زمانۂ قدیم کے۷؍ عظیم تعمیراتی شاہکاروں کو ۷؍عجائبات عالم کہا جاتا ہے۔ عجائبات کی یہ فہرست۳۰۵؍ سے ۲۰۴؍قبل مسیح کے دوران ترتیب دی گئی۔ تاہم، مذکورہ فہرست زمانے کی دست برد کی نظر ہو گئی۔ ان۷؍ عجائبات کا ذکر ۱۴۰؍قبل مسیح کی ایک نظم میں بھی ملتا ہے۔بہت سے افراد کو قرون وسطیٰ اور جدید دور کے عجائبات عالم کا علم تو ہے مگر قدیم زمانے کے ان ۷؍ عجائبات کا علم کم کم ہے۔ جانئے ان عجائبات کے بارے میں۔ تمام تصاویر: یوٹیوب،آئی این این
اہرام مصر،مصر، (Great Pyramid of Giza): جیزا کاعظیم اہرام ۲۵۷۰؍قبل مسیح میں بنایا گیا تھا۔ مذکورہ تمام عجائبات میں صرف یہی اب تک موجود ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسے مکمل کرنے میں۲۰؍ سال کا عرصہ اور ایک لاکھ کارکنوں کی مدد لگی تھی۔ اسے ایک کمپلیکس کے حصے کے طور پر بنایا گیا تھا۔
زیوس کا مجسمہ،یونان، (Statue of Zeus): اولمپیا میں زیوس کا مجسمہ۴۳۰؍ قبل مسیح میں بنایا گیا تھا جو ۴۲۶؍ قبل مسیح میں آتشزدگی کی وجہ سے تباہ ہوگیا تھا۔ مجسمہ ساز فیڈیاس نے اسے بنایا تھا۔ بہت سے مورخین کا خیال ہے کہ مجسمے کو قسطنطنیہ منتقل کیا گیا تھا اور تقریباً ۵۰؍سال بعد اسے تباہ کر دیا گیا۔
ریوڈس کا مجسمہ،یونان،(Colossus of Rhodes): اسے ۲۸۲؍قبل مسیح میں بنایا گیا تھا جو ۲۲۶؍ قبل مسیح میں زلزلے سے تباہ ہو گیا تھا۔ یہ مجسمہ ۶۵۴ء تک زمین پر پڑا رہا۔ لوگ دور دراز سے سفر کرکےاس عظیم مجسمے کو دیکھنے آتے تھے۔ اسے کانسہ،لوہا اور دیگر پتھروں سے ملا کر مضبوطی کے ساتھ بنایا گیا تھا۔
اسکندریہ کا روشن مینار،مصر،(Lighthouse of Alexandria): ۲۸۰؍قبل مسیح میں بنایا گیا یہ روشن مینار کئی صدیوں تک زمین کی سب سے بلند ترین عمارت رہی۔ کہا جاتا ہے کہ بحری جہاز ۳۵؍میل تک اس کی روشنی دیکھ سکتے تھے۔ اس کے تباہی کی اہم وجہ ۳۲۰ء تا ۱۳۲۳ء کے درمیان۲۲؍ زلزلوں کو سمجھا جاتا ہے۔
ہینگنگ گارڈنس آف بیبلون،عراق،(Hanging Gardens of Babylon): اس باغ کو ۶۰۰؍ قبل مسیح میں بنایا گیا تھاجو ۲۲۶ء؍ قبل مسیح میں زلزلے سے تباہ ہوگیا تھا۔ اس کے متعلق دلچسپ بات یہ ہے کہ بیشتر مورخین اسے کے وجود کا انکار کرتے ہیں جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اسے ادشاہ نبوچادریزر دوم نے اپنی بیوی کیلئے بنائے تھے کیونکہ وہ اپنے گھر کے باغات کو یاد کرتی تھیں۔
آرٹیمس کا مندر،ترکی،(Temple of Artemis): اسے ۵۵۰؍قبل مسیح میں بنایا گیا تھا جو۳۵۶؍ قبل مسیح میں آتشزدگی کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا۔بعد میں یہ تباہی اور تعمیر نو کے کئی مراحل سے گزرا۔ در اصل یہ مندر آرٹیمس( شکار کی یونانی دیوی) کو منانے کیلئے تعمیر کیا گیا تھا جو بعد میں ایک معبد بن گیا۔ اس کے چند باقیات برٹش میوزیم میں موجود ہیں۔
ہالی کارناسس کا مقبرہ،ترکی،(Mausoleum at Halicarnassus): اسے ۳۵۲؍قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا تھاجو ۱۴۰۴ءمیں زلزلے سے تباہ ہو گیا تھا۔ اس یادگار کو سلطنت فارس کے ایک گورنر موسولس اوراس کی بیوی اور بہن آرٹیمیسیا دوم کیلئے بنایا گیا تھا۔یہ مقبرہ تقریباً ۴۱؍میٹر (۱۳۵؍ فٹ) اونچا تھا۔اس کے باقیات آج بھی برٹش میوزیم میں موجود ہیں۔