سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات کی بھی تیل کی پیدوار بڑھانے کی تردید

Updated: November 24, 2022, 11:21 AM IST | Agency | Dubai

وزیر توانائی سہیل المزروئی نے کہا’ ہم آج بھی اوپیک پلس کے اس فیصلے کے پابند ہیں جس کا مقصد تیل کی پیدوار اور بازار میں توازن رکھنا ہے‘‘

UAE Minister for Energy Sohail Mohammad Al Mazroui.Picture:INN
متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے توانائی سہیل محمد المزروئی۔ تصویر :آئی این این

 سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات نے بھی اس امرکی تردید کی ہے کہ وہ  اوپیک پلس کے معاہدے کے بر خلاف تیل کی پیداوار میں اضافے کا کوئی فیصلہ کرنے جا رہا ہے۔  یہ بات امارات کے وزیر برائے توانائی نے گزشتہ روز کہی ۔ وزیر توانائی سہیل محمد المزروئی نے کہا کہ ` یہ بات درست نہیں ہے کہ امارات کسی ایسی گفتگو  میں شریک ہے جس کا مقصد اوپیک اور اس کے دیگر  ساتھیوں کے فیصلے میں تبدیلی لانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپیک پلس کا تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ ۲۰۲۳ء  کے اواخر تک کیلئے ہے۔ امارات کے وزیر نے کہا ’’ ہم آج بھی اوپیک پلس کے اس فیصلے کے پابندی ہیں جس کا مقصد تیل کی پیداوار اور مارکیٹ کے درمیان توازن رکھنا ہے۔ سہیل محمد المزروئی نے کہا ’’ ہم اوپیک پلس کے اہداف پورے کرنے سے متعلق فیصلے   کے ساتھ ہیں۔ یاد رہے کہ اسی طرح کی تردید ایک روز قبل سعودی عرب کی جانب سے بھی آئی تھی۔سعودی کے  وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اس رپورٹ کی تردید کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب اس وقت اوپیک پلس کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ یومیہ ۵؍ لاکھ بیرل پیداوار میں اضافے کی گفتگو کر رہا ہے۔سعودی وزیر نے مزید کہا  تھا یہ معلوم ہے اور یہ کسی کیلئے راز نہیں ہے کہ اوپیک پلس اپنے اجلاس سے قبل کسی فیصلے پر بات نہیں کرتا۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اوپیک پلس کی طرف سے اس وقت کی یو میہ ۲۰؍ لاکھ بیرل کی کمی ۲۰۲۳ءکے آخر تک جاری رہے گی۔بلکہ انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو پیداوار میں مزید کمی کی جا سکتی ہے۔  یاد رہے کہ ان دونوں ممالک سے یہ سوال اس لئے پوچھا گیا تھا کہ `امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے پیر کولکھا تھا کہ اوپیک کے اگلے اجلاس میں تیل کی پیداوار میں ۵؍ لاکھ بیرل یومیہ اضافے پر غور کیا جائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK