بیٹوں کی تربیت میں کن باتوں کا خیال رکھنا اب ضروری ہوگیا ہے؟

Updated: November 24, 2022, 1:12 PM IST | Saima Sheikh | Mumbai

گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں

Sons and daughters, both are important pillars of the society, training is necessary for both.Picture:INN
بیٹے اور بیٹیاں، دونوں معاشرے کے اہم ستون ہیں۔ تربیت دونوں کی ضروری ہے مگر موجودہ حالات میں بیٹوں پر زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ تصویر :آئی این این

والدین کو سنجیدہ ہونا ہوگا
مثبت اور تعمیری پہلوؤں سے فائدہ اٹھا کر بیٹوں کی تربیت کی جائے۔ والدین کو اپنے بیٹوں کی تربیت میں حکمت و دانائی سے کام لے کر ان کے اخلاق کو سنوارنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہم گھر میں علم دوست ماحول بنانے میں محنت کرے تو مستقبل میں اس کے بہتر نتائج حاصل ہوں گے۔ ان کے اندر مطالعہ کی تحریک پیدا کی جائے۔ اس تحریک کو با اثر بنانے کے لئے ہمیں بھی قربانی دینی ہوگی۔ وہ اس طرح کہ اپنے موبائل فون کے شوق کو کم سے کم کرکے ہمیں بھی ان کے سامنے مطالعہ کرنا ہوگا اور ایسے موضوع پر مطالعہ کریں جس کے ذریعے ان کی اصلاح ہوسکے۔ ان کے گھر پر دیر رات گئے تک آنے پر نرمی اور محبت سے سمجھا ئیں اور برے دوستوں میں وقت گزارنے کے نقصان بتائیں۔ اسکولوں میں ہونے والے ثقافتی تقریبات میں پرجوش ہوکر شریک ہونے کی ترغیب دیں۔ آج ہر گھر میں والدین اپنے بچوں کے مخرب اخلاق کی بنا پر بے حد پریشان اور دکھی ہے۔ اس سے نجات حاصل کرنے کا بہترین نسخہ ہے کہ ان کی تربیت میں ہمیں خصوصی توجہ درکار ہیں کیونکہ مستقبل میں یہی والدین کا اثاثہ ہے۔ یاد رہے جب تک بچوں کی تربیت پر آپ سنجیدہ نہیں ہوں گے ان کی اصلاح ناممکن ہے۔
نصرت عبدالرحمٰن (بھیونڈی، تھانے)
خواتین کی عزت و احترام کی تلقین
صدیوں پر محیط خیال ہے کہ ایک عمدہ معاشرتی نظام کیلئے، عورت کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ صنف نازک کو اس بات کی بچپن ہی سے تعلیم و ٹریننگ دی جاتی ہے کہ تہذیب و حیا کو اپنا زیور بنائے رکھنا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایک صحتمند معاشرہ کیلئے ایک عورت کی کارکردگی جتنی اہمیت کی حامل ہے اتنی ہی ذمہ داری ایک مرد کی بھی ہے۔ مرد کیسا ہے، اس کا رویہ کیسا ہے، اُس کا افعال و کردار کیا ہے،اس کا اثر سب سے پہلے عورت پر پڑتا ہے۔ بعد میں خود اس کے گھر اور پھر معاشرہ پر۔ اس لئے ضروری ہے کہ پہلے خود سازی، پھر خانہ سازی اور پھر معاشرہ سازی کا خیال پیدا کیا جائے۔ ہماری پہلی ذمہ داری ہے کہ مرد کی تربیت پر غور کریں۔ ضروری ہے کہ ہم اسے سکھائیں کہ اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ ساتھ بیرون خانہ کی مستورات کو بھی عزت و احترام سے دیکھیں۔ مقام حیف ہے کہ دور حاضر کا مرد اندورن خانہ کو سورج کی روشنی سے بھی پردہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور بیرون خانہ اسی صنف نازک کی عزت کے جنازے کی آخری کیل بننے پر مصر ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ مرد اپنے گھر کی عورتوں کے تئیں جو ذمہ داریاں محسوس کرتا ہے وہی ذمہ داری، راستے پر چلتی تنہا عورت کو بھی لیکر برتے۔
صائمہ انصاری (ریسرچ اسکالر،لکھنؤ یونیورسٹی، لکھنؤ)
دین ِ اسلام کی تعلیمات پر تربیت کریں
نیک اور فرمانبردار اولاد اللہ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے یہ نعمت جس کے پاس ہے وہ بہت ہی خوش نصیب والدین ہیں۔ لیکن کبھی کبھی یہی اولاد والدین کیلئے شرمندگی کا باعث بن جاتے ہیں اور اس کی وجہ والدین کی تربیت ہی ہے۔ والدین کبھی بھی اپنے بچوں کو غلط تربیت نہیں دیتے لیکن ان کا طریقہ غلط ہوتا ہے جس کی وجہ سے اولاد نافرمان بن جاتے ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ اپنے بیٹوں کو دین اسلام کی باتیں بچپن ہی سے سکھائیں۔ خود بھی نماز کے پابند ہوں اور اپنے بیٹوں کو بھی نماز کے پابند بنائے۔ دوسروں کی مدد کرنا، حلال رزق کمانا، ہمیشہ سچ بولنا، لوگوں سے خوش دل سے باتیں کرنا، بزرگوں کی عزت کرنا وغیرہ تربیت بچپن سے ہی دیں۔ یہ دنیا ایک فانی ہے اور اللہ نے ہمیں اپنی نظروں کی بھی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ برائی نظر سے ہی شروع ہوتی ہے اس لئے والدین کو چاہئے کہ اپنے بیٹوں کو نظر کی حفاظت کرنے کی بھی تربیت ضرور دیں۔ آپ کے بچے کس کے ساتھ رہتے ہیں، ان پر بھی نظر رکھیںکیونکہ کہا جاتا ہے کہ انسان کی شخصیت پر صحبت کا گہرا پڑتا ہے۔ اگر اچھی صحبت میں رہیں گے تو دُنیا اور آخرت، دونوں میں کامیاب ہوں گے۔
منّت ناز (بھبھوا، کیمور، بہار)

کردار سازی و اخلاقی تربیت ضروری
تربیت کا سب سے بہترین پہلو روحانیت کا ہے جس میں اخلاق و کردار سے ظاہری ہر اعمال کا شمار ہوتا ہے۔ موجودہ حالات کے علاوہ ہر دور میں جس طرح بیٹیوں کو اخلاقی زیور سے آراستہ کیا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح بیٹوں کو بھی اخلاق کا پیراہن زیب تن کیا جانا چاہئے۔ سورہ لقمان میں حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں کی ہیں ان‌ میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ ’’اے میرے بیٹے اچھے کاموں کی نصیحت کیا کرو اور بُرے کاموں سے منع کرو۔‘‘ اور یہ نصیحت پر عمل پیرا صرف با اخلاق بیٹا ہی ہوسکتا ہے۔ مزید بیٹوں میں جو اہم صفات ہونی چاہئے وہ ہے باکردار، پاک باز، باحیا اور سب سے اہم صبر و تحمل ہونا ازحد ضروری ہے کیونکہ صحابہؓ کی زندگی کا جائزہ لیں تو ان کے بلند کردار اور صبر و تحمل نے ہی انہیں بلند عزائم عطا کرکے فاتح بنایا ہے۔ باکردار شخص کا عکس اس گھر کی خواتین پر بھی نظر آتا ہے۔ لہٰذا موجودہ دور میں بیٹوں کی اخلاقی و کردار سازی کی تربیت بہت ضروری ہے ۔n
خان شبنم فاروق (گوونڈی، ممبئی)
بیٹوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کیجئے
آج کے دور حاضر میں بیٹوں کی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہیں سب سے پہلے دینی ماحول دینا چاہئے۔ اکثر نوجوان لڑکے گھر میں اپنی بات کا اظہار نہیں کر پاتے ہیں اس لئے ماں کو چاہئے کہ وہ ان کے ساتھ دوستانہ تعلق پیدا کریں تاکہ وہ اپنی مشکلات کا اظہار کرسکے۔ آج کل موبائل فون کا استعمال حد درجہ بڑھتا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر مجرمانہ سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں، ان سے اپنے بیٹوں کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ والدین گھر کا ماحول خوشگوار اور دوستانہ بنائیں۔ بچوں کی پرورش کرتے وقت صنفی امتیاز نہ برتیں۔ بیٹا اور بیٹی، دونوں کو بتائیں کہ ان کی اپنی اپنی اہمیت ہے، کوئی کسی سے کمتر یا برتر نہیں ہے۔ بیٹوں سے گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی ضرور کروائیں۔ انہیں بتائیں کہ گھر کے کام کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ انہیں خواتین کا احترام کرنا بھی سکھائیں۔ اگر بیٹوں کی صحیح خطوط پر تربیت کی جائے تو یقیناً معاشرے میں ایک نئی تبدیلی رونما ہوگی۔
تبسم عبدالمجید شیخ، شولاپور
انہیں تعلیم کی جانب راغب کرنا ہوگا
بچوں کی شخصیت کی تعمیر کے لئے ان کے اطراف کا ماحول اور ان کے اہل خانہ کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ حوصلہ افزا الفاظ اور مثبت خیالات بچوں کو دیرپا فوائد پہنچا سکتے ہیں۔ غلطی کرنے پر اچھے انداز میں سکھانے اور ایک چھوٹا سا اچھا عمل کرنے پر بھی ستائشی الفاظ سے بچوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ 
 اب سوال بیٹوں کی خصوصی تربیت کاہے، تو آج کل نسل نو کے جوانوں میں منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس کے منفی اثرات خاندان اور سماج میں ناسور کی طرح پھیل رہے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ بیٹوں کی پرورش اور تربیت میں دین کی بنیادی تعلیمات پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ اعلیٰ عصری تعلیم حاصل کرکے معاشرے اور ملک میں خاندان کا نام روشن کرنے کی رغبت دلائی جائے۔ نوجوانوں میں شدت پسندی کے بڑھتے رجحانات کو ختم کرنا بھی ضروری ہے جس کیلئے انہیں تعلیم کی جانب راغب کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر شیبا افتخار انصاری (ہبہ ڈینٹل کلینک، بھیونڈی)
بیٹوں کی تربیت میں لاپروائی نہ برتیں
بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہمارے گھر اور ہمارے معاشرے کا مستقبل ہیں۔ ان دونوں ہی کی تربیت کی جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اکثر بیٹیوں کی تربیت سے متعلق کئی نصیحتیں کی جاتی ہیں لیکن جب بیٹے کا معاملہ آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ کوئی بات نہیں، لڑکا ہے جس سے انہیں شہ مل جاتی ہے۔ بعض دفعہ والدین کے بے جا لاڈ و پیار کے سبب کم عمر لڑکوں کے پاس بائیک آجاتی ہے۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ کم عمر لڑکے کس طرح دیر رات تک بائیک پر کرتب دکھاتے ہیں۔ والدین اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور بیٹوں کی تربیت میں لاپروائی نہ برتیں۔ ان کی بے جا ضد کو ہرگز پوری نہ کریں۔ اس کے علاوہ بیٹوں کو خواتین کا احترام کرنا سکھائیں۔ اکثر لڑکے گلی یا نکڑ پر کھڑے ہو کر وہاں سے گزرنے والی بچیوں کے ساتھ چھیڑخانی کرتے ہیں۔ ماؤں پر لازم ہے کہ انہیں اس قسم کی حرکت سے باز رکھیں۔ ساتھ ہی انہیں اپنوں سے بڑوں سے تمیز سے پیش آنے کی تلقین کریں۔
جبیرہ عمران پیرزادے (وسرانت واڑی، پونے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK