؍۲؍نوجوانوں نے دودھ میں ملاوٹ کی جانچ کا چھوٹا کارآمد آلہ بنایا

Updated: May 09, 2022, 1:26 PM IST | Agency | Mumbai

دودھ میں ملاوٹ کے مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے منوج موریا اور ببر سنگھ نامی دو دوستوں نے یہ منفرد ’اسٹرپ کٹ‘ بنائی ہے ، یہ کِٹ کچھ ہی منٹ میں دودھ میں ملاوٹ کا پتہ لگاسکتی ہے ، ان نوجوانوں کا دعویٰ ہے کہ اس کی لاگت صرف ۵؍ روپے ہے

With Manoj and Bibar with Kit.Picture:INN
منوج اور ببر کِٹ کے ساتھ ۔ تصویر: آئی این این

 دودھ میں ملاوٹ کی شکایت اب  عام بات ہوچکی ہے۔  ملاوٹی دودھ کے سبب لوگوں کو گردہ ، جگر سے متعلقہ بیماریوں کا   بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں ملاوٹ والے دودھ کے سبب بچوں کی نشوونما پر بھی برا اثر پڑتا ہے ۔اسی مسئلے کو دھیان میں رکھتے ہوئے دو دوستوں نے اپنی اختراعی سوچ کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک ایسی کارآمد ٹیسٹنگ کِٹ بنائی ہے جو کم خرچ میں تیار ہوجاتی ہے اور یہ دودھ میں ملاوٹ کا پتہ کچھ ہی منٹوں میں لگالیتی ہے۔  تفصیلات کے مطابق یہ کہانی کرنال میں ’ڈیلموس ریسرچ‘ نامی اپنی کمپنی چلانے والے ببر سنگھ اور منوج موریا کی ہے۔ دونوں نے کرنال میں واقع نیشنل ڈیری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے ڈیری ٹیکنالوجی میں ڈگری حاصل کی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مدر ڈیری، امول ڈیری جیسی کئی نامور کمپنیوں میں کام بھی کیا ہے اور کچھ الگ کرنے کی چاہت میں ۲۰۱۷ء میں ’ڈیلمورس ریسرچ‘ کی شروعات کی۔ اس کے ٹھٹ وہ ’ڈیل اسٹرپس‘ نامی سے ملک ٹیسٹنگ کِٹ بناتے ہیں۔ ان کی یہ تکنیک اتنی آسان ہے کہ کوئی بھی بغیر کسی صلاحیت کے آسانی سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرسکتا ہے۔ وہ بھی صرف روپے خرچ کرکے۔’بیٹر انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق منوج موریا نے کہا کہ ’’میں اور ببر سنگھ، مدر ڈیری میں ایک ساتھ کام کررہے تھے۔ اسی دوران ہم نے کچھ اپنا شروع کرنے کا ارادہ کیا ۔ ہم پہلے خاص طریقے سے پیزا کارنر شروع کرنا چاہتے تھے ، اس تعلق سے ہم نے این ڈی آر آئی کے پرنسپل سائنٹسٹ ڈاکٹر راجن شرما سے بات چیت کی ، انہوں نے بتایا کہ پروسیسنگ سسٹم کا پیٹنٹ حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔‘‘ منوج نے آگے بتایا کہ ’’ ہم کچھ ایسا شروع کرنا چاہتے تھے ، جس کا ہمیں پیٹنٹ مل جائے اور کوئی ہمارے ماڈل کی نقل نہ کرپائے۔ پھر ڈاکٹر راجن شرما نے ہمیں ’مِلک ایڈلٹریشن کِٹ‘ بنانے کا مشورہ دیا۔ ہم نے اسی میدان میں کام کیا تھا اور ہمیں ملاوٹ کے مسئلے کا اندازہ تھا۔ ان کے اس آئیڈیا کو سنتے ہی ہم نے طے کرلیا تھا کہ ہم اس سمت میں کام کریں گے۔‘‘وہ آگے بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے میں فروری ۲۰۱۶ء میں کام کی شروعات کی اور ستمبر ۲۰۱۷ء سے ان کی کمپنی شروع ہوگئی۔ اس دوران ان دونوں نوجوانوں کو ان کے پروفیسر کی جانب سے بھرپور تعاون ملا۔کہتے ہیں کہ ہمارے پروفیسرنے ہمیں ٹیکنالوجی ٹرانسفر سے لے کر بزنس شروع کرنے تک کافی مدد کی ۔ ہمارے پاس کام کرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی تو انہوں نے ہمیں جگہ دی ۔ہم ان کی مدد اور حوصلہا فزائی کو بھول نہیں سکتے۔‘‘منوج نے بتایا کہ دودھ کی جانچ ۳؍طرح سے ہوتی ہے:(۱) مشین ٹیسٹنگ (۲) کیمیکل ٹیسٹنگ(۳) ریپڈ ٹیسٹنگ، ان مشینوں کی قیمت ۵؍ سے ۸۰؍ لاکھ روپے تک ہے۔ یہی وجہ ہے ہم نے یہ ٹیسٹنگ کٹ بنائی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK