکھا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ایک لاکھ کی فیس میں ۵؍ ہزار روپے طلبہ اور ان کے سرپرستوں کو خود انتظام کرنا پڑتا ہے جبکہ ۹۵؍ ہزار کی رقم بینک کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے۔
کیا اس کیلئے والدین کو بینکوں میں کچھ گروی رکھنا پڑتا ہے؟
صابر علی: نہیں! ساڑھے سات تک کی رقم کیلئے کوئی گروی یا سیکوریٹی نہیں دینی پڑتی صرف والدین کو ان کی ضمانت لینی پڑتی ہے البتہ اس سے زیادہ رقم پر قرض کی رقم کی مناسبت سے کوئی پراپرٹی گروی رکھنی پڑتی ہے ۔ بینکوں سے ایجوکیشن لون حاصل کرنا بہت آسان ہے اور سب کچھ پوری طرح سے شفاف ہے۔ میرے خیال سےبینکوں میں سسٹم نہیں بلکہ لوگوں کو ان کی جھجھک  وہاں تک پہنچنے سے روکتی ہے۔
بینکوں سے ایک بڑی شکایت یہ رہتی ہے کہ زیرو بیلنس بول کر کھاتا کھولا جاتا ہے لیکن پیسہ نہ ہونے کی بات کہہ کر کھاتا بند کردیا جاتا ہے۔
صابر علی:یہ دراصل ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ہوتا کیا ہے کہ بچے کا اسکالر شپ کا  پیسہ بینک میں آیا تو ہم اس رقم کو پوری کی پوری  نکال لیتے ہیں اور پھر دوبارہ بینک کا رُخ نہیں کرتے ۔ بینک سے طویل مدتی تعلق بنائے رکھنے کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔  بہت دنوں تک بینک نہیں جانے اور اپنے کھاتے سے کچھ لین دین نہیں کرنے سے آپ کا کھاتا بند نہیں ہوتا بلکہ غیر فعال ہوجاتا ہے۔اس کیلئے آپ سے ایک بار پھر ’کے وائی سی‘ مانگا جاتا ہے۔ اس صورت میں آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ اگر ایک سال تک کھاتے میں کچھ بھی لین دین نہیں ہوتا ہے تو وہ غیر فعال ہوجاتا ہے۔یہ بینکوں کا اپنا نظام ہے  جو ضروری بھی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK