ملبوسات کی دنیا ’’گرین فیشن‘‘ کی جانب متوجہ، کیوں؟

Updated: November 25, 2021, 1:32 PM IST | Sonakshi Gupta

دنیا بھر کی خواتین فیشن کی دلدادہ ہوتی ہیں۔ اس معاملے میں ہندوستانی خواتین بھی پیچھے نہیں ہیں۔ وہ ہر موقع کیلئے خاص طور پر لباس خریدتی ہیں یا تیار کرواتی ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کاٹن کی ایک قمیص بنانے میں کافی مقدار میں پانی خرچ ہوتا ہے۔ اس کے پیش ِ نظر اب گرین فیشن کی جانب توجہ دلائی جا رہی ہے

In the world of fashion, old clothes are being worn again and again.Picture:INN
علامتی تصویرفیشن کی دُنیا میں اب پرانے کپڑوں کو بار بار پہننے پر زور دیا جا رہا ہے۔ تصویر: آئی این این

فیشن کی دُنیا سے قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لئے ہم آئے دن نئے نئے کپڑے اور فیشن کے لوازمات خرید رہے ہیں۔ ایسے دور میں انگلینڈ کی ایک خاتون نے ایسا کام کرکے دکھایا ہے جس کی آج دنیا بھر میں مثال دی جا رہی ہے۔ کورونا بحران کے دوران دنیا بھر میں جب لوگ بیماری سے جنگ لڑ رہے تھے تب ایک فلاحی تنظیم کی منتظم ریچل ڈیویڈ نے غریب خاندانوں کی مدد کرنے کا بہت ہی انوکھا طریقہ نکالا۔ ریچل نے ایک سال تک کوئی بھی لباس نہیں خریدا اور پورے سال پرانے لباس پہن کر تقریباً ۱۵؍ لاکھ روپے کی بچت کی جنہیں کورونا بحران کے دوران ملازمت سے دستبردار ہونے والے لوگوں کو عطیہ کر دیا۔ تو کیا لڑکیاں واقعی صرف چند لباس پہن کر گزارہ کرسکتی ہیں، یا پھر وہ ہر موقع کیلئے مختلف لباس پہنتی ہیں! جانئے کہ آخر ایک عام ہندوستانی خاتون کی الماری میں کتنے جوڑی کپڑے ہوتے ہیں؟
ہندوستانی خاتون کی الماری میں کون سے کپڑے ضرور ہوتے ہیں؟
 فیشن کی دُنیا کے ماہرین کے مطابق، خواتین الماری کھولتی ہیں تو انہیں ہمیشہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان پاس کپڑے ہی نہیں ہیں، اس لئے ان کی کپڑوں کی لسٹ کبھی پوری نہیں ہوتی۔ حالانکہ ہر خاتون اپنی الماری میں کچھ خاص موقعوں کے لئے درج ذیل کپڑے ضرور رکھتی ہے۔روایتی لباس: گھر میں کوئی تقریب ہو یا تہوار، ٹریڈیشنل لُک پانے کے لئے خواتین ساڑی، سوٹ طرح طرح کی ڈایزائنر کرتیاں، پلازو اور آج کل کفتان بھی رکھنے لگی ہیں۔آفس ڈریس: ملازمت پیشہ خواتین میٹنگ اور انٹرویو جیسے خاص موقعوں کے لئے فارمل لباس ضرور اپنی الماری میں رکھتی ہیں۔سیر و تفریح کے لئے لباس: ہر خاتون ہمیشہ اچھی نظر آناچاہتی ہے اور سیر و تفریح کے دوران وہ اس جانب خاص توجہ دیتی ہے۔ اس موقع کے لئے ہمیشہ اپنی الماری میں اپنی پسند کے رنگ کا ایک گاؤن یا لانگ ڈریس ضرور رکھتی ہیں۔ علاوہ ازیں رنگ برنگے اسکارف بھی اپنی الماری میں ضرور شامل کرتی ہے۔
ایک ’ٹاپ‘ بنانے میں ۲؍ ہزار ۷۰۰؍ لیٹر پانی خرچ ہوتا ہے
 اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ فیشن ختم ہوگا اور نہ ہی کپڑوں کے تئیں ہماری محبّت لیکن ایک چیز ہے جو زمین پر بہت تیزی سے ختم ہو رہی ہے اور جس سے ہم سبھی جڑے ہوئے ہیں، وہ ہے پینے کا پانی۔ نیشنل جیوگرافک کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک کاٹن ٹی شرٹ بنانے میں تقریباً ۲؍ ہزار ۷۰۰؍ لیٹر صاف پانی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کاٹن کی کاشت کرنے سے لے کر، اسے صاف کرنے اور کپڑوں کو ڈائی کرنے تک سب سے زیادہ صاف پانی استعمال ہوتا ہے جبکہ تقریباً ۵۹۳؍ گیلن پانی ایک شخص کو ۲؍ سال تک زندہ رہنے کے لئے درکار ہوتا ہے۔ ایک جینس بنانے میں تقریباً ۹۹۸؍ گیلن پانی استعمال ہوتا ہے، اتنا پانی ایک خاندان ۳؍ دن میں خرچ کرتا ہے۔ چمڑے کا ایک جوڑی جوتا بنانے میں تقریباً ۳؍ ہزار ۶۲۶؍ گیلن پانی استعمال ہوتا ہے جبکہ کپڑوں کو گلنے میں ۲؍ تا ۲۰۰؍ سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔ یہ اعداد و شمار حیرت انگیز طور پر مبالغہ آمیز لگتے ہیں مگر ریسرچ یہی کہتی ہے۔
گرین فیشن کی جانب متوجہ کیا جا رہا ہے
 نیشنل جیوگرافک کی ایک تحقیق کے مطابق، دنیا میں ۷۰؍ فیصد پانی ہے جس میں صرف ۲ء۵؍ فیصد پانی ہی پینے کے قابل ہے، باقی سمندر کا کھارا پانی ہے۔ اس میں بھی صرف ایک فیصد پانی ایسا ہے جو ہمیں آسانی سے دستیاب ہے، کیونکہ ۱ء۵؍ پینے کا پانی گلیشئر اور برف کی چٹانوں کی شکل میں موجود ہے۔ وہیں دنیا بھر میں فیشن انڈسٹری سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والی صنعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں پائیدار فیشن کے چرچے ہو رہے ہیں۔ کئی فیشن کمپنیاں اب ری سائیکلنگ پر کام کر رہی ہیں اور کم پانی خرچ کرکے کپڑے تیار کرنے کی جانب متوجہ ہو رہی ہیں۔
ماحول دوست بنیں
 اگر آپ بھی ماحولیات کے تحفظ کے لئے کوئی ٹھوس قدم اٹھانا چاہتی ہیں تو ایک کپڑے کو زیادہ سے زیادہ بار پہن کر ایک اچھا قدم اٹھا سکتی ہیں۔ کپڑوں کو طویل عرصے تک قابل ِ استعمال بنانے کے لئے ان باتوں پر عمل کریں:
ز کپڑوں کو کم دھوئیں۔
ز کپڑوں کے ساتھ آنے والے لیبل پر دیئے گئے نکات کو پڑھیں اور عمل کریں۔
ز کپڑوں کو دھونے سے قبل اس کے داغ الگ سے ہٹائیں۔
ز واشنگ مشین میں کپڑے دھوتے وقت احتیاط برتیں۔
ز دھوپ میں زیادہ دیر تک کپڑے نہ سکھائیں، اس سے ان کا رنگ پھیکا پڑتا ہے۔
ز کپڑوں کو استری کیا کریں، اس سے کپڑے جلدی خراب نہیں ہوتے۔
ز کامدار لباس کو ہلکے ہاتھوں سے دھوئیں۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK