تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے امریکی منصوبے کا اعلان

Updated: November 25, 2021, 12:48 PM IST | Agency | Washington

اب واشنگٹن ’اسٹریٹجک ریزرو‘ یعنی دفاعی اعتبار سے محفوظ تیل کے ذخیرے سے۵۰؍ ملین بیرل تیل نکال کر مارکیٹ میں لائےگا

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 امریکہ نے تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اپنے منصوبے اعلان کیا ہے۔ اسی دوران وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوںمیں مزید کمی کیلئے  وہ ان تیل کمپنیوں پر نظر رکھیں گا جنہوں نے  ریکا رڈ منافع کما یا ہے ۔ 
  میڈیا رپورٹس کے مطابق  امریکہ صدر جو بائیڈن نے منگل کو حکم دیا ہے کہ امریکہ ’اسٹریٹجک ریزرو‘ یعنی دفاعی اعتبار سے محفوظ تیل کے ذخیرے سے۵۰؍ ملین (۵؍ کروڑ) بیرل تیل نکال کر مارکیٹ میں لائے۔ یہ قدم چین، ہندوستان اور برطانیہ سمیت دنیا میں ایندھن کی بڑے صارف ملکوں  سے رابطوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
   امریکی خبر رساں ایجنسی ’اسوسی ایٹیڈ پریس (اےپی) کے مطابق، اس اقدام کا مقصد نہ صرف ایندھن کی قیمتوں میں کمی لانا ہے،بلکہ امریکہ کے اندر تھینکس گیونگ اور موسم سرما کی تعطیلات کے دوران مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔ امریکن آٹو موبائل اسوسی ایشن کے مطابق، اس وقت ملک میں گیس کی اوسط قیمت۳ء۴۰؍ڈالر فی گیلن ہے جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں ۵۰؍فیصد زیادہ ہے۔
  اے پی کے مطابق حکومت آئندہ ماہ دسمبر کے آخر تک  ذخائر سے تیل مارکیٹ میں لے آئے گی لیکن اس اقدام سے گیس کی قیمتوں میں فوری کمی کے کم ہی امکانات ہیں ۔خاص طور پر جب لوگ تعطیلات میں سفر کر رہے ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی میں عام طور پر وقت لگتا ہے اور انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے کئے گئے متعدد اقدامات میں سے ایک ہے۔
   دوسری جانب حکومت کی طرف سے اپنے ذخیروں سے تیل نکال کر مارکیٹ میں لانے کے اعلان کا مارکیٹ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ تیل کی قیمتیں پورے مہینے اوپر نیچے ہوتی رہی ہیں اور اس تعطیل والے ہفتے کے دوران ان میں ایک فیصد سے کم شرح کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔
  اپنے منصوبے کے بارے میں وہائٹ ہاؤس نے بتایا کہ امریکہ کا محکمہ توانائی اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز سے دو طریقوں سے یہ تیل مارکیٹ میں لے آئے گا۔۳۲؍ ملین بیرل آئندہ چند ماہ میں ریلیز کیا جائے گا اور آنے والے برس میں ریزروز میں دوبارہ لایا جائے گا۔۱۸؍ ملین بیرل آئل کی ایک اور رسد بھی تیل کی مارکیٹ میں فروخت کی جائے گی جس کی کانگریس پہلے منظوری دے چکی ہے۔
  ا دھروہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے پیر کی شام کہا تھا کہ وہائٹ ہاؤس آئل کمپنیوں پر بھی نظر رکھے گا۔ان کے الفاظ میں: ’’ہم ان آئل کمپنیوں پر جنہوں نے ریکارڈ منافع کمایا ہے اور ہماری نظر میں قیمتیں بڑھانے کے عمل میں شریک رہےہیں، ان پر زور دیتے رہیں گے کہ تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں  لیکن مارکیٹ میں گیس کی قیمتیں کم نہیں ہو رہی ہیں، اس چیز کو سمجھنے کیلئے ماہر اقتصادیات ہونا ضروری نہیں ہے۔‘‘
  دوسر ی جانب امریکہ اور دیگر ملکوں کی طرف سے اقدامات خلیجی ممالک خاص طور پر سعودی عرب اور روس کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کیلئے بھی خطرہ سمجھے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ فی الوقت تیل کی سپلائی کو اس انداز میں کنٹرول رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ تیل کی قیمتیں زیادہ  ہی رہیں۔جیسے جیسے امریکہ اور دوسرے ملکوں کے ذخائر سے تیل نکالنے کی بات  سامنے  آرہی ہے، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی طرف سے انتباہ  دیا جارہا ہے کہ اس کے رکن ممالک آئندہ تیل کی سپلائی بڑھانے کے وعدہ پورا نہیں کرسکیں گے۔
 صدر جو بائیڈن کو اپنا اقتصادی ایجنڈا مہنگائی کے مسئلے کو پیش نظر رکھتے ہوئے دوبارہ ترتیب دینا پڑا ہے،اور ان کا کہنا ہے کہ حالیہ ایک ٹرلین ڈالر کا انفراسٹرکچر کا منصوبہ قیمتوں میں کمی لائے گا کیونکہ اس سے اشیا ءکی نقل و حمل پر آنے والی لاگت کم ہو جائے گی۔ واضح رہےکہ کو رونا کی عالمی وباء نے باقی شعبوں کی طرح انرجی سیکٹر پر بھی برا اثر ڈالا ہے۔ اپریل۲۰۲۰ء میں تیل کی طلب میں کمی کی وجہ سے تیل کی قیمت کم ہوگئی تھی لیکن جیسے ہی معاشی سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں، تیل کی قیمتیں اکتوبر میں گزشتہ ۷؍ سال کے عرصے کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئیںاور اب  تک ان میں کمی نہیں ہوئی  ہے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK