Inquilab Logo Happiest Places to Work

اکھلیش یادو کا سوال’’عید کے موقع پر اتنی بیریکیڈنگ کیوں؟‘‘

Updated: April 02, 2025, 9:50 AM IST | Lucknow

سماجوادی سربراہ نے الزام عائد کیا کہ اترپردیش کی بی جے پی حکومت آئین پر چلنے کے بجائے آمرانہ رویہ اپنا رہی ہے۔

Samajwadi Party chief Akhilesh Yadav. Photo: INN
سماجوادی سربراہ اکھلیش یادو۔ تصویر: آئی این این

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے لکھنؤ کے عیش باغ عیدگاہ پہنچ کر لوگوں کو عید کی مبارکباد دی اور عید کیلئے بی جے پی حکومت کے ’انتظامات‘ پر اسے نشانہ بنایا۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے انہیں آدھے گھنٹے تک راستے میں روک کررکھا اور اس سے پہلے کبھی انہوں نے اتنی  بیریکیڈنگ نہیں دیکھی۔اکھلیش یادو نےاس معاملے کویوگی حکومت کی غیر جمہوری ذہنیت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ آخر اتنی بیریکیڈنگ کیوں ہے؟
سماجوادی سربراہ نےریاستی حکومت پر الزام لگایا کہ حکومت انہیں دوسرے مذہب کے پروگراموں میں شرکت کرنے دینا نہیں چاہتی ہے۔ عیش باغ عیدگاہ پہنچنے کیلئے انہیں آدھے گھنٹے تک راستے میںروک کر رکھاگیا اور ان کے قافلے کی صرف ایک گاڑی کو ہی گزرنے دیا گیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ نیتا جی (ملائم سنگھ یادو) انہیں پہلی بار یہاں لائے تھے۔ تب سے وہ یہاں باقاعدگی سے آ رہے ہیں مگر اس بار پولیس نے کافی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں۔انہوں نے کہا کہ جب پولیس افسران سے جگہ جگہ پر روکنے کی وجہ پوچھی تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکے۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ’’ آخر میں اسے کیا سمجھوں، کیا میں اسے آمریت سمجھوں، کیا اس کو ایمرجنسی سمجھوں؟ یہ بیریکیڈنگ اسلئے کی گئی کہ لوگ اپنا تہوار سکون سے نہ منا سکیں۔حکومت کا یہ رویہ ثابت کرتا ہے آج ملک اور آئین سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔‘‘ایس پی سربراہ نے کہا کہ ’’ہندوستان ایک بہت بڑا ملک ہے۔ یہاں تمام مذاہب کے لوگ صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت آئین کے بجائے آمرانہ رویہ اپنا رہی ہے اور موجودہ مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نےمزید کہا کہ بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، مہاتما گاندھی اور بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے آئین اور قانون کی حکمرانی کا خواب دیکھا تھا۔ بابا صاحب امبیڈکر نے آئین میں ایک نئے ہندوستان کا تصور کیا، سماجی انصافی کی ترغیب دی لیکن بی جےپی اور اس سے وابستہ تنظیمیں لگاتار بابا صاحب کے بنائے آئین کو چیلنج کررہی ہیں۔‘‘
اس موقع پر انہوں نے دیگر موضوعات پر بھی باتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جےپی حکومتیں آئوٹ سورس اور کنٹریکٹ کے راستے ریزرویشن نظام کو بھی ختم کرنے پر آمادہ ہیں،اس لئے یہ حکومتیں آئین کے مطابق کام نہیں کررہی ہیں۔ پی ڈی اے کے ساتھ بھید بھاؤ کیا جارہا ہے۔ پی ڈی اے کا حق چھینا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جےپی اور اس کی حکومت سے آئین اور جمہوریت کو خطرہ ہے۔ اس حکومت سےجمہوریت، آئین اور جمہوری تحریک کے اقدار کو بچانے کا سخت چیلنج ہے۔ بی جےپی کی پالیسیاں سماجی ہم آہنگی اور یکتا کیلئے خطرناک ہیں۔ بی جےپی حکومت آئینی اداروں کا اپنے ذیلی اداروں کی طرح استعمال کررہی ہے۔ آئینی اداروں کو کمزور کررہی ہے جبکہ ایس پی جمہوریت اور آزادی کے اقدار کو بچانے کی لڑائی لڑرہی ہے۔
گائے کے معاملے پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ان سے بہتر کون جان سکتا ہے؟ بی جے پی لیڈران بیل اور گائے کی صحیح گنتی بھی نہیں بتا پا رہے ہیں۔بدعنوانی پر حملہ کرتے ہوئے سماجوادی سربراہ نے کہا کہ اس حکومت میں گھوٹالے اور بدعنوانیاں اپنے عروج پر ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK