اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کا شدید رد عمل ۔سنجے راؤت کا وزیراعلیٰ فرنویس کو دوٹوک جواب’’وقف بل اور ہندتوا میں کوئی تعلق ہی نہیں ہے، یہ آپ کی پارٹی کا بدامنی پھیلانے کا طریقہ ہے‘‘
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 11:30 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کا شدید رد عمل ۔سنجے راؤت کا وزیراعلیٰ فرنویس کو دوٹوک جواب’’وقف بل اور ہندتوا میں کوئی تعلق ہی نہیں ہے، یہ آپ کی پارٹی کا بدامنی پھیلانے کا طریقہ ہے‘‘
وقف ترمیمی بل کے خلاف اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے شدید رد عمل ظاہر کیاگیا اور اسے غیر آئینی اور وقف کی زمینیں مسلمانوں سے چھین کر انہیں وقف ترمیمی بل کی آڑ میں چہیتے صنعتکاروں اور بلڈروں کو دینے کی سازش بتائی جا رہی ہے۔اپوزیشن لیڈران نے کہا کہ مذکورہ بل کے تحت ہندو اور مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔
وقف ترمیمی بل غیرآئینی اورغریبوں کیلئے نقصاندہ : رئیس شیخ
بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کی جانب سے لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پیش کئے جانے کے بعد سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ کہا کہ آئین کا آرٹیکل۲۶؍ ہر کمیونٹی کو ان کے مذہبی اداروں کو چلانے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اور مذکورہ بل میں مسلمانوں سے مدکورہ حق کو چھینا جارہا ہے جو آئین کے آرٹیکل۲۶؍ کے تحت غیر آئینی ہے۔ رئیس شیخ نے مزید کہا بی جے پی اپنے لیڈروں کے ذریعہ یہ جھوٹ پھیلارہی ہے کہ وقف کے تحت کمیونٹی کو کسی بھی زمین پر قبضہ کرنے یا اسے وقف کے طور پر دعویٰ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ وقف بورڈ مسلم کمیونٹی کی کوئی نجی تنظیم نہیں ہے بلکہ وقف ایکٹ کے تحت قائم ایک قانونی ادارہ ہے۔ کسی جائیداد کو وقف قرار دینے کے عمل میں، ایک سرکاری سرویئر سروے کرتا ہے اور سرکاری طور پر اس جائیداد کا اعلان کرتا ہے۔ یہ خیال پیش کرنا سراسر غلط ہے کہ مسلمان من مانی طور پر کسی بھی جائیداد کو وقف قرار دے سکتے ہیں۔ رئیس شیخ نے مزید کہا کہ وہ حکومت کی طرف سے بنائی جا رہی غلط تصویر کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور حکومت نے کمیونٹی یا اپوزیشن کی طرف سے دی گئی تجاویز پر غور نہیں کیا۔ تمام وقف گورننگ بورڈز اور ٹرسٹوں کو وقف فریم ورک سے باہر نکالنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس سے نظام کمزور ہو گیا ہے۔
ہندو مسلمانوں میں تفریق بڑھانے کیلئے بل لایا گیا: اوہاڑ
این سی پی ( شرد پوار) کےلیڈر اقلیتی امور کے سابق وزیر ورکن اسمبلی جتیندر اوہاڑ نے ممبئی میں پارٹی آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں وقف ترمیمی بل پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے کہاکہ بی جے پی نے اس بل کو محض اس لئے لایا ہے تاکہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تفریق کو بڑھایا جائے جس میں الجھ کر لوگ مہنگائی ، بے روزگاری اورمہنگی تعلیم جیسے اہم موضوعات کو بھول کر اسی میں الجھ جائیں اور روپے کی قیمت ڈالرکے مقابلے میں کیوں گر رہی ہے؟ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کب کم کی جائیں گی؟ کسانوں کی خودکشی کا معاملہ کب روکا جائے گا؟ اور ملک کا غریب اور غریب کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ یہ سوالات نہ پوچھے جائیں۔ انہوںنے مزید کہاکہ’’کسی بھی مذہبی معاملات میں مداخلت کرنا آئین کے خلاف ہے۔ ’ایکٹ ٹو ریلیجن‘ ہمیں اپنے مذہبی اداروں اور ملکیت کا تحفظ کرنے کا حق دیتا ہے۔ وقف بورڈ آج سے نہیں بلکہ انگریزوں کے زمانے سے چلا آرہاہے ۔ وقف کا اصل مقصد عوام کی فلاح ہے ، حکومت اگر واقعی ان وقف کی املاک کا تحفظ کرنا چاہتی ہے تو ایسا قانون بنائے کہ ان املاک نجی استعمال نہیں ہو سکتا۔ یہ زمینیں حکومت کی دی ہوئی نہیں ہیں،یہ مسلمانوں کے بزرگو ں نے غریبوں کو مذہبی کام اور تعلیم کیلئے دی گئی زمینیں ہیں۔ اسکول، کالج ، اسپتال کے علاوہ اس زمین کااستعمال نہیں ہونا چاہئے۔ جب یہ مذہبی استعمال کیلئے دی تو پھر مذہب میں مداخلت کا اختیار سرکار کو نہیں۔ اگر مسلمانوں کی زمین پر حکومت قبضہ کرنا چاہتی ہے تو ہندو ، عیسائی اور دیگر مذہبی املاک کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے۔‘‘ اوہاڑ نے کہا کہ’’ جب مَیں مہاراشٹر کا اقلیتی امور کاوزیر تھا اس وقت مَیں نے اورنگ آباد کے ایک وقف کے معاملے میں تحریری ہدایت دی تھی کہ جو زمین ایک بار وقف کر دی گئی تو تا قیامت وقف ہی رہےگی۔وقف کی زمین پر اسکول، کالج، اسپتال بن سکتا ہے جس سے ہندو مسلمان دونوں استفادہ کر سکتے ہیں۔‘‘
وقف بورڈوں میں جو گھوٹالے پر قابو پانےکیلئے بل پیش کیاجارہا ہے: سنجے نروپم
جس وقت پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کیاگیا اسی وقت ممبئی کے اندھیری علاقے میں ایکناتھ شندے خیمے کے ترجمان سابق رکن پارلیمان سنجے نروپم نے بل کی حمایت میں پریس کانفرنس کی۔ انہوں کہاکہ وقف بورڈوں میں جو گھوٹالے ہو رہے ہیں ان پر قابو پانے، مولوی کی لوٹ مار کو روک کر غریب مسلمانوں تک وقف کی املاک کا فائدہ پہنچانے کیلئے یہ بل پیش کیا جا رہا ہے۔ مولویوں نے وقف کی کئی املاک کو فروخت کر دیا ہےاوراسے بچانے اور ان املاک کی نگرانی کرنے کیلئے وقف ترمیمی بل لایا گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں منظور ہو جائے گی۔ نروپم نے سچر کمیٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ’’ مسلمانوں کی فلاح کیلئے جس سچر کمیٹی کا حوالہ دیاجاتا ہے اس کمیٹی نے کہا تھا کہ وقف بورڈ کے پاس ہندوستان میں تقریباً ۹؍ لاکھ املاک ہے اور ۲؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ ایکڑ زمین ہیں، تاج محل، چار منار، جامع مسجد، لاکھوں کی تعداد میں درگاہ اور ہزاروں دکانیں، مدرسے اور مساجد ہیں۔ ان سے ہر سال وقف بورڈ کو تقریباً ۱۲؍ ہزار کروڑ روپے آمدنی ہو سکتی ہے اور وقف بورڈ کاکام ہے کہ کسی بیوہ کی مدد کرنا، غریب بچوں کو تعلیم دلانا لیکن ایسا نہیںکیاجاتا۔بدعنوان کی وجہ سے حالت یہ ہے کہ وقف بورڈ کے ملازمین کی تنخواہ دینے کیلئے سرکار سے امداد لینی پڑ رہی ہے۔ اس گھوٹالےپر روک لگانے کیلئےوقف ترمیمی بل لایا گیا ہے۔
وقف ترمیمی بل کی آڑ میں صنعتکاروں اور بلڈروں کو زمین دینے کی بی جے پی حکومت کی سازش: مہاراشٹرکانگریس صدر سپکال
مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وقف ترمیمی بل کی آڑ میں صنعتکاروں اور بلڈروں کو زمینیں دینے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت مذہبی نقطہ نظر سے وقف ترمیمی بل کو دیکھ رہی ہے اور اسے صنعتکاروں اور بلڈروں کے حوالے کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ براہ راست مسلمانوں کے مذہبی اور سماجی حقوق پر حملہ ہوگا، جس کی کانگریس شدید مخالفت کرے گی۔ کانگریس کے دفتر تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتےہوئے سپکال نے کہا کہ دھاراوی کی زمین پہلے ہی اڈانی کے حوالے کر دی گئی، شکتی پیٹھ مارگ کے نام پر کوکن کی زمین اڈانی اور امبانی کے ہاتھوں میں سونپی جا رہی ہے اور اب یہی کھیل وقف جائدادوں کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بی جے پی حکومت مسلمانوں کی زمینیں چھین کر اپنے سرمایہ دار دوستوں کو دینا چاہتی ہے؟