Inquilab Logo Happiest Places to Work
Ramzan 2025 Ramzan 2025

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں احتجاج کرنے پر پابندی میں یکم اپریل تک توسیع

Updated: March 26, 2025, 12:37 PM IST | Ankara

گورنر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی یکم اپریل کو رات۱۱؍ بجکر۵۹؍ منٹ تک جاری رہے گی،صحافیوں کی بھی گرفتار ی شروع۔

Scene of a protest against Imamoglu`s arrest in Turkey. Photo: INN
ترکی میں امام اوغلو کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا منظر۔ تصویر: آئی این این

ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے گورنر نے کہا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی قسم کے احتجاج پر پابندی میں یکم اپریل تک توسیع کر رہے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس حوالے سے گورنر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی یکم اپریل کو رات۱۱؍ بجکر۵۹؍ منٹ تک جاری رہے گی۔  استنبول اور مغربی شہر ازمیر میں بھی احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد ہے لیکن ۱۹؍ مارچ کو ملک کی اہم اپوزیشن جماعت کے  لیڈر کی گرفتاری اور اس کے بعد انہیں جیل بھیجنے پر ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: شب قدر کی عظمت انسانی فہم و ادراک سے ماورا ہے

اس سے ایک ہفتہ قبل ترکی کے وزیر داخلہ نے بتایا تھا کہ ترک حکام نے سوشل میڈیا پر ’اشتعال انگیز‘ مواد شیئر کرنے  پر ۳۷ ؍ افراد کو حراست میں لیا ہے اور استنبول کے میئر کی گرفتاری کے بعد مخالف آوازوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ استنبول کے میئر اورترکی کے صدررجب طیب اردگان کے حریف اکرام امام اوغلو کی  ڈگری گزشتہ ہفتے منسوخ کی گئی تھی جس کی وجہ سے وہ صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی دوڑ سے باہر ہوگئے تھے، بعد ازاں انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا اور عدالت نے بدعنوانی کے مقدمے میں انہیں باضابطہ گرفتار کروا دیا تھا۔ اس کے خلاف ترکی میں ا پوزیشن جماعتوں اور کارکنوںنے احتجاج شروع کردیا ہے۔ ملک کے  ۵۰؍ سے زائد  صوبوں میںاحتجاج کیا جارہا ہے۔  احتجاج پرصحافیوںکو بھی گرفتار کیاجارہا ہے۔ایک میڈیا یونین نے کہا کہ ترک حکام نے  استنبول کے میئر کی گرفتاری کیخلاف کریک ڈاؤن  کے تحت   متعدد صحافیوں کو ان کے گھروں سے گرفتار کر لیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK