تہذیب کے آغاز ہی سے ہی انسان ستاروں کی طرف دیکھ رہا ہے۔ کائنات کے اسرار و رموز سمجھنے کیلئے سائنسداں ابتدا ہی سے اس میں دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ زمین کے ماحول سے باہر کی دنیا یعنی خلا کے بارے میں بہت سے لوگ متجسس رہتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ خلائی دنیا کس طرح ہوتی ہے یا وہ کیسی نظر آتی ہے۔ ناسااور دیگر خلائی ایجنسیوں کے قیام کے بعد خلائی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ پڑھئےخلاء سے باہر کی ۹؍ نایاب اور یادگار تصاویر کے متعلق :تمام تصاویر: آئی این این۔
وائلڈ ہارسیز: اورین برج میں ہارس ہیڈ نیبولا کی یہ حیرت انگیز تصویر ہے۔ یہ گھنے دھول کے بادل ہیں جو زمین سے تقریباً ایک ہزار ۳۷۵؍ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔
ملکی وے کا روشن ستارہ: ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نےملکی وے کے روشن ترین ستاروں میں سے ایک AG Carinae کی یہ تصویر کھینچی ہے۔ یہ ستارہ دھول اور گیس کے ہالے سے گھرا ہے۔
پلرز آف کریئشن: ایگل نیبولاکو میسیئر ۱۶؍ بھی کہا جاتا ہے، ستاروں کی تشکیل سے مالا مال ایک مقام ہے۔ اسے’’ تخلیق کے ستون ‘‘(Pillars of Creation) کہا جاتا ہے۔
مریخ پر لہریں: ناسا نے مریخ کی سطح پر لہروں کی یہ تصویر کھینچی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مائع نہیں ہےبلکہ یہ لہریں ریت میں ہوا سے بنائے گئے نمونے ہیں۔
طلوع آفتاب کا نظارہ: خلاباز تھامس پیسکیٹ نے بحر ہند کے اوپر طلوع آفتاب کی یہ تصویر انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے لی ہے۔ آئی ایس ایس پر روزانہ ۱۶؍ مرتبہ طلوع آفتاب دیکھا جاتا ہے۔
دو بر اعظم: یورپ اور افریقہ کے شہروں کی چمک خلا سے باہر کچھ اس طرح دکھائی دیتی ہے۔ اگر آپ قریب سے دیکھیں تو آپ کو شہر کی گلیاں اور اس کی روشنیاں بھی نظر آئیں گی۔
لگون نیبولا: ستاروں کی یہ تشکیل تقریباً ۴؍ ہزارنوری سال کے فاصلے پر، لگون نیبولا (lagoonnebula) کے نام سےمشہور ہے۔ یہ دھول کے بادل کا مجموعہ ہے۔
مکی ماؤس: یہ عطارد پر گڑھوں کی ایک تصویر ہے جو ڈزنی کے شو’’ مکی ماؤس‘‘ کی طرح نظر آتی ہے۔ یہ تصویر ناسا کے میسنجر پروب نے ۲۰۱۲ءمیں لی تھی۔
کئی چاند ایک ساتھ:۲۰۱۱ءمیں کیسینی (ایک خلائی جہاز) نے زحل کے پانچ چاند کو ایک ہی فریم میں قید کیا تھا۔ بائیں سے دائیں: جینس، پنڈورا، اینسیلاڈس، میمس اور ریا۔