Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ایک ریاست ،ایک یونیفارم‘ اسکیم کوختم کرنے کااعلان

Updated: April 03, 2025, 10:55 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

اسکیم سےمتعلق متعدد شکایتوں کے بعد حکومت نے دوبارہ ایس ایم سی کو یونیفارم تیار اور تقسیم کرنےکی ذمہ داری سونپی۔ تعلیمی تنظیم کے مطابق یہ اسکیم ایک اسکینڈل تھا

The One State One Uniform policy was announced last year by the then Education Minister Deepak Kishorkar.
ایک ریاست ایک یونیفارم پالیسی کا اعلان گزشتہ سال اس وقت کے وزیرتعلیم دیپک کیسرکرنے کیاتھا۔

ریاستی محکمہ تعلیم نے بدھ کو ایک سرکیولر کےذریعے ’ایک ریاست، ایک یونیفارم پالیسی ‘کو باقاعدہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔اب پہلے کے طرز پراسکول مینجمنٹ کمیٹی ( ایس ایم سی) یونیفارم تیار اور طلبہ میں تقسیم کرنے کی ذمہ داری ادا کرے گی ۔ ایک ریاست ایک یونیفارم اسکیم کی تکنیکی دشواریوں سے رواں تعلیمی سال میں متعدد اسکول کے طلبہ کو دوسرا یونیفارم اب تک نہیں مل سکاہے،ایسی بھی شکایتیں سامنے آئی ہیں ۔
 واضح رہےکہ سابق وزیر تعلیم دیپک کیسرکر کے دور میں مذکورہ اسکیم کا اعلان کیاگیاتھالیکن متعدد تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے اس پر باقاعدہ عمل نہیں ہوپارہاتھا جس کی وجہ سےاس اسکیم پر بڑے پیمانےپر ہونےوالی تنقیدوں کے بعد دسمبر ۲۰۲۴ء میں ریاستی حکومت نے اس اسکیم پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔ نئے فیصلہ میں حکومت نے یونیفارم کی سلائی اور تقسیم کیلئے مرکزی نظام کے بجائےایس ایم سی کو مقامی سطح پر اس عمل کی ذمہ داری سونپی تھی لیکن پالیسی کے تحت تجویز کردہ یونیفارم کے ڈیزائن اور رنگ کے امتزاج میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی مگر بدھ کو محکمہ تعلیم نے جو سرکیولر جاری کیاہے اس کے مطابق ایس ایم سی نہ صرف یونیفارم کی سلائی اور تقسیم کرے گی بلکہ اب اس کے رنگ اور ڈیزائن کے بارے میں بھی اسے فیصلہ کرنے کا اختیار دیاگیا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ یونیفارم کے تعلق سے گزشتہ کئی برسوں سے جاری عمل کو بحال کرنےکافیصلہ کیاگیاہے۔
 خیال رہےکہ سمرگ شکشا ابھیان کے تحت مرکزی اور ریاستی حکومتوںکے معرفت مشترکہ طورپر ریاست بھر کے سرکاری اسکولوںکے طلبہ کو مفت یونیفارم تقسیم کئے جاتے ہیں۔ اس کے نفاذ پر ایک بار پھر ایس ایم سی کے ذریعے عمل کرنےکافیصلہ کیاگیاہے۔ اس کیلئے بروقت فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔ ایس ایم سی کو یونیفارم کے رنگ اور ڈیزائن کا انتخاب کرنے کا اختیارحاصل ہوگا ۔ سرکیولر میںاس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہےکہ یونیفارم کا کپڑامعیاری ہو، طلبہ کےجلد کو نقصان نہ پہنچائے اور مکمل پالسٹر والا کپڑا نہ ہو۔مقامی تعلیمی افسران کو ہدایت دی گئی ہےکہ وہ تقسیم کئے جانے والے یونیفارم کامعائنہ کریں ،اگر غیر معیاری کپڑے سے یونیفارم تیارنہ کیاگیاہوتو ایس ایم سی سے جواب طلب کریں۔  
 ایک ریاست ایک یونیفارم پالیسی کا اعلان گزشتہ سال اس وقت کے وزیرتعلیم دیپک کیسرکرنے کیاتھا ۔ اسکیم کےتحت یونیفارم کے کپڑے، ڈیزائن ،رنگ اور سلائی وغیرہ کا پورا اختیار ریاستی حکومت کو تھا۔ تعلیمی ۲۵۔۲۰۲۴ءمیں اسے نافذکرنےکا فیصلہ کیاگیاتھالیکن پروجیکٹ میں آنے والی دشواریوں اور یونیفارم کی تقسیم میں ہونے والی تاخیر سے یہ اسکیم شروع سےمتنازع رہی ۔ یونیفارم کیلئے استعمال کئے گئے کپڑوں کے معیار ، سلائیوں ، رنگوںاور ڈیزائینوں اور یونیفارم کی سائز کی غلطیوں کی وجہ سے اسکیم کو بڑے پیمانےپر تنقید کا نشانہ بنایاگیا۔علاوہ ازیں طویل تاخیر کے بعد، جب یونیفارم اسکولوں تک پہنچا تو یونیفارم کے ناقص کوالٹی اور پھٹے ہوئے یونیفام کی بھی شکایتیں موصول ہوئیں۔اس کی وجہ سے دسمبر ۲۰۲۴ءمیں اسکیم پر نظرثانی کی گئی جس میں ایس ایم سی کو یونیفارم کی سلائی اور تقسیم کا انتظام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
 اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے ریاستی جنرل سیکریٹری ساجد نثارنے بتایاکہ ’’ ایک ریاست ایک یونیفارم اسکیم ایک اسکینڈل تھا۔ اس اسکیم کے ذریعے مبینہ طورپر ایک وزیر کے قریبی عزیز کو یونیفارم تیار کرنےکا ٹھیکہ دینے کی سازش رچی گئی تھی، ایسی بھی اطلاع سامنے آئی ہے ۔ علاوہ ازیں غیر معیاری کپڑے ،سلائی ،ڈیزائن ،رنگ اور سائز کے بارےمیں متعدد شکایتیں موصول ہورہی تھیں ۔ مطلوبہ تعداد میں یونیفارم نہ ملنے ، تاخیر سے یونیفارم ملنے اور اب تک متعدد اسکولوںمیں دوسرایونیفارم نہ پہنچنے کی شکایتیں سامنے آرہی تھیں ۔ ایسے میں حکومت نے اس اسکیم کو ختم کرنے کا اعلان کرکے اہم فیصلہ کیاہے جس کا ہم خیرمقدم کرتےہیں۔ مذکورہ بدعنوانی کی وجہ سے نئی حکومت میں ایکناتھ شندے کی سابقہ حکومت کے کئی وزیروںکو اپنے عہدوں سے ہاتھ دھونا پڑاہے ۔‘‘
 مہاراشٹرا اسکول پرنسپلز اسوسی ایشن کے سابق نائب صدر مہندرگنپولے اورمہاراشٹر اسٹیٹ پرائمری ٹیچرس اسوسی ایشن کے ریاستی صدر وجے کومبے نےبھی مذکورہ اسکیم کوختم کرنےکے فیصلہ کا خیرمقدم کیاہے۔ ’ایک ریاست ایک یونیفام ‘اسکیم کو ختم کرکے پرانے نظام کو بحال کرنے سے تاخیر اور خراب معیار کے یونیفارم جیسے مسائل ختم ہوجائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK