• Wed, 26 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوسی سی کیخلاف برادرانِ وطن کو متحد کرنے کی کوشش

Updated: February 26, 2025, 10:09 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

یکساں سوِل کوڈ کے علاوہ وقف ترمیمی بل، عبادتگاہ قانون ،ذات پر مبنی مردم شماری ، اقلیتوں، دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ طبقات کے دستوری مسائل پر بھی گفتگو۔

Dr. Vijay Jadhav speaking at the workshop of Muslim Personal Law Board. Powerful personalities can be seen on the stage. Photo: INN
مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ورکشا پ میں ڈاکٹر وجے جادھو خطاب کرتے ہوئے۔ اسٹیج پر مقتدر شخصیات دیکھی جاسکتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

تحریک برائے آئینی حقوق‘  کے عنوان سے منگل کو دادر میں واقع رویندر ناٹیہ مندر کے شاہو سبھا گرہ ہال میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیراہتمام ایک قابل قدر ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔اس میں دلت، آدیواسی ، بودھ اور عیسائی  سماج کی نمائندہ شخصیات نے حصہ لیا اور موجودہ حالات پر روشنی ڈالی۔ اس ورکشاپ کا مقصدوقف ترمیمی بل ، یونیفارم سول کوڈ کا  نفاذ، عبادتگاہ قانون کا اثر کم کرنے کی کوشش  اور دیگر مسائل پر  ملک کے دیگر طبقات اور مذہبی گروہوں کو بھی ساتھ لے کر مشترکہ جدو جہد کی جائے تاکہ ایک طرف جہاں اس جدوجہد کا وزن محسوس ہو وہیں دوسری طرف فرقہ پرست عناصر اسے  فرقہ وارانہ  رنگ نہ دے سکیں۔ اسکے علاوہ ان مسائل پر گفتگو کے لئے ایسے افراد تیار کئے جائیں جو دستوری حقوق کے حصول اور تحفظ کی تحریک آگے بڑھا سکیں۔
 یادرہے کہ اس ضمن میں گزشتہ دنوں ممبئی اور دہلی میںمسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داران نے بھارتیہ بہوجن الائنس کے ذمہ داروں کے ساتھ میٹنگیں کی تھیں۔اس میں طے پایا تھا کہ ملک کے ۴؍بڑے شہروں دہلی، ممبئی، کلکتہ اور بنگلور میں وقف ترمیمی بل، یوسی سی، عبادتگاہ قانون ، ذات پر مبنی مردم شماری، اقلیتوں، دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ طبقات کے دستوری مسائل پر یک روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا جائے ۔اسی  سلسلےکی یہ دوسری کڑی ہے ، پہلاورکشاپ دہلی میں منعقد کیا گیا تھاجو خاصا کامیاب رہا ۔
ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنا ضروری ہے 
 مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے ورکشاپ کا افتتاح کیا اور یہ پیغام دیا کہ ہم سب الگ الگ مسائل سے جوجھ رہے ہیں اور اس کے حل کیلئے الگ الگ کوششیں کررہے ہیں‌۔‌ان حالات میں بہتر ہے کہ مل جل کر جدوجہد کریں۔ مسلمانوں کو دلتوں، آدیواسیوں اور سکھوں کے مسائل سمجھنے ہوں گے اور آپ کو مسلمانوں کے مسائل سمجھ کرمشترکہ طور پرجدو جہد کرنی ہوگی تبھی کامیابی ممکن ہے ۔اسی صورت آئین کا تحفظ ہوگا اورہم اپنے آئینی حقوق حاصل کرسکیں گے۔
مسلمان خود کواقلیت کیوں سمجھتے ہیں؟
 بہوجن‌ وکاس آگھاڑی کے سربراہ ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر نے مسلمانوں سے سوال کیا کہ آپ خود کو اقلیت کیوں کہتے ہیں؟ آپ کیوں خوف کھاتے ہو؟ یہ آپ کی سب سے بڑی بھول ہے۔انہوں نے یو سی سی کے نفاذ کے تعلق سے کہا کہ یہ ذہن میں رکھئے جب تک آپ نہیں چاہیں گے یو سی سی لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں بھی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے سپریم کورٹ نے اسے روک دیا ہے۔ یہ آدیواسی، بودھ، سکھ اور عیسائی سبھی کا مسئلہ ہے مگر وہ خاموش ہیں۔ اسی طرح ہم یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ہم کسی ایسے موضوع کو مسلم نقطۂ نظر سے نہ دیکھیں اور نہ اسے اس انداز میں پیش کریںورنہ شاید ہم بی جے پی کو مزید ۵۰؍سال حکومت  کا موقع  دےدیں گے۔ آج تو صورتحال یہ ہے کہ معیشت بری طرح تباہ ہوگئی ہے، روپے کی قدر   گراوٹ کے آخری پائیدان پر ہے مگر میڈیا اس کو موضوع بنانے کو تیار نہیں۔‘‘پرکاش امبیڈکر نے مزید کہا کہ’’ ایسا لگتا ہے کہ کہیں ۲۰۲۶ءمیں پارلیمنٹ کے انتخابات نہ ہوجائیں۔اس لئے حالات پر باریکی سے نگاہ رکھئے۔کوشش یہ کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کو نمائندگی نہ ملے اور دلتوں وآدیواسیوں کو پنپنے نہ دیا جائے۔اس طرح کی ہر کوشش کو ہمیں ناکام بنانا ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK