بس سے اترتے ہی سجدہ شکرادا کیا۔ برسوں قید و بند کی مشقت واذیت جھیلنے والے جب اپنوں کے درمیان پہنچے تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا،مائیں اپنے جگرکے ٹکڑوںکو گلے لگاکر فرط جذبات سے روپڑیں،خان یونس نعرہ تکبیر اور نعرہ تحسین سے گونج اٹھا۔
EPAPER
Updated: February 28, 2025, 1:31 PM IST | Agency | Tel Aviv
بس سے اترتے ہی سجدہ شکرادا کیا۔ برسوں قید و بند کی مشقت واذیت جھیلنے والے جب اپنوں کے درمیان پہنچے تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا،مائیں اپنے جگرکے ٹکڑوںکو گلے لگاکر فرط جذبات سے روپڑیں،خان یونس نعرہ تکبیر اور نعرہ تحسین سے گونج اٹھا۔
اسرائیل اور حماس میں قیدیوں کے تبادلے پر ایک ہفتے سے جاری ڈیڈ لاک ختم ہوگیا۔ الجزیرہ کے مطابق حماس کی جانب سے۴؍ اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کردی گئیں، بدلے میں اسرائیل کی جیلوں میں قید۴۵۶؍ فلسطینیوں کو رہا کر دیا گیا جو غزہ کے یورپی اسپتال پہنچ گئے ہیں، ۹۷؍ فلسطینی قیدیوں کو مصر جلا وطن کیا گیا ہے، اسرائیل نے مجموعی طور پر۶۴۲؍ فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔
۹۷؍ فلسطینی قیدیوں کو مصر جلاوطن کردیا گیا
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے فلسطینی شہریوں کے پہنچنے پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، رہا ہونے والے درجنوں فلسطینی قیدی عمر قید اور طویل سزائیں کاٹ رہے تھے، جو اپنے اہل خانہ سے دوبارہ مل رہے ہیں۔ مائیں اپنے جگرکے ٹکڑوں کو گلے لگاکر فرط مسرت سے روپڑیں۔ خیال رہے کہ اسرائیل نے۹۷؍ فلسطینیوں کو مصر جلاوطن کر دیا۔ اس سے قبل حماس نے ریڈ کراس کے ذریعے 4 قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کی تھیں، اسرائیل نے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں شناخت کرنے کے بعد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔
غزہ :اسرائیل نے جمعرات کی دیر رات جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی جیلوں سے ۶۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی سلسلے کے تحت فلسطینی قیدیوں کی پہلی کھیپ جب غزہ پہنچی تو بس میں سے اترنے والے اہل فلسطین نے سب سے پہلے اپنی سرزمین پر واپس پہنچنے پر سجدہ شکر ادا کیا۔ یہ جذباتی منظر وہاں موجود فوٹوگرافرس نے اپنے اپنے کیمروں میں قید کرلیا۔ تصویر: پی ٹی آئی
رہافلسطینی اپنے اہل خانہ سے فون پر بات کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
فلسطینی قیدیوں کے میڈیا آفس (اے ایس آر اے) نے خان یونس کے یورپی اسپتال کے نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ صالح الحمس کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ رہا ہونے والے۴۵۶؍ قیدی یورپی اسپتال پہنچے ہیں، اسپتال کا عملہ۲۴؍ بچوں اور۲؍بالغ قیدیوں کی آمد کی توقع کر رہا تھا لیکن اسرائیلی حکام نے ان کی رہائی میں تاخیر کی ہے۔ رہا کیے جانے والے قیدی انتہائی اذیت ناک حالت میں ہیں، ان میں سے کچھ مار پیٹ اور تشدد کی شدت کی وجہ سے چل بھی نہیں سکتے، زیادہ تر قیدی جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ رہائی پانے والے تمام قیدیوں کو خارش کی دوا دی گئی، قیدیوں کو سینے کے حصے پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک سابق قیدی ذیابیطس کی وجہ سے کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ اور دوسرا کٹے ہوئے پاؤں کے ساتھ اسپتال آیا تھا۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے اسرائیلی قیدیوں کی چاروں لاشوں کی شناخت کی تصدیق کی ہے۔ شلومو منصور، اتزک ایلگارات اور احد یہلومی کی شناخت کی تصدیق ہو چکی تھی، اسرائیل نے اب ساچی عدن کی باقیات کی شناخت کی ہے۔