’’بس دادی اتنی سی بات.... مَیں تو جھوٹ بولتا ہی نہیں ہوں.... امی کہتی ہیں اگر تم نے جھوٹ کہا تو تمہیں زبان پر چٹکے دوں گی.... بابا دادی کو بتائیں میں تو جھوٹ کہتا ہی نہیں....‘‘ آمنہ بی نے شفقت سے روحیل کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 1:51 PM IST | Shabnam Farooque | Mumbai
’’بس دادی اتنی سی بات.... مَیں تو جھوٹ بولتا ہی نہیں ہوں.... امی کہتی ہیں اگر تم نے جھوٹ کہا تو تمہیں زبان پر چٹکے دوں گی.... بابا دادی کو بتائیں میں تو جھوٹ کہتا ہی نہیں....‘‘ آمنہ بی نے شفقت سے روحیل کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
’’دادی جان! یہ روزہ کیا ہوتا ہے؟‘‘
روحیل اپنے مخصوص معصومانہ انداز میں پوچھ رہا تھا.... آمنہ بی نماز کے بعد کے وظائف پڑھنے میں مںشغول تھی.... اس سوال پر مسکرا کر روحیل کو دیکھا اور پھر اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیر کر روحیل کو ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلایا اس پر دعائیں پھونک کر اسے مزید قریب کرلیا....
’’کیوں بھئی تم روزے کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘
’’دادی ہماری استانی نے کہا ہے آپ سب بچوں کو روزہ رکھنا ہے۔‘‘
’’دادی آپ بتایئے روزہ کیا ہے؟ اور یہ کہاں ملتا ہے؟ اور دادی اسے رکھتے کہاں ہیں؟‘‘ چار سالہ معصوم روحیل روزے کے بارے میں جاننے پر بضد تھا....
’’بیٹا روزہ ایک ایسا اچھا کام ہے جو ہمارے اللہ کو بے حد پسند۔‘‘
’’دادی یہ تو کام ہے اور امی تو مجھے کام کرنے سے منع کرتی ہیں۔ کل میں نے امی کے ساتھ گلاس اٹھائے تھے اور ایک گلاس خود سے نیچے جا گرا.... امی تب سے مجھ سے خفا ہیں اور کہتی ہیں اگر جو تم نے دوبارہ کوئی کام کیا تو تمہارے ہاتھ پاوں باندھ دوں گی۔‘‘
آمنہ بی روحیل کی بات پر کُھل کر مسکرا دی۔
’’دادی کی جان یہ وہ کام نہیں ہے جس پر آپ کو ڈانٹ پڑے بلکہ اس کام سے تو آپ کی امی بھی خوش ہوجائیں گی۔‘‘
’’یے.... اب تو میں یہ کام کروں گا....‘‘ روحیل خوش ہوکر بلند آواز میں کہنے لگا....
’’ارے ارے کون سا کام کرنے جارہے ہیں چھوٹے میاں....‘‘ شہروز داخلی دروازے سے اندر آتے ہوئے ماں کے پاس جاکر بیٹھ گئے اور روحیل سے مخاطب ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: راستے جو منزل سے بڑھ کر تھے
’’بابا میری استانی نے روزے رکھنے کو کہا ہے.... مَیں نے دادی سے کہا ہے دادی جان آج مجھے بتائیں گی روزہ کیسے رکھتے ہیں۔‘‘
’’ارے اماں آپ بھی.... روحیل ابھی بہت چھوٹا ہے اس پر روزے فرض نہیں ہوئے....‘‘
’’یہ مَیں بھی جانتی ہوں شیرو.... روحیل ابھی بہت چھوٹا ہے اس پر روزے فرض نہیں ہیں.... لیکن بیٹا یہ بھی تو دیکھو جو چیزیں اسے ایک مخصوص عمر کے بعد سیکھنا تھی وہ ابھی سے سیکھ رہا ہے.... فون کے سارے ایپ استعمال کرنے آتے ہیں.... اس پر تمہیں بھی بہت خوشی ہے کہ تمہارا بیٹا بہت تیزی سے چیزوں کو سیکھ رہا ہے.... بیٹا جب نئی چیزیں سیکھنے کی اجازت ہے تو پھر دینی کاموں میں ہم اس وقت کا انتظار کیوں کرتے ہیں جب اعمال فرض ہونے لگے.... ہمیں پہلے سے تاکید کرنی چاہئے تاکہ فرائض کی عمر میں بچے خوش دلی سے وہ اعمال انجام دیں.... اور دلجمعی کے ساتھ فرائض کی ادائیگی کرے....‘‘
’’لیکن اماں.... روحیل ابھی بہت چھوٹا ہے.... کہیں وہ روزہ توڑ نہ دے....‘‘
’’شیرو جب تم تین سال کے تھے تو تمہیں تمہارے ابا مسجد لے جایا کرتے تھے.... تم مجھے بتاو کیا اس عمر میں تمہیں نماز پڑھنے آتی ہوگی؟‘‘
شہروز نفی میں سر ہلایا۔
’’لیکن پھر بھی تمہارے ابا ہر نماز میں تمہیں ساتھ لے جاتے یہاں تک کہ سرد موسم میں فجر کی نماز میں بھی تمہیں اٹھاتے، تم سوتے جاگتے مسجد جاتے.... لیکن واپسی پر ہشاش بشاش ہوتے.... تم مجھے یہ بتاو کیا تم نے بالغ ہونے کے بعد سردیوں کی نمازوں میں کوتاہی کی؟‘‘
’’نہیں اماں.... نمازوں سے ایسا دل لگا کہ کیا سردی اور کیا گرمی.... نہ پڑھوں تو بے چینی سی ہوتی ہے....‘‘
’’بیٹا یہ وہی لاشعوری والی عادت، دلچسپی اور اہمیت کا نتیجہ ہے۔ بچے جب چھوٹے ہو تو انہیں نیک کام کی طرف راغب کیا جائے تو وہ بآسانی بڑے ہوکر نیکیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں انہیں بار بار تنبیہ نہیں کرنا پڑتا....‘‘
’’اماں آپ کہہ تو صحیح رہی ہیں.... لیکن اماں مجھے پریشانی یہ لاحق ہے کہ روحیل کہیں روزہ توڑ نہ دے۔‘‘ شہروز نے ایک نگاہ روحیل پر ڈالی۔
تمہاری یہ پریشانی بھی دور کردیتی ہوں.... تم بس دیکھو میں کیا کرتی ہوں....‘‘
’’روحیل بیٹا تمہیں روزہ رکھنا ہے نا؟‘‘ دادی روحیل سے مخاطب ہوئی۔
’’جی دادی جان.... رکھنا ہے.... پھر میں اپنی ٹیچر کو بتاوں گا....‘‘
’’بیٹا تو روزہ رکھنے کے لئے تمہیں سب سے پہلے یہ نیت کرنا ہے کہ تم جھوٹ نہیں بولو گے.... یہ زبان کا روزہ یعنی زبان سے اچھے کام کرو گے.... کیونکہ روزہ تو اچھے کام کا نام ہے نا....‘‘
’’بس دادی اتنی سی بات.... مَیں تو جھوٹ بولتا ہی نہیں ہوں.... امی کہتی ہیں اگر تم نے جھوٹ کہا تو تمہیں زبان پر چٹکے دوں گی.... بابا دادی کو بتائیں میں تو جھوٹ کہتا ہی نہیں....‘‘
آمنہ بی نے شفقت سے روحیل کی پیشانی پر بوسہ دیا، ’’میری جان.... تم میرے پیارے بچے ہو....‘‘
’’اور سنو پھر تمہیں آنکھوں سے وہ چیز نہیں دیکھنا ہے جو اللہ کو پسند نہیں....‘‘
’’دادی پھر کیا میں عبدالباری بھی نہیں دیکھوں گا؟‘‘
’’نہیں....‘‘
’’روزے کا مطلب ہوتا ہے آپ وہ کام کرو جو اللہ کو بہت پسند ہے.... اور کیا اللہ تعالیٰ کو پسند ہوگا.... آپ موبائل فون لے کر ہر وقت بیٹھے رہیں نہیں نا....‘‘
’’اچھا دادی....‘‘
’’اور تم اب دوستوں کے ساتھ بالکل نہیں لڑو گے....‘‘
’’لیکن دادی آپ کو تو پتا ہے سونو مجھ سے کتنا لڑتا ہے وہ میرے بال کھینچ لیتا ہے....‘‘ اداسی چہرے پر آگئی۔
’’تو پھر آپ روزہ کیسے رکھو گے؟ اگر تم لڑائی کرو گے تو اللہ ناراض ہوں گے.... اور روزہ تو اس کام کا نام ہے نا جو اللہ کو پسند ہو وہ کیا جائے.... اور جو ناپسند ہو وہ چھوڑ دیا جائے.... پھر سوچ لو تم.... روزہ نہیں رکھنا ہے....‘‘
’’رکھنا ہے دادی.... مَیں پرومس کرتا ہوں اب سونو سے نہیں لڑوں گا....‘‘
’’شاباش میرے بہادر.... شہروز نے بیٹے کی پیٹھ تھپتھپائی....‘‘
’’....اور ....اور کیا کرنا ہوگا....‘‘
’’اور آپ اب تمام نمازوں کے ساتھ دادو کے ساتھ تراویح بھی پڑھنے جایا کرو گے....‘‘
’’دادی جان یہ تراویح کیا ہے؟‘‘
’’بیٹا آپ کہتے تھے نا حافظ جی آپ کو قرآن پڑھنے نہیں دیتے.... بیٹا تراویح میں قرآن مقدس کو پڑھا جاتا ہے۔‘‘
’’تو کیا مجھے اب حافظ جی منع نہیں کریں گے....!‘‘ روحیل نے خوشی خوشی پوچھا۔
’’نہیں اب وہ خود سب کو پڑھائیں گے تب آپ بھی پڑھو گے.... ارے واہ.... اب تو مَیں قرآن کو چھو سکتا ہوں.... دادی وہ جو چھوٹی والی دادو مکّہ سے قرآن لائے تھے وہ میں لے لوں....‘‘
’’ہاں بالکل.... اب وہ تمہاری.... لیکن یاد رہے بغیر وضو کے ہاتھ نہیں لگانا ہے....‘‘
’’جی دادی....‘‘
’’اماں آپ نے تو بالکل روزے کی غرض و غایت واضح کردی۔‘‘
’’بیٹا یہ ہی تو طریقہ ہے بچوں کی تربیت کا انہیں فرائض اور واجبات سمجھانے کے بجائے ان کے انداز میں اس کا مقصد بتایا جائے... یہ ہی بچے جب فرض کی عمر میں داخل ہوتے ہیں تو اعمال کو رسماً ادا نہیں کرتے بلکہ اس کی گہرائی سے واقف ہوتے ہیں.... وہ جاننے لگتے ہیں نماز کوئی ایکسر سائز نہیں ہے جسے رسماً ادا کرلیا جائے بلکہ یہ اللہ رب العزت سے ملاقات کا خوبصورت ذریعہ ہے جہاں جانے سے پہلے خود کو خوب اچھی طرح سے پاک صاف کرنا ہے.... پھر جب جائے نماز پر کھڑے ہو تو اس حالت میں کہ گویا اللہ رب العزت سامنے موجود ہے... ایسے بچے روزے اور دیگر تمام فرائض کی گہرائیوں سے واقف ہوجاتے ہیں کیونکہ ان پر اعمال مسلط نہیں کئے گئے بلکہ ان کے دل میں اس کی اہمیت اور دلچسپی پیدا کی گئی ہے....‘‘
’’اماں جان.... آپ صحیح کہہ رہی ہے۔ ایسے پھر روحیل روزے رکھ بھی لے گا کیونکہ اس کے دل میں روزے کی اہمیت واضح ہوچکی ہوگی۔ پھر اس پر بھوک اور پیاس گراں نہیں گزرے گی.... کیونکہ اسے معلوم ہوگا اللہ کے لئے بہت ساری چیزیں ترک کی جاتی ہیں.... اور وہ باسانی روزہ رکھ سکے گا....‘‘