Inquilab Logo Happiest Places to Work

۶؍صنعتی شعبے جو امریکی ٹیرف سے زیادہ متاثر ہوں گے

Updated: April 03, 2025, 11:02 AM IST | New Delhi

ہندوستان نے امریکی اشیا پر زیادہ ٹیرف عائدکیا ہے جتنا کہ امریکہ نے ہندوستانی اشیا پر۔ ہندوستان بھی امریکی محصولات کا بڑا ہدف ہے۔

US President Donald Trump is reluctant to impose retaliatory tariffs. Photo: INN.
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جوابی محصولات عائد کرنے کیلئے بضد۔ تصویر: آئی این این۔

:۲؍ اپریل کے بعد سے ہی امریکہ کی طرف سے اعلان کردہ محصولات کا خطرہ ہندوستانی بازار پر منڈلا رہا ہے۔ اگر امریکہ ہندوستان پر جوابی محصولات کا اعلان کرتا ہے تو ہندوستان کے بڑے برآمدی شعبوں اور اسٹاک مارکیٹ میں ہنگامہ آرائی ہوسکتی ہے۔ اگر ٹرمپ توقع سے کم ٹیرف کا اعلان کرتے ہیں تو فارما اور آئی ٹی سمیت برآمدات سے متعلقہ شعبوں سے منسلک اسٹاک مضبوط ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہم آنے والے وقت میں سینسیکس اور نفٹی میں اضافہ دیکھ سکتے ہیں۔ دوسری طرف، مزید سخت ٹیرف کا نفاذ بھی مارکیٹ کو سست کر سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان نے تاریخی طور پر امریکی اشیا پر زیادہ ٹیرف عائد کئے ہیں جتنا کہ امریکہ نے ہندوستانی اشیا پر لگایا ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ ہندوستان بھی امریکی محصولات کا بڑا ہدف ہے۔ امریکہ کے جوابی محصولات کا ملک کی فارما، آٹوموبائل، زراعت اور ٹیکسٹائل کی صنعتوں پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔ اس سے اربوں کی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔ 
زرعی شعبہ 
تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو (جی ٹی آر آئی) کے تجزیہ کے مطابق زرعی شعبے میں امریکی انتقامی محصولات مچھلی، گوشت اور پروسیس شدہ سمندری غذا کی برآمدات پر سب سے زیادہ اثر ڈالیں گے۔ ۲۰۲۴ء میں ان کی برآمدات ۲ء۵۸؍بلین ڈالر تھیں۔ اب حالیہ پیش رفت کے درمیان اس سیکٹر پر ٹیرف کا بوجھ بڑھ کر ۲۷ء۸۳؍ فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ٹیرف کے نفاذ کے بعد امریکہ کو جھینگے کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ امریکہ کو ہندوستان کی کل جھینگا برآمدات میں ہمارا حصہ ۴۰؍ فیصد ہے۔ ملک کی پروسیس شدہ خوراک، چینی اور کوکو کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں کیونکہ ان مصنوعات کیلئے ٹیرف کا فرق۲۴ء۹۹؍ فیصد ہے۔ گزشتہ سال ان کی برآمدات۱ء۰۳؍ بلین امریکی ڈالر کی تھیں۔ اسی طرح اناج، سبزیوں، پھلوں اور مسالوں کے درمیان ٹیرف کا فرق ۵ء۷۲؍ فیصد ہے۔ 
الیکٹرانکس 
ہندوستان نےمالی سال ۲۴ء میں امریکہ کو کل۱۱ء۱؍بلین ڈالرس مالیت کی الیکٹرانکس مصنوعات برآمد کیں۔ یہ ہندوستان سے امریکہ کو ہونے والی کل برآمدات کا۱۴؍ فیصد تھا۔ اسی دوران ہندوستان کی الیکٹرانکس برآمدات میں امریکہ کا حصہ تقریباً۳۲؍ فیصد ہے۔ الیکٹرانکس مصنوعات کے معاملے میں   ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ٹیرف کا فرق تقریباً۹؍فیصدہے۔ ایسے میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر امریکہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے ہندوستان پر۹؍ فیصد اضافی ٹیرف لگاتا ہے تو اس کا ملک کی الیکٹرانکس انڈسٹری پر وسیع اور منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ 
جواہرات اور زیورات
امریکی محصولات کے اعلان کے بعد جواہرات اور زیورات کا شعبہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ہندوستان جواہرات اور زیورات کا ایک سرکردہ برآمد کنندہ ہے، جو اس وقت ٹیرف کے خطرات کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ ہندوستان کی کل ۳۳؍ بلین ڈالر کے جواہرات اور زیورات کی برآمدات کا ۳۰؍ فیصد(۹ء۹؍ بلین ڈالر) امریکہ کا ہے۔ اس میں کٹے ہوئے اور پالش کئے ہیرے، سونے سے جڑے زیورات اور لیباریٹری سے بنائے گئے ہیرے شامل ہیں۔ اگر ہندوستانی برآمدات پر بھاری محصولات عائد کئے جاتے ہیں تو ہندوستانی صنعتکار سنگاپور، متحدہ عرب امارات یا عمان میں اپنا سامان فروخت کرنے کے طریقے بھی تلاش کرسکتے ہیں۔ 
جنرک ادویات 
ہندوستان امریکہ کی جنرک ادویات کی درآمدات کا ۴۷؍فیصد سپلائی کرتا ہے۔ ہماری ادویات امریکہ کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں ایک اہم شراکت دار ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہندوستان کی جنرک ادویات کم قیمت کی وجہ سے امریکہ میں اچھی فروخت ہوتی ہیں۔  نومورا نے ایک رپورٹ میں کہا کہ ۲؍ اپریل کو، امریکہ ہندوستان پر محصولات عائد کر سکتا ہے لیکن دواسازی کے محصولات پر کسی بھی اعلان کا امکان نہیں ہے۔ نومورا کے مطابق موجودہ حالات کے پیش نظر ۱۰؍فیصد سے کم ٹیرف کا ہندوستانی فارما کمپنیوں کے اسٹاک پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ لیکن ۱۰؍فیصد سے زیادہ کا ٹیرف ممکنہ طور پر فارما اسٹاکس کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ زیادہ تر فارما کمپنیوں کا خیال ہے کہ انتقامی محصولات صرف امریکی خریداروں پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ 
آٹوموبائل اور آٹو کل پرزے
امریکہ ہندوستان کی گاڑیوں کی برآمدات کیلئے ایک اہم منزل نہیں ہے۔ لہٰذا، ہندوستان کی آٹو انڈسٹری پر جوابی ٹیرف کا اثر محدود ہو سکتا ہے۔ تاہم اس طرح کے کسی بھی ٹیرف سے آٹو کمپوننٹ مینوفیکچررس کو نقصان پہنچے گا۔ مالی سال ۲۴ء میں امریکہ کو ہندوستان کی آٹو کمپوننٹ کی برآمدات کل برآمدات کا۲۷؍فیصدتھیں۔ امریکہ کو برآمد کرنے والی بڑی کمپنیاں جیسے سونا کومسٹار (شمالی امریکہ سے۴۳؍فیصد ریونیو) اور سموردھنا مدرسن (امریکہ سے۱۸؍ ریونیو) ٹرمپ کے جوابی ٹیرف کا اثر دیکھ سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ میں مینوفیکچرنگ بیس نہ ہونے کی وجہ سے جے ایل آر گاڑیاں بھی ٹیرف کے تابع ہوں گی، جس سے کمپنی کے منافع پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انجن، ٹرانسمیشن اور پاور ٹرین جیسے اہم اجزاء پر ٹیرف سپلائی چین میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ 
ٹیکسٹائل اور ملبوسات
مالی سال ۲۴ء میں کل۹ء۶؍ بلین ڈالرس مالیت کے کپڑے اور ٹیکسٹائل امریکہ کو برآمد کئے گئے۔ یہ ہندوستان کی کل برآمدات کا۲۸؍فیصد ہے۔ امریکہ کے جوابی ٹیرف کی وجہ سے ہندوستان کو بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک سے مقابلے کا سامنا ہے کیونکہ اگر ہندوستانی مصنوعات زیادہ ٹیرف کی وجہ سے مہنگی ہوجاتی ہیں تو متذکرہ ممالک کو اس کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایک وسیع شعبہ جاتی سطح پر باہمی محصولات عائد کئے جاتے ہیں تو ہندوستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK