پریس کلب آف انڈیا میں پروگرام، تنویرجعفری اور نسرین جعفری نے بتایاکہ وہ ان برسوں میں کن حالات سے گزرے۔
EPAPER
Updated: February 28, 2025, 11:55 AM IST | Fazeel Ahmed | New Delhi
پریس کلب آف انڈیا میں پروگرام، تنویرجعفری اور نسرین جعفری نے بتایاکہ وہ ان برسوں میں کن حالات سے گزرے۔
گجرات فساد کی ۲۳؍ ویں برسی کے موقع پر جمعرات کو پریس کلب آف انڈیا میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں سابق ممبر پارلیمنٹ مرحوم احسان جعفری کی اہلیہ مرحومہ ذکیہ جعفری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی عدلیہ میں گئی جدو جہد کو یاد کیا گیا اور انصاف کی فراہمی میں حکومت اور عدلیہ کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ۔ ایسوسی ایشن فار پرو ٹیکشن آف سول رائٹس(اے پی سی آر)کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں احسان جعفری اور ذکیہ جعفری کے فرزند تنویر جعفری اور بیٹی نسرین جعفری نے۲۸؍فروری ۲۰۰۲ء کو ہونے والے دردناک واقعہ کا ذکر کیا اور اپنی والدہ کی جانب سے انصاف کی فراہمی کیلئے کی جانے والی جدو جہد پر تفصیلی سے روشنی ڈالی۔تنویر جعفری نے بتایا ’’ گجرات فسادات کے دوران گلبرگ سوسائٹی جہاں میرے والدین مقیم تھے ، میں اس وقت سورت میں رہتا تھا۔فسادیوںنے۲۸؍ فروری کی صبح سوسائٹی کو گھیر لیا،اس وقت ان کی ہاتھوں میں ہتھیار تھے، جب میرے والد کو معلوم ہوا کہ باہر یہ سب ہورہا ہے تو انہوں نے پولیس کمشنر کو فون کرکے تحفظ کا مطالبہ کیا، جس کے بعد پولیس کی ٹیم آگئی انہوں نے لوگوں کو سمجھایا اور ابا کو یقین دلایا کہ ہم نے سوسائٹی کے باہر پولیس کی ٹیم تعینات کردی ہے،لیکن اچانک پولیس کی ٹیم وہاں سے ہٹ گئی اور فسادیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا،تو بھیڑ نے سوسائٹی پر حملہ کرکے جلا دیا اور سب کو شہید کردیا گیا جس میں میرے ابا بھی تھے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ ہمارے پڑوسی امتیاز پٹھان سمیت دیگر لوگ جو زندہ بچ گئے تھے، انہوں نے یہ دردناک واقعہ مجھے بتایا تھا کہ جب فسادیوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے بعد پولیس کو فون کیا گیا تو وہاں سے منفی جواب ملا کہ ’’ تم لوگ ابھی تک زندہ ہو۔‘‘یہ سن کر لوگوں نے امید چھوڑ دی،پھر لوگوں نے فسادیوں سے باہرآکر بات کی کہ آخر کیا چاہتے ہو؟ تو وہ میرے ابا کو کھینچ کر لے گئے اور ان کا قتل کردیا۔اس دن جو لوگ بچ گئے انہیں ایک کھلے میدان میں چھوڑ دیا گیا، اس میں میری امی ذکیہ جعفری بھی شامل تھیں اور وہ پھر اپنے رشتہ داروں کے یہاں چلی گئیں ، اس وقت انہیں نہیں معلوم تھا کہ ابا کا قتل ہوگیا ہے۔وہ یہی سوچ رہی تھیں کہ جعفری صاحب بھی ایک یا دو دن میں آجائیں گے۔جب انہیں حقیقت معلوم ہوئی تھی تو انہوں نے اس ظلم کے خلاف عدلیہ کا دروزاہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا تو معلوم ہوا یہ ایک سازش تھی جس میں ریاستی حکومت کا بڑا ہاتھ تھا اور وزیر اعلیٰ بھی اس میں شامل تھے۔
نسرین جعفری نے ویڈیو پیغام کے ذریعے نم آنکھوں سے کہا ’’ میری امی انتظار کرتی تھیں کہ کہیں سے ابا آجائیں،۲۳؍ سال میں ان کی ہنسی میں ایک درد پوشیدہ تھا۔امی کا کہنا تھا کہ گھر کو لوٹ لیتے لیکن گھر جلاکر قتل عام کرنے کی کیا ضرورت تھی، میری امی کے ساتھ اس دن بہت سے عورتیں بیوہ ہوگئیں، کسی ماں نے اپنا بیٹا کھویا تو کسی نے اپنا بھائی کھویا۔میری امی کہتی تھیں کہ میں کبھی تمہارے ابا کے رہتے ہوئے کورٹ نہیں گئی لیکن ان کی غیر موجودگی میں کورٹ کے چکر کاٹنے لگی۔
اس موقع پر منعقدہ مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے پلاننگ کمیشن کی سابق ممبر ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید نے کہا کہ ذکیہ جعفری کی انصاف کی لڑائی میں اب میںخود کو بھی شامل کررہی ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب جج ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں تو بہت اچھی باتیں کرتے ہیں ، جب گدی پر ہوتے ہیں تو انہیں کیا ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت جو مظالم مسلمانوں پر ہورہے ہیں وہ کسی کے ساتھ بھی ہوسکتے ہیں ، اس لیے اس کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے۔سینئر صحافی بھاشا سنگھ نے کہا کہ ذکیہ جعفری کے دونوں بچوں کو سننے کے بعد یہ لگتا ہے میں اور یہاں پر موجود لوگ شرمندہ ہیں کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں۔سپریم کورٹ نے ذکیہ جعفری کا معاملہ خارج کرکے یہ پیغام دیا کہ ہندوستان میں آپ کو لمبے وقت تک انصاف نہیں مل سکتا ۔انہوں کہاکہ ۲۰۰۴ء سے۲۰۱۴ء تک جو حکمراں رہے انہوں نے بھی اس لڑائی میں ساتھ نہیں دیا ،اس کی وجہ سےفسادکے ملزم آج ملک کے حکمران بن کر بیٹھے ہیں۔ اس پروگرام سےسماجی کارکن جون دیال نے بھی خطاب کیا اور ملک کے حالات پر تشویش ظاہر کی۔