ماں لفظ میں ایسی مٹھاس اور شیرینی ہے جو دل میں اُتر جائے

Updated: May 10, 2022, 11:34 AM IST | Saima Shaikh

امی، اماں، مادر، مدر، ماما، ماجی، دائی، دنیا کی چاہے کسی بھی زبان میں ماں کو پکارو، اس لفظ میں ایسی محبت اور مٹھاس ہے جو شاید ہی کسی اور لفظ میں ہو۔ ماں کے بغیر ایک مکمل گھر کا تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ ہر وہ گھر جنت ہے جہاں ماں کا وجود ہے۔ خدا کی دی ہوئی اس نعمت کی قدر ومنزلت کو سمجھنا ضروری ہے۔ ماں کی عظمت کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ رب کریم جب انسان سے اپنی محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کیلئے ماں کی محبت کو مثال بناتا ہے۔ عالمی یوم ِ مادر کی مناسبت سے جاری سیریز کی تیسری اور آخری کڑی۔

Mother is the sweetest word in the world that gives a feeling of love, coolness and serenity when you think about .Picture:INN
ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک محبت ، ٹھنڈک، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

’’آپ نے اُڑان بھرنے کیلئے پنکھ دیئے....‘‘
ماں کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں غالباً یہی ایک ایسا رشتہ ہے جو ساری زندگی آپ کے ساتھ رہتا ہے۔ جب آپ کم عمر ہوتے ہیں تو آپ کی ماں ہوتی ہے، اور جب آپ کے بچے ہوجاتے ہیں تو پھر آپ ماں بن جاتی ہیں۔ اس رشتے سے دوری ممکن نہیں مگر دنیا میں آج بھی ایسے لوگ ہیں (بیٹیاں ہوں یا بیٹے) جو ذریعۂ معاش اور دیگر ذمہ داریوں کے سبب اپنے خاندان، خاص طور پر ماں سے دور ہوجاتے ہیں۔ دنیا کے ہر رشتے کی محبت اپنی جگہ لیکن ماں کی محبت کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ وبائی حالات سے قبل مَیں ایک بین الاقوامی ایئر لائنز کمپنی سے وابستہ تھی جس کے سبب ملک سے باہر رہائش اختیار کرنی پڑی۔ماں سے دور جانے کا دل تو نہیں چاہ رہا تھا مگر انہی کی جانب سے ہمت بندھانے اور حوصلہ دلانے کے بعد میں نے یہ ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان سے دور جانا کسی بڑی آزمائش سے کم نہ تھا۔ لیکن وہی میری ہمت اور حوصلہ بنیں اور یوں میں اپنے کریئر میں آگے بڑھتی رہی۔ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد میں ایک غیر ملک میں پھنس گئی تھی۔ ماں کی بہت یاد آتی تھی۔ جی کرتا تھا کہ اُڑ کر ان کے پاس پہنچ جاؤں مگر ایسے سنگین حالات میں ہوٹل سے باہر نکلنا بھی منع تھا۔ ماں سے بات چیت کا واحد ذریعے صرف موبائل فون ہی تھا۔ دن بھر میں کئی مرتبہ ان سے فون پر بات چیت کرتی تھی۔ وہ ممبئی میں رہتے ہوئے بھی میری خبر گیری کرتی تھیں۔ مَیں بھلے ہی ان کی خیریت نہ پوچھوں، وہ دن بھر میں ۵۰؍ مرتبہ مجھ سے صرف یہی پوچھتی رہتی تھیں کہ مَیں نے کھانا کھالیا ہے ناں، مجھے کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔ امی! آپ نے نہ صرف اچھے بلکہ برے حالات میں بھی میرا ساتھ دیا ہے۔ آپ نے میری ہر خواہش کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ آپ نے مجھے صرف جنم نہیں دیا بلکہ دنیا کے ساتھ آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنے کا حوصلہ اور اُڑان بھرنے کیلئے پنکھ دیئے ہیں۔ آج بھی آپ کی دعاؤں اور دست شفقت کی طالب ہوں۔
انشا خان
’’جن کی ماں ہے وہ اس بات کو سمجھیں‘‘
ماں جیسی عظیم اور مقدس ہستی ہر شخص کے پاس ہوتی ہے لیکن ایسے افراد کم ہی ہوں گے جو اس کی اہمیت سے واقف ہوں۔ اگر ماں نہ ہو تو کسی بھی کام میں جی نہیں لگتا۔ ماں صرف جنم نہیں دیتی بلکہ اپنے بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتی ہے اور صحیح نہج پر اس کی تربیت کرتی ہے۔ اگر ماں نہ ہو تو بچے بے یارو مددگار در در بھٹکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس لئے جن کی مائیں ہیں، وہ اس بات کو سمجھیں کہ یہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ ماں صرف خدا کا تحفہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جو اگر نہ ہو تو انسان کا دل خالی ہوکر رہ جائے۔ ماں سےاتنی قربت ہے کہ ان کے بغیر زندگی کیسی ہوگی مَیں سوچ بھی نہیں سکتی۔ گھر جاتے ہی سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ امی! آپ کہاں ہے؟ یا اگر امی گھر پر نہ ہوں تو گھر پر موجود دیگر لوگوں سے یہی سوال کرتی ہوں کہ امی کہاں ہیں؟ چند برسوں قبل ایک جگہ رشتہ طے ہوجانے اور پھر بات نہ بننے کی وجہ سے رشتہ ٹوٹ جانے کی وجہ سے میں کافی مایوس ہوگئی تھی۔ اس وقت میری امی نے مجھے حوصلہ دیا۔ میں اتنی دل برداشتہ ہوگئی تھی کہ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔جیسے ہر ماں اپنے بچے کو بچپن میں سنبھالتی ہے ٹھیک اسی طرح میری ماں نے مجھے اس وقت سنبھالا۔وہ مجھ سے گھنٹوں باتیں کرتی رہتیں اور کسی بھی قیمت پر مجھے اکیلا نہیں چھوڑتیں۔ میری اتنی فکر انہوں نے کبھی نہیں کی تھی۔ یہ وہ ایام تھے جنہوں نے مجھے میری ماں کے مزید قریب کر دیا۔ اب ان سے دور ہونے کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتا ہے۔ تاہم، زندگی تو آگے بڑھتے ہی رہنے کا نام ہے۔ اگلے مہینے میری شادی ہوجائے گی۔ مَیں ابھی سے فکر مند ہوں کہ مَیں ماں کے بغیر کیسے رہوں گی! یا وہ میرے بغیر کیسے رہیں گی؟ ہر ماں کو اپنی اولاد، خاص طور پر بیٹیوں کیلئے یہ قربانی دینی پڑتی ہے۔ لیکن میری ماں نے مجھ سے اور مَیں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ہم دونوں دور ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی پوری کوشش کریں گی۔
تسنیم محمد انور انصاری

’ہر مشکل میں انہیں اپنے ساتھ پایا‘‘
’’ماں‘‘ یہ لفظ کسی تعریف و توصیف کا محتاج نہیں۔میری ماں.... اوروں سے قدرے مختلف، نہ تو بہت نرم مزاج اور نہ ہی اور ماؤں کی طرح کھل کر اظہار ِ محبّت۔ ان کی محبّت کو سمجھنے کے لئے احساس لازم ہے۔ اگرچہ وہ اپنے ابتدائی دور میں ایک سخت گیر خاتون رہی جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میرے والد بیرون ملک ہوتے تھے۔ کبھی کبھی مجھے احساس ہوتا کہ میری ماں شاید مجھ سے پیار نہیں کرتی اس لئے ہمیشہ مجھ میں خامیاں نکالتی ہیں لیکن آج جبکہ مَیں خود ماں ہوں ،احساس ہوتا ہے کہ یہ بھی ان کی تربیت کا ایک طریقہ تھا۔ آج میرے شوہر بھی بیرون ملک ہوتے ہیں اور میرے دونوں بچوں کی تربیت کی ذمہ داری مجھ اکیلی پر ہے اور اب مَیں سمجھنے لگی ہوں کہ ماں اور باپ دونوں بن کر بچوں کو پالنا کتنا مشکل ہے۔ میری زندگی میں ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب مَیں سخت بیمار تھی۔اس وقت میری ماں نے میری ایسی دیکھ بھال کی جیسے کوئی چھوٹے بچوں کی کرتا ہے۔ اگرچہ مَیں اس وقت شادی شدہ تھی،پھر بھی تقریباً ۲؍ سال انہوں نے مجھے اپنے پاس رکھا۔ روزانہ صبح ۶؍ بجے اٹھا کر مجھے دوا دیتی اور پھر سے سلا دیتی۔ کون کرتا ہے ایسا....؟ واقعی مَیں نے ہر مشکل میں انہیں اپنے ساتھ پایا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ ماں! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے والدین کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رہے۔ (آمین)
لبنیٰ عتیق
’ماں نے تنہا میری پرورش کی....‘‘
کہتے ہیں کہ محبت کی ابتداءا ور انتہا کو دنیا میں ناپنے کا اگر کوئی پیمانہ ہے تو وہ صرف اور صرف ایک لفظ میں مل سکتا ہے اور وہ ہے ’’ماں‘‘۔ دنیا کے سارے رشتے ناطے ایک طرف اور ماں جیسا لازوال رشتہ ایک طرف۔ ’’ماں‘‘ محبت کی وہ ابتداء ہے جو اپنی اولاد کو نو مہینے اپنے پیٹ میں پالتی ہے۔ ان نو مہینوں میں وہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دنیا میں آنے والے اس بچے کیلئے خود سراپا دعا بن جاتی ہے۔ وہ بچہ جو ابھی دنیا میں آیا بھی نہیں ہے، اس کی خاطر وہ کس کس تکلیف سے نہیں گزرتی لیکن مجال ہے کہ اس اولاد کیلئے ایک ذرا سی شکن بھی اس کے ماتھے پر آتی ہو جو آنے سے پہلے ہی اسے تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ میری پیدائش کے بعد میرے والد نےہم لوگوں سے دوری بنا لیا تھا۔ چونکہ مَیں بیٹی پیدا ہوئی اس لئے انہوں نے مجھے قبول نہیں کیا۔ میری ماں نے تنہا میری پرورش کی۔ انہوں نے کبھی مجھے والد کی کمی محسوس ہونے نہیں دی۔ ایک مرتبہ میرے پیر کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ اس وقت امّی بہت زیادہ پریشان ہوگئی تھی۔ انہوں نے میرا پورا خیال رکھا۔ میری امّی کو اکثر لوگ کہتے تھے کہ بغیر باپ کے بچّی کو کیسے سنبھال پاؤ گی.... مگر انہوں نے کسی کی بات پر توجہ نہیں دی۔ آج جو کچھ بھی مَیں ہوں، وہ صرف اپنی ماں کی بدولت ہوں۔ ماں، آپ میرے لئے بہت اہمیت رکھتی ہو۔
خدیجہ اسماء ملکانی
’’ہم نے جھوٹ بول دیا مگر وہ حقیقت جانے بغیر نہیں مانیں‘‘
’’ماں‘‘ ایک عظیم شخصیت ہے۔ وہ پوری زندگی اپنی اولاد کے لئے قربانیاں دیتی رہتی ہے۔ ان کے ایثار اور قربانیوں کا بدلہ اولاد لوٹا نہیں سکتی۔ زندگی اپنی رفتار سے گزرتی رہتی ہے مگر ماں ہر لمحہ اپنی اولاد کی فکر کرتی رہتی ہے کہ میرے بچے نے کھانا کھایا یا نہیں، شکل سے تھوڑا اُداس لگ رہا تھا... شاید کوئی بات ہوگئی ہے، سونی کو ٹھنڈی زیادہ لگتی ہے... چادر اوڑھا کر آتی ہوں۔ ماں ایسی ہی ہوتی ہے۔ اپنے بارے میں کبھی نہیں سوچے گی، اسے اپنے سبھی بچّوں کا خیال ہوتا ہے۔ میری ماں مزاج کی سخت ہے مگر اندر سے بالکل نرم ہے۔ ایک مرتبہ بڑی بہن اور میرے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوگیا۔ بڑی بہن نے غصے سے ایک مکّا میرے چہرے پر مار دیا۔ مار شدید تھی اس لئے ہم دونوں ہی ڈر گئے کہ ماں کو معلوم ہوگا تو شامت آجائے گی۔ ہم دونوں نے طے کیا کہ یہ بات نہیں بتائیں گے۔ لیکن کہتے ہیں ناں کہ ماں سے جھوٹ بولنا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے میرا چہرہ دیکھ کر پوچھ لیا اور ہم نے جھوٹ بول دیا مگر وہ حقیقت جانے بغیر نہیں مانیں۔ جب سچائی معلوم ہوئی تو بڑی بہن کو بہت ڈانٹا اور اس کے بعد میری مرہم پٹی کی۔ پورا وقت اپنے سے لگائے رکھا۔ آج میری والدہ بستر پر ہیں اور شدید بیمار ہیں۔ میری دعا ہے کہ آپ جلد از جلد صحت یاب ہو جائیں۔ (آمین)
روزی حسین

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK